24.2 C
New York
ستمبر 11, 2026
Regional News علاقائی خبریںTop News

مایاوتی نے بھتیجے آکاش آنند کو بی ایس پی سے پھر نکالا، خاندان کو پارٹی سے زیادہ ترجیح دینے کا الزام

لکھنو،10 ستمبر: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ اور اترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا دیتے ہوئے پارٹی سے باہر کر دیا ہے۔ مایاوتی نے آکاش آنند پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پارٹی اور بہوجن تحریک کے مفادات کے بجائے خاندان اور رشتے داری کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ مایاوتی کے اس فیصلے سے بی ایس پی کی اندرونی سیاست اور آئندہ قیادت کو لے کر ایک بار پھر بحث تیز ہوگئی ہے۔ 

مایاوتی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آکاش آنند پارٹی اور بہوجن تحریک کے مفاد کے معاملے میں ’’ڈبل مائنڈ‘‘ طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ جب کسی شخص کی ترجیح پارٹی اور تحریک کے بجائے رشتے ناطوں کی طرف زیادہ ہو تو وہ بی ایس پی اور بہوجن تحریک کے مفاد میں مؤثر طریقے سے کیسے کام کرسکتا ہے۔

آکاش آنند کو پارٹی سے مکمل طور پر الگ کیا گیا

مایاوتی کے تازہ فیصلے کے مطابق آکاش آنند کو نہ صرف پارٹی کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا گیا ہے بلکہ بی ایس پی سے بھی مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے۔ آکاش اس سے پہلے پارٹی کے قومی کنوینر کی اہم ذمہ داری سنبھال چکے تھے اور ایک وقت میں انہیں مایاوتی کے سیاسی جانشین کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے سیاسی مستقبل اور پارٹی میں کردار کو لے کر مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مایاوتی نے آکاش آنند کے خلاف سخت فیصلہ لیا ہو۔ اس سے قبل بھی انہیں پارٹی کی اہم ذمہ داریوں سے ہٹایا گیا تھا اور بعد میں دوبارہ سیاسی سرگرمیوں میں موقع دیا گیا۔ رواں ماہ 3 ستمبر کو بھی مایاوتی نے انہیں قومی کنوینر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور کہا تھا کہ آکاش ابھی بڑی سیاسی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر پختہ نہیں ہوئے ہیں۔

آکاش کے سسر اشوک سدھارتھ کا سیاست سے استعفیٰ

آکاش آنند کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے سسر اور بی ایس پی کے سینئر رہنما اشوک سدھارتھ نے سیاست سے مکمل طور پر ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کیا ہے۔

اشوک سدھارتھ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ سیاست اور سماجی زندگی سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مایاوتی کے تئیں اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہوجن مشن کے لیے انہوں نے طویل عرصے تک کام کیا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ وہ آکاش آنند کو گمراہ کر رہے ہیں یا پارٹی پر اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مایاوتی نے ایک روز قبل ہی کہا تھا کہ اگر اشوک سدھارتھ مکمل طور پر سیاست سے ریٹائر ہوجاتے ہیں تو آکاش آنند کو پارٹی میں دوبارہ آزادانہ طور پر کام کرنے اور ذمہ داری دینے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

مایاوتی نے اشوک سدھارتھ کی نیت پر بھی سوال اٹھائے

مایاوتی نے اشوک سدھارتھ کے سیاست سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کو دیر سے اٹھایا گیا لیکن درست قدم قرار دیا۔ تاہم انہوں نے ان کی نیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں بی ایس پی، بہوجن سماج اور بہوجن تحریک کے وسیع مفاد کی حقیقی فکر ہوتی تو انہیں اس سے پہلے ہی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے تھی۔

مایاوتی کا کہنا ہے کہ اشوک سدھارتھ کی سیاسی سرگرمیوں کا اثر آکاش آنند کے سیاسی کردار پر بھی پڑ رہا تھا، جس کے باعث پارٹی اور تحریک کے مفاد میں انہیں متعدد مرتبہ سخت فیصلے لینے پڑے۔

آکاش نے مایاوتی کی پوسٹ بھی ری پوسٹ نہیں کی

مایاوتی نے اپنے بیان میں ایک اور بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آکاش آنند نے ان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی پوسٹ کو بھی ری پوسٹ کرنا ضروری نہیں سمجھا، حالانکہ ماضی میں وہ ایسا کرتے رہے ہیں۔

مایاوتی نے اسے آکاش کے رویے میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر وہ پارٹی اور بہوجن تحریک کے مفاد کو ترجیح نہیں دے رہے تو پھر انہیں اہم ذمہ داری کیسے سونپی جاسکتی ہے۔

آکاش کے بھائی ایشان آنند کو اہم ذمہ داری

آکاش آنند کے سیاسی مستقبل پر سوالات کے درمیان مایاوتی نے ان کے چھوٹے بھائی ایشان آنند کو بھی پارٹی میں اہم ذمہ داری دی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایشان کی مایاوتی کے ساتھ پارٹی کی اہم میٹنگوں میں موجودگی نے سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایشان آنند کو بی ایس پی میں چیف سیکٹر انچارج کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ 15 ریاستوں میں پارٹی کے تنظیمی امور پر نظر رکھیں گے۔ اس پیش رفت کے بعد بی ایس پی کی آئندہ قیادت اور مایاوتی کے خاندان میں سیاسی کردار کو لے کر قیاس آرائیاں مزید تیز ہوگئی ہیں۔

2027 کے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بڑا فیصلہ

مایاوتی کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اترپردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی سیاسی تیاری شروع ہوچکی ہے۔ بی ایس پی گزشتہ کئی انتخابات میں اپنی سابقہ سیاسی طاقت برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ ایسے میں مایاوتی کے سامنے پارٹی تنظیم کو مضبوط کرنے، نوجوان قیادت تیار کرنے اور ووٹ بینک کو دوبارہ منظم کرنے کا بڑا چیلنج ہے۔

آکاش آنند کو ایک وقت میں نوجوانوں کو بی ایس پی سے جوڑنے اور پارٹی کی نئی قیادت کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن بار بار ان کے عہدے میں تبدیلی اور اب پارٹی سے اخراج نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ مایاوتی مستقبل میں پارٹی کی قیادت کس سمت لے جائیں گی۔

بی ایس پی میں قیادت کی نئی تصویر؟

آکاش آنند کی سیاسی حیثیت میں مسلسل تبدیلی اور ایشان آنند کو ملنے والی نئی ذمہ داری نے بی ایس پی میں قیادت کی جنگ یا تنظیمی تبدیلی کے امکانات پر بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایشان کو مایاوتی کا جانشین بنایا جارہا ہے۔ فی الحال واضح طور پر اتنا سامنے آیا ہے کہ پارٹی کی تنظیمی ذمہ داریوں میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور مایاوتی آئندہ انتخابات سے قبل پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

آکاش آنند کو پارٹی سے نکالنے کا تازہ فیصلہ بی ایس پی کی اندرونی سیاست میں ایک اہم موڑ سمجھا جارہا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آکاش آنند کا اگلا سیاسی قدم کیا ہوگا اور مایاوتی 2027 کے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی کی قیادت اور تنظیم کو کس نئی شکل میں سامنے لاتی ہیں۔

Related posts

ایس آئی او نے مہاراشٹر حکومت سے عدل و انصاف پر مبنی بجٹ کا مطالبہ کیا

Hamari Duniya News

جمعیة علماءہند کے اعلیٰ سطحی وفد کی ریزیڈنٹ ایڈیشنل کلکٹر سے ملاقات

Hamari Duniya News

ویژن 2026 کی جانب سے جامعہ نگر میں یتیم بچوں کے ساتھ خصوصی افطار

Hamari Duniya News