22.9 C
New York
اگست 11, 2026
National قومی خبریںTop News

مودی سرکار کیلئے دیپکے پھر بنیں گے مصیبت، گاؤں کے سرکاری اسکولوں کی حالت بدلنے کے لیے ملک گیر مہم، 15 اگست سے ’سوشل آڈٹ‘ کا اعلان

گاؤں کے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ملک گیر مہم، ابھجیت دیپکے کا اعلان

نئی دہلی، 11 اگست : کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھجیت دیپکے نے ملک بھر کے دیہی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ایک ملک گیر مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مہم 15 اگست سے شروع ہوگی، جس کے تحت گاؤں کے سرکاری اسکولوں میں دستیاب بنیادی سہولیات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر انہیں بہتر بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کی جائیں گی۔

ابھجیت دیپکے نے سرکاری اسکولوں کی حالت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئی پارلیمنٹ اور وزیراعظم کی رہائش گاہ جیسی بڑی تعمیرات ممکن ہیں تو دیہی علاقوں میں بچوں کے لیے بہتر اور جدید سرکاری اسکول کیوں نہیں بنائے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاؤں کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم اور بہتر بنیادی سہولیات حاصل کرنے کا مساوی حق ہے۔

15 اگست سے شروع ہوگی مہم

رپورٹس کے مطابق اس مہم کے تحت والدین اپنے گاؤں کے سرکاری اسکولوں میں دستیاب بنیادی سہولیات کا جائزہ لیں گے اور ان کی صورتحال کو سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔ مہم میں گاؤں کے سرپنچوں اور مقامی نمائندوں کو بھی اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کی جانب راغب کیا جائے گا۔

مہم کا ایک اہم حصہ سرکاری اسکولوں کا ’سوشل آڈٹ‘ ہوگا، جس کے ذریعے مقامی لوگ یہ دیکھ سکیں گے کہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کیا صورتحال ہے اور بچوں کو تعلیم کے لیے کس طرح کا ماحول میسر ہے۔

’سرپنچ چیلنج‘ کے ذریعے مقامی قیادت کو جوڑنے کی کوشش

مہم کے تحت گاؤں کے سربراہوں کو اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لیے متحرک کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ’سرپنچ چیلنج‘ کا تصور سامنے رکھا گیا ہے، جس کے ذریعے مقامی قیادت کو اپنے علاقے کے اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ترغیب دی جائے گی۔

CJP کی جانب سے والدین اور مقامی لوگوں کو بھی اسکولوں کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور متعلقہ حکام تک مسائل پہنچانے کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

دیہی بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے پر زور

ابھجیت دیپکے کے مطابق تعلیم کے شعبے میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان موجود فرق کو کم کرنا ضروری ہے۔ گاؤں کے سرکاری اسکول بڑی تعداد میں بچوں کے تعلیمی مستقبل کی بنیاد ہیں، اس لیے ان میں مناسب عمارت، صاف ستھرا ماحول، بنیادی سہولیات اور بہتر تعلیمی وسائل کی دستیابی انتہائی اہم ہے۔

اس مہم کے ذریعے مقامی برادری کو اسکولوں کے مسائل سے جوڑنے اور حکومت و انتظامیہ کے سامنے بنیادی سہولیات کی کمی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

’تعلیمی مسائل کو جڑ سے حل کرنا ہوگا‘

یہ اعلان CJP کی جانب سے تعلیم اور نوجوانوں سے متعلق مسائل کو جڑ سے اٹھانے کی مہم کے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تنظیم نے اس سے قبل امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل کو لے کر ملک گیر احتجاج کیا تھا۔ بعد ازاں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد تنظیم نے اپنے احتجاج کو ختم کرنے کا اعلان کیا، تاہم ابھجیت دیپکے نے واضح کیا تھا کہ اس کے بعد بھی تعلیم اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر جدوجہد جاری رہے گی۔

اب نئی مہم کا مرکز دیہی سرکاری اسکولوں کو بنایا گیا ہے۔ 15 اگست سے شروع ہونے والی اس مہم میں والدین، سرپنچوں اور مقامی شہریوں کی شرکت کے ذریعے اسکولوں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینے اور بہتری کے لیے عوامی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Related posts

جمعیۃ السنۃ التعلیمیۃ والخیریۃ، لکھنؤ کے زیر اہتمام کلیۃ الصدیقۃ الإسلامیۃ للبنات کی فارغات کو ردائے فضیلت اور معہد الفرقان لتحفیظ القرآن کے حفاظ کی دستار بندی کی باوقار تقریب اختتام پذیر

Hamari Duniya News

انڈومان اور نکوبار کے جزائر کو "آزاد ہند” سے موسوم کرنے کی وکالت

Hamari Duniya News

بھارت آئندہ دو تین دہائیوں میں 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائے گا: مکیش امبانی

Hamari Duniya News