نئی دہلی، 18 مارچ ۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 48 گھنٹوں میں ووٹنگ کے اصل اعدادوشمار شائع کرنے کے مطالبے پر غور کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نے عرضی گزاروں، ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سے کہا کہ وہ دس دنوں کے اندر الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے خیالات پیش کریں۔ کیس کی اگلی سماعت 28 جولائی کو ہوگی۔یہ عرضی مئی 2024 میں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران دائر کی گئی تھی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن لوک سبھا انتخابات 2024 کے ووٹنگ کے اعداد و شمار کو شائع کرنے میں تاخیر کر رہا ہے، جس سے ڈیٹا میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ موجودہ لوک سبھا انتخابات میں الیکشن کمیشن نے کئی دنوں کے بعد ڈیٹا شائع کیا۔ پہلے مرحلے کی پولنگ 19 اپریل کو ہوئی جس کے اعدادوشمار11 دن بعد شائع کیے گئے تھے۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ 26 اپریل کو ہوئی جس کے اعدادوشمار چار دن بعد شائع کیے گئے تھے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے دن دونوں مرحلوں کے ابتدائی اعدادوشمار اور حتمی اعدادوشمار کے درمیان 5 فیصد سے زیادہ کا فرق ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اصل اعداد و شمار جاری کرنے میں کئی دن کی تاخیر ووٹرز کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کو پولنگ کے فوراً بعد ووٹنگ کے اعداد و شمار شائع کرنے کی ہدایت کی جانی چاہیے۔
