لکھنؤ، 09 دسمبر (ایچ ڈی نیوز)۔
بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے ایک بار پھر مسلم دشمنی کی ساری حدیں پار کردی ہیں۔انہوں نے آج امروہہ کے ایم پی اور بی ایس پی کے قدآور رہنما کنوردانش علی کو پارٹی سے ہی نکال دیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ان کی کانگریس پارٹی کے تئیں بڑھتی قربت اور بی جے پی ایم پی کے ذریعہ پارلیمنٹ میں ان کے خلاف دیئے گئے بیان پر شدید احتجاج کرنا ہی ہن کیلئے مصیبت بن گیا ہے۔ حالانکہ پارٹی نے ان کو نکالنے کیلئے پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایک لیٹر ہفتہ کو قومی جنرل سکریٹری ستیش چندر مشرا نے جاری کیا گیاہے۔ لیٹر میں دانش علی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آپ کو کئی بار زبانی کہا گیا کہ آپ پارٹی کی پالیسیوں، نظریے اور نظم و ضبط کے خلاف کوئی بیان یا اقدام نہ کریں۔
دیوے گوڑا کی درخواست پر آپ کو امروہہ سے بی ایس پی امیدوار کے طور پر ٹکٹ دیا گیا۔ اس پر آپ نے کہا تھا کہ آپ ہمیشہ بی ایس پی کی تمام پالیسیوں اور ہدایات پر عمل کریں گے اور پارٹی کے مفاد میں کام کریں گے۔ اپنی یقین دہانیوں کو بھول کر آپ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس لیے آپ کو بی ایس پی سے فوری اثر سے معطل کر دیا گیا ہے۔
