نئی دہلی،16 اگست: جنتَر منتر پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر پیلیٹ گن کے استعمال کو لے کر اتر پردیش کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر یوگیندر اپادھیائے کے ایک بیان نے سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے۔ وزیر نے جنتَر منتر پر پیلیٹ گن چلانے کو جائز قرار دیتے ہوئے مظاہرین کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا۔
یوگیندر اپادھیائے نے کہا کہ جنتَر منتر پر احتجاج کے دوران ایسے لوگ موجود تھے جو وزیر اعظم کے لیے غیر مہذب اور قابل اعتراض الفاظ استعمال کر رہے تھے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں پیلیٹ گن کا استعمال درست تھا۔
وزیر کے اس بیان پر اپوزیشن اور مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانا یا احتجاج کرنا جمہوری حق ہے اور محض حکومت یا وزیر اعظم کے خلاف نعرے لگانے کی بنیاد پر نوجوانوں کے خلاف طاقت کا اس طرح استعمال قابل تشویش ہے۔
اپوزیشن نے بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ پہلے نوجوانوں کے احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا اور اب حکمراں جماعت کے رہنما اس کارروائی کو جائز قرار دینے میں مصروف ہیں۔
کانگریس کی جانب سے یوگیندر اپادھیائے کے بیان کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی اس بیان کو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ اختلافِ رائے کی آواز کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دے کر طاقت کے ذریعے دبانا کیا بی جے پی کی سیاست ہے۔
مبصرین کے مطابق اس بیان نے احتجاج کے جمہوری حق، پولیس کارروائی اور نوجوان مظاہرین کے ساتھ حکومتی رویے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی احتجاج میں مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کیے جانے کی صورت میں مظاہرین پر پیلیٹ گن چلانا واقعی مناسب کارروائی قرار دی جاسکتی ہے؟
