نئی دہلی، 17 اگست(ہماری دنیا نیوز)۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین نے پارٹی کی نئی قومی تنظیمی ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔ نئی ٹیم میں جہاں کئی تجربہ کار اور نوجوان رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، وہیں پارٹی نے مسلمانوں سمیت اقلیتی برادریوں کو بھی نمائندگی دے کر اپنی اعلیٰ تنظیمی قیادت میں سماجی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
بی جے پی کی نئی قومی ٹیم میں چھ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو مختلف عہدوں پر شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں نام پروفیسر طارق منصور کا ہے، جنہیں پارٹی کا قومی نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ پروفیسر طارق منصور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر رہ چکے ہیں اور اتر پردیش کی سیاست میں ایک معتبر مسلم چہرے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی تقرری کو بی جے پی کی قومی سطح کی تنظیم میں مسلم نمائندگی کے طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی قومی ٹیم میں مسلمان، جین اور پارسی برادریوں سمیت مختلف اقلیتی طبقات کے رہنماؤں کو جگہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 10 خواتین رہنماؤں کو بھی قومی عہدیدار بنایا گیا ہے، جس سے نئی ٹیم کو جغرافیائی اور سماجی اعتبار سے زیادہ متنوع بنانے کی کوشش نظر آتی ہے۔
نئی تنظیمی ٹیم میں سابق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو قومی جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے، جبکہ راجستھان کی سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا، رام مادھو، ڈی. پرندیشوری اور پروفیسر طارق منصور سمیت 13 رہنماؤں کو قومی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ پارٹی نے مجموعی طور پر 13 قومی نائب صدور اور 8 قومی جنرل سکریٹریوں کا اعلان کیا ہے۔
بی ایل سنتوش قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) کے عہدے پر برقرار رہیں گے، جبکہ مرکزی وزیر پیوش گوئل کو پارٹی کا قومی خزانچی مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ اقلیتی مورچہ کی ذمہ داری جمال صدیقی کی جگہ کنور باسط علی کو سونپی گئی ہے۔ تنظیمی سطح پرآئی ٹی اور سوشل میڈیا شعبوں میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ آئندہ انتخابی مرحلے سے قبل پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نتن نوین کی نئی ٹیم میں تجربہ، نوجوان قیادت، خواتین اور اقلیتی برادریوں کی نمائندگی کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خاص طور پر پروفیسر طارق منصور کو قومی نائب صدر بنائے جانے کو اتر پردیش سمیت ملک کے مسلم طبقے میں بی جے پی کی سیاسی اور تنظیمی موجودگی کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
نئی ٹیم کے اعلان کے ساتھ بی جے پی نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پارٹی کی قومی تنظیم میں مختلف ریاستوں، طبقات اور برادریوں کو نمائندگی دی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تنظیمی سطح پر ایک متوازن اور وسیع ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
