21.8 C
New York
اکتوبر 2, 2026
National قومی خبریںTop News

یوپی کانگریس میں بڑی تنظیمی تبدیلی، آرادھنا مشرا ’مونا‘ نئی ریاستی صدر مقرر، عمران مسعود کو ورکنگ پریزیڈنٹ کی ذمہ داری

یوپی کانگریس میں

نئی دہلی، 2 اکتوبر (ہماری دنیا نیوز): اترپردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس نے ریاستی تنظیم میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے آرادھنا مشرا ’مونا‘ کو اترپردیش کانگریس کمیٹی کا نیا صدر مقررکردیا ہے۔ پارٹی نے موجودہ ریاستی صدر اجے رائے کی جگہ آرادھنا مشرا کو ذمہ داری سونپی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سہارنپور سے لوک سبھا رکن عمران مسعود کو اترپردیش کانگریس کا ورکنگ پریزیڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔

کانگریس نے ریاستی تنظیم میں صرف صدر کی تبدیلی تک محدود رہنے کے بجائے دیگر اہم عہدوں پر بھی تقرریاں کی ہیں۔ چودھری ویریندر سنگھ کو اترپردیش کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا نیا لیڈر بنایا گیا ہے، جبکہ دیویندر نشاد اور آلوک پرساد کو سینئر نائب صدور کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اجے رائے کی جگہ آرادھنا مشرا کو کمان

اجے رائے طویل عرصے سے اترپردیش کانگریس کی قیادت کر رہے تھے۔ حال ہی میں 23 ستمبر کو کانگریس کی جانب سے جاری پریس بریفنگ میں بھی انہیں اترپردیش کانگریس کمیٹی کا صدر بتایا گیا تھا۔ اس موقع پر وہ پارٹی کے ریاستی انچارج راجندر پال گوتم اور رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کے ساتھ میڈیا سے خطاب کر چکے تھے۔

26 ستمبر کو لکھنؤ میں الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر کانگریس کے احتجاج کی قیادت میں بھی اجے رائے نمایاں طور پر موجود تھے۔ اب پارٹی ہائی کمان نے ریاستی تنظیم کی قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور آرادھنا مشرا ’مونا‘ کو نئی ذمہ داری سونپی ہے۔

کون ہیں آرادھنا مشرا ’مونا‘؟

آرادھنا مشرا اترپردیش کی سیاست میں ایک معروف کانگریسی رہنما ہیں۔ وہ پرتاپ گڑھ ضلع کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے تین مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکی ہیں۔ کانگریس کی ریاستی سیاست میں ان کا طویل تجربہ ہے اور وہ پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں میں بھی فعال رہی ہیں۔

آرادھنا مشرا سابق راجیہ سبھا رکن اور کانگریس کے سینئر رہنما پرموڈ تیواری کی بیٹی ہیں۔ وہ اس سے قبل اترپردیش کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر بھی رہ چکی ہیں۔ کانگریس کی اپنی ویب سائٹ پر انہیں اترپردیش کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر کے طور پر درج کیا گیا تھا۔

ریاستی صدر بننے کے بعد اب ان کے سامنے پارٹی کی تنظیم کو ضلع اور بوتھ سطح تک فعال کرنے، کارکنوں کو متحرک کرنے اور آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے تنظیمی ڈھانچے کو تیار کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔

عمران مسعود کو بھی اہم ذمہ داری

کانگریس نے مغربی اترپردیش میں اہم سیاسی اثر رکھنے والے رہنما عمران مسعود کو ریاستی تنظیم میں بڑی ذمہ داری دی ہے۔ سہارنپور سے لوک سبھا رکن عمران مسعود کو ورکنگ پریزیڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔  یہ تقرری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کانگریس ایک طرف ریاستی صدر کے طور پر آرادھنا مشرا کو آگے لا رہی ہے تو دوسری طرف عمران مسعود کو ورکنگ پریزیڈنٹ کی ذمہ داری دے کر ریاستی تنظیم میں ایک اہم علاقائی سیاسی رہنما کا کردار بڑھا رہی ہے۔

کانگریس کی حالیہ سرگرمیوں میں عمران مسعود بھی فعال رہے ہیں۔ یکم اکتوبر کو انہوں نے اترپردیش کے پارٹی انچارج راجندر پال گوتم کے ساتھ نئی دہلی میں میڈیا سے خطاب کیا تھا۔ کانگریس کی سرکاری ویب سائٹ پر اس پریس بریفنگ کا اندراج موجود ہے۔

چودھری ویریندر سنگھ کو لیجسلیچر پارٹی کی قیادت

ریاستی تنظیم میں ایک اور اہم تبدیلی کرتے ہوئے کانگریس نے چودھری ویریندر سنگھ کو اترپردیش کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا نیا لیڈر مقرر کیا ہے۔ اس طرح پارٹی نے ریاستی صدر، ورکنگ پریزیڈنٹ اور اسمبلی میں پارٹی کی قیادت کے لیے الگ الگ ذمہ داریاں طے کر دی ہیں۔

یہ تبدیلی اس وقت ہوئی ہے جب اترپردیش میں کانگریس کی تنظیم آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

تبدیلی کے پس منظر میں 2027 کے اسمبلی انتخابات

اترپردیش میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ اسی لیے ریاستی کانگریس میں قیادت کی تبدیلی کو پارٹی کی انتخابی اور تنظیمی تیاری کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم کانگریس کے باضابطہ اعلان میں اجے رائے کو تبدیل کرنے کی کوئی مخصوص وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے تنظیمی تبدیلی کی قطعی وجہ کے طور پر کسی ایک دعوے کو پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ البتہ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں پارٹی کی ریاستی قیادت اور نئے ریاستی انچارج راجندر پال گوتم کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پارٹی قیادت اجے رائے کی کارکردگی اور ریاستی تنظیم کے حوالے سے غور کر رہی ہے۔ یہ رپورٹس ذرائع پر مبنی تھیں اور انہیں کانگریس کی جانب سے تبدیلی کی باضابطہ وجہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔

آرادھنا مشرا کے سامنے کیا چیلنجز ہوں گے؟

نئی ریاستی صدر کے طور پر آرادھنا مشرا کے سامنے سب سے اہم کام ریاستی تنظیم کو انتخابی سطح پر فعال بنانا ہوگا۔ کانگریس کو ضلع، بلاک اور بوتھ سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ کارکنوں کو انتخابی مہم کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ اترپردیش کی سیاست میں مختلف سماجی اور علاقائی گروپوں تک پارٹی کی رسائی، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سیاسی حکمت عملی اور ووٹر لسٹ سے متعلق جاری سیاسی بحث بھی آنے والے دنوں میں ریاستی کانگریس کے لیے اہم موضوعات رہ سکتے ہیں۔

ستمبر کے آخر میں یوپی کانگریس نے الیکشن کمیشن اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے معاملے پر بھی احتجاج اور پریس کانفرنسیں کی تھیں۔ آرادھنا مشرا نے بھی اس معاملے پر پارٹی کی طرف سے موقف پیش کیا تھا۔

اجے رائے کا سیاسی کردار

اجے رائے نے اترپردیش کانگریس کی ریاستی قیادت کے دوران مختلف سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں میں پارٹی کی نمائندگی کی۔ ستمبر 2026 میں وہ الیکشن کمیشن سے متعلق کانگریس کے احتجاج میں بھی سرگرم رہے اور پارٹی کے ریاستی صدر کی حیثیت سے میڈیا سے خطاب کیا۔

اب پارٹی نے ان کی جگہ آرادھنا مشرا کو ریاستی صدر مقرر کیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے اجے رائے کے آئندہ تنظیمی کردار کے بارے میں اس اعلان میں کوئی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

کانگریس کا یہ فیصلہ اترپردیش میں پارٹی کی ریاستی قیادت کے ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ آرادھنا مشرا ’مونا‘ کو ریاستی صدر، عمران مسعود کو ورکنگ پریزیڈنٹ اور چودھری ویریندر سنگھ کو لیجسلیچر پارٹی لیڈر مقرر کیے جانے سے پارٹی نے ریاستی تنظیم کی قیادت میں نیا انتظام سامنے رکھا ہے۔ یہ تبدیلی 2027 کے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے چند ماہ پہلے ہوئی ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں نئی قیادت کی تنظیمی سرگرمیاں اور انتخابی تیاری اہم سیاسی موضوع رہیں گی۔

Related posts

بھارت آئندہ دو تین دہائیوں میں 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائے گا: مکیش امبانی

Hamari Duniya News

ضرور پڑھیں: آپ کے ضرورت کی ہر خبر روزنامہ ہماری دنیا ای پیپر میں

Hamari Duniya News

ریاض اور شرقیہ پر بزدلانہ ایرانی حملوں پر سعودی عرب کا شدید ردعمل،جوابی کارروائی کی دھمکی

Hamari Duniya News