ستمبر 5, 2026
Regional News علاقائی خبریںTop News

اترپردیش میں مسلمانوں کو جوڑنے کیلئے کانگریس نے بنایا خاص پلان، حسیب خان کو ملی بڑی ذمہ داری

حسیب خان

بلرام پور، 5 ستمبر (قمر خان):
اتر پردیش کی سیاست میں کانگریس نے تنظیمی سطح پر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے حسیب خان کو اتر پردیش کانگریس اقلیتی شعبہ کا صوبائی نائب صدر مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں مشرقی اتر پردیش کے 15 اہم اضلاع کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے، جن کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 85 اسمبلی حلقے آتے ہیں۔

حسیب خان کی تقرری کو کانگریس کی جانب سے مشرقی اتر پردیش میں تنظیم کو مضبوط بنانے اور اقلیتی طبقے کے درمیان پارٹی کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

2022 میں فعال سیاست میں قدم رکھا

حسیب خان نے سال 2022 میں فعال سیاست میں قدم رکھا۔ اپنی محنت، عوامی رابطے اور سماجی سرگرمیوں کے باعث انہوں نے مختصر عرصے میں سیاسی حلقوں میں اپنی شناخت بنائی۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور انتہائی قریبی مقابلے میں چند ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ شکست کے باوجود حسیب خان نے مذکورہ اسمبلی حلقے میں سماج وادی پارٹی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کا اعزاز حاصل کیا۔ 2017 کے انتخابات میں، جب سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد تھا، اس نشست پر ایس پی کو تقریباً 56 ہزار ووٹ ملے تھے، جبکہ 2022 میں دونوں جماعتوں کے الگ الگ انتخاب لڑنے کے باوجود حسیب خان نے 66,132 ووٹ حاصل کیے۔

15 اضلاع اور 85 اسمبلی حلقوں کی ذمہ داری

کانگریس کی جانب سے حسیب خان کو جن 15 اضلاع کی ذمہ داری دی گئی ہے، ان میں بہرائچ، شراوستی، بلرام پور، سدھارتھ نگر، بستی، سنت کبیر نگر، جونپور، بلیا، مئو، اعظم گڑھ، چندولی، وارانسی، غازی پور، امبیڈکر نگر اور سلطان پور شامل ہیں۔

ان 15 اضلاع میں مجموعی طور پر 85 اسمبلی حلقے ہیں۔ حسیب خان کو ان علاقوں میں پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے، کارکنوں سے رابطہ بڑھانے اور اقلیتی طبقے کے درمیان کانگریس کی رسائی کو وسعت دینے کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

نوجوانوں میں مقبولیت کا دعویٰ

حسیب خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانوں میں مقبول ہیں اور مسلسل عوامی رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کے مختلف مذہبی، سماجی اور عوامی حلقوں سے بھی قریبی روابط بتائے جاتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ حسیب خان تقریباً دو ماہ قبل کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔ پارٹی قیادت نے ان کی گزشتہ چند برسوں کی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اقلیتی شعبے میں اہم ذمہ داری سونپی ہے۔

کانگریس تنظیم کو مضبوط کرنے کا چیلنج

نئی ذمہ داری ملنے کے بعد حسیب خان کے سامنے مشرقی اتر پردیش کے 15 اضلاع میں کانگریس تنظیم کو مضبوط کرنے، پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے اور اقلیتی طبقے کے درمیان پارٹی کی رسائی بڑھانے کا بڑا چیلنج ہوگا۔

سیاسی حلقوں میں اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حسیب خان اپنی نئی ذمہ داری کو کس حد تک مؤثر انداز میں نبھاتے ہیں اور 85 اسمبلی حلقوں پر مشتمل اس بڑے تنظیمی دائرے میں کانگریس کو کس حد تک مضبوط بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

Related posts

یوپی روڈویز بس ڈرائیوروں کی من مانی سے شاہراہِ عام جام، ٹریفک پولیس کی خاموشی پر سوالات

Hamari Duniya News

محمد سلیم دہلوی کی لوکسبھا سیکریٹریٹ میں انڈرسکریٹری کے عہدے پر تقرری ہونے پر استقبالیہ تقریب کا انعقاد

Hamari Duniya News

کے کویتا : بی جے پی کے12ویں بجٹ میں بھی تلنگانہ کے حصے میں گول صفر، 8 بی جے پی ایم پیز دینے کے باوجود تلنگانہ کے ساتھ سنگین ناانصافی جاری

Hamari Duniya News