ستمبر 5, 2026
International بین الاقوامی خبریںSaudi Arabia سعودی عربTop News

امریکا کی سعودی عرب کو 5 ارب ڈالر کے جدید بم اور دیگر دفاعی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری

واشنگٹن، 05 ستمبر۔ امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز-ایکسٹینڈڈ رینج (JDAM-ER) اور متعلقہ فوجی سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے لیے 750 ملین ڈالر مالیت کے AGT-1500 ٹینک انجنز کی ممکنہ فروخت کو بھی منظوری دی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق JDAM-ER پیکیج کے لیے بوئنگ کو بنیادی ٹھیکیدار مقرر کیا گیا ہے، جبکہ AGT-1500 انجنز کی ممکنہ فروخت میں ہنی ویل بنیادی ٹھیکیدار ہوگی۔ دونوں معاملات امریکی دفاعی تعاون میں سعودی عرب کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

سعودی عرب کو کیا ملے گا؟

دفاعی تفصیلات کے مطابق 5 ارب ڈالر کے JDAM-ER پیکیج میں 10 ہزار سے زائد گائیڈنس کٹس اور متعلقہ سازوسامان شامل ہیں۔ اس پیکیج کے ساتھ تقریباً اتنی ہی تعداد میں روایتی بم بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں 500 پاؤنڈ اور 2000 پاؤنڈ وزنی بم شامل ہیں۔ JDAM کٹ نصب ہونے کے بعد ان بموں کو زیادہ درست نشانہ لگانے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

JDAM-ER دراصل روایتی بم کو گائیڈڈ ہتھیار میں تبدیل کرنے والا نظام ہے، جس میں اضافی رینج کے لیے وِنگ کٹ استعمال کی جاتی ہے۔ اس نظام کا مقصد طیارے کو نسبتاً زیادہ فاصلے سے زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔

ابرامز ٹینکوں کے لیے 750 ملین ڈالر کے انجن

امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو AGT-1500 انجنز فروخت کرنے کی ممکنہ ڈیل کی بھی منظوری دی ہے، جس کی مالیت تقریباً 750 ملین ڈالر ہے۔ یہ انجن امریکی ساختہ M1 Abrams ٹینکوں میں استعمال ہوتے ہیں اور اس ڈیل کے لیے ہنی ویل بنیادی ٹھیکیدار ہوگی۔

سعودی عرب پہلے ہی AGT-1500 انجنز سے متعلق مقامی مرمت، دیکھ بھال اور اوورہال کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ہنی ویل کے ساتھ تعاون کرچکا ہے۔ سعودی جنرل اتھارٹی فار ملٹری انڈسٹریز کے مطابق اس تعاون کا مقصد مقامی دفاعی صنعت کو مضبوط کرنا اور تکنیکی صلاحیتوں کو سعودی عرب منتقل کرنا ہے۔

عمان اور عراق کے لیے بھی امریکی دفاعی منظوری

سعودی عرب کے علاوہ امریکی حکومت نے خطے کے دو دیگر ممالک کے لیے بھی دفاعی سودوں کی منظوری دی ہے۔

عمان کے لیے تقریباً 188 ملین ڈالر مالیت کی F-16 لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال اور معاونت کی خدمات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس پیکیج میں کسی ایک نجی کمپنی کو بنیادی ٹھیکیدار نامزد نہیں کیا گیا، جبکہ ضرورت کے مطابق امریکی حکومت یا متعلقہ ٹھیکیدار معاونت فراہم کریں گے۔

اسی طرح عراق کے لیے تقریباً 150 ملین ڈالر مالیت کے Bell 412EPX ہیلی کاپٹرز کی ممکنہ فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ اس معاہدے کے لیے Bell Textron بنیادی ٹھیکیدار ہوگا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت

سعودی عرب کے لیے یہ ممکنہ دفاعی پیکیج ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ امریکی حکام سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بنانے کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران فضائی دفاع اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ JDAM جیسے نسبتاً کم لاگت والے پریسیژن گائیڈڈ ہتھیار بڑی تعداد میں استعمال کیے جاسکتے ہیں، جبکہ طویل فاصلے والے JDAM-ER ورژن طیاروں کو ہدف سے زیادہ فاصلے پر رہتے ہوئے حملہ کرنے کی اضافی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

کیا یہ معاہدے فوری طور پر نافذ ہوگئے ہیں؟

اہم بات یہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دی گئی منظوری کو حتمی فروخت یا مکمل معاہدہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہ ممکنہ دفاعی فروخت کے لیے امریکی حکومت کی منظوری اور کانگریس کو باضابطہ اطلاع دینے کا مرحلہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق کانگریس کے پاس ان سودوں کو روکنے کے لیے مقررہ مدت موجود ہوتی ہے، تاہم ایسے معاملات میں مداخلت کا امکان عموماً کم رہتا ہے۔ حتمی معاہدے کے دوران ہتھیاروں کی تعداد، قیمت اور دیگر شرائط میں تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔

مجموعی طور پر سعودی عرب، عمان اور عراق کے لیے تقریباً 6.1 ارب ڈالر کے دفاعی پیکیجز کی منظوری امریکا اور خلیجی و علاقائی ممالک کے درمیان جاری دفاعی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سعودی عرب کے لیے JDAM-ER اور AGT-1500 انجنز کی ممکنہ خریداری اس پیکیج کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

Related posts

معاشرے میں تعلیمی بیداری کے لیے بچوں اوربچیوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری، تعلیم ترقی کا زینہ ہے: مولانا عظمت

Hamari Duniya News

اویمکتیشورانند کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے اکھلیش یادو

Hamari Duniya News

اسمبلی حلقہ جھنجھار پور کے ایم ایل اے تیش مشرا کو وزارت ملنے پر خوشی کی لہر

Hamari Duniya News