ستمبر 4, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

جامعہ کے رجسٹرار کی حمایت میں طلبہ متحد، جامعہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

پروفیسر مہتاب عالم رضوی

پروفیسر مہتاب عالم رضوی کے حق میں طلبہ نے آواز بلند کی، کہا—الزامات کی سچائی قانونی طریقۂ کار کے تحت طے ہونی چاہیے

نئی دہلی، 3 ستمبر(ڈاکٹر – ایم – رحمت اللہ)۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بڑی تعداد میں طلبہ نے جامعہ نگر تھانے پہنچ کر یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی کے خلاف مبینہ طور پر نشر کیے جانے والے قابل اعتراض اور ہتک آمیز الزامات کے سلسلے میں شکایت درج کرنے اور پورے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے بھوپیندر پال سنگھ چوہان اور حارث الحق کے خلاف شکایت دیتے ہوئے نشر کیے جانے والے مواد کی صداقت اور اس کے ماخذ کی جانچ کا مطالبہ کیا۔

طلبہ کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے رجسٹرار کے بارے میں ایسا مواد نشر کیا جا رہا ہے جس میں مناسب حقائق اور سیاق و سباق کا فقدان ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ یہ مواد کہاں سے نشر ہوا، اس میں کیے گئے دعوے کس حد تک درست ہیں اور کیا اس عمل میں کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

طلبہ نے یہ بھی کہا کہ رجسٹرار کے حق میں پہلے ہی ایک سول عدالت کا حکم آ چکا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے متنازع الزامات سے متعلق مواد کی اشاعت و تشہیر پر روک لگائی ہے اور رجسٹرار کی تقرری اور ترقی کو یونیورسٹی کے مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت کیے جانے کا ذکر کیا ہے۔ حکم میں پابندی کے باوجود متعلقہ مواد کے مزید نشر کیے جانے کی صورت میں توہینِ عدالت کی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پروفیسر مہتاب عالم رضوی

تنقید پر پابندی نہیں، لیکن الزامات کی تصدیق ضروری

مظاہرے میں شامل طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جائز تنقید کو روکنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سنگین الزامات کو حقائق کے طور پر پیش کیے جانے سے قبل ان کی سچائی کی جانچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقرری، ترقی اور انتظامی فیصلوں جیسے معاملات یونیورسٹی کے مقررہ قواعد اور قانونی طریقۂ کار کے تحت آتے ہیں اور ان کے بارے میں شکایت کے لیے مناسب ادارہ جاتی فورم موجود ہیں۔

طلبہ نے سوشل میڈیا پر نامکمل یا غیر مصدقہ معلومات کے تیزی سے پھیلاؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کوئی بھی الزام چند ہی منٹوں میں بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس کی حقائق پر مبنی جانچ میں وقت لگ سکتا ہے۔ طلبہ کے مطابق رجسٹرار سے متعلق نشر کیے جانے والے مواد میں کئی باتوں کو ان کے اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

طلبہ نے کہا کہ کسی سینئر یونیورسٹی عہدیدار پر لگائے گئے غیر مصدقہ الزامات صرف متعلقہ شخص کی ساکھ کو متاثر نہیں کرتے بلکہ پورے ادارے کی شبیہ اور وقار پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ انہوں نے جامعہ کی ساکھ کے تحفظ کو طلبہ اور یونیورسٹی برادری کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔

طلبہ کا پولیس سے بنیادی مطالبہ ہے کہ رجسٹرار کے خلاف لگائے گئے الزامات اور انہیں نشر کرنے کے لیے استعمال کیے گئے مواد کی قانونی دائرے میں تحقیقات کی جائیں۔ اگر تحقیقات میں کسی قانونی شق کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

طلبہ نے کہا کہ یونیورسٹی اور اس کے عہدیداروں سے متعلق تنازعات کو الزام تراشی اور جوابی الزام کے بجائے حقائق، شواہد، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور مقررہ قانونی و ادارہ جاتی طریقۂ کار کی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اظہارِ خیال کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کی وسیع رسائی کے باعث غیر مصدقہ معلومات کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اس لیے کسی بھی الزام کو نشر یا شیئر کرنے سے قبل اس کی سچائی کی جانچ ضروری ہے۔

Related posts

ہندوستان کو ملا نیا جگری دوست، دو طرفہ بات چیت کے بعد 11 اہم معاہدوں پر دستخط

Hamari Duniya News

یو جی سی کے مساواتی ضوابط پر پابندی قابلِ تشویش، روہت ویمولا ایکٹ نافذ کیا جائے: طلبہ قائدین

Hamari Duniya News

جیومارٹ کی ’گرینڈ ریپبلک سیل‘ شروع، ضرورت کے ہر سامان پر مل رہی ہے بمپر چھوٹ

Hamari Duniya News