22.4 C
New York
اگست 30, 2026
National قومی خبریںTop News

اتر پردیش میں دوبارہ SIR کا دعویٰ، اکھلیش یادو نے ووٹروں کو خبردار کردیا

لکھنؤ، 29 اگست(ہماری دنیا نیوز)۔

سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (Special Intensive Revision—SIR) کو لے کر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل دوبارہ SIR کرائے جانے کا امکان ہے، اس لیے عوام کو ابھی سے اپنے ووٹ اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی جانچ کرلینی چاہیے۔ 

اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ووٹر لسٹ میں نام کا موجود ہونا محض ایک رسمی معاملہ نہیں بلکہ حقِ رائے دہی اور جمہوری حقوق سے براہِ راست جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور عام ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی فہرست میں اپنا نام، پتہ اور دیگر تفصیلات ضرور چیک کریں تاکہ بعد میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

SIR پر اکھلیش کے سنگین خدشات

اکھلیش یادو پہلے بھی SIR کے عمل پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ رواں سال جنوری میں لکھنؤ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ SIR کے نام پر بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرست سے نکالے گئے ہیں اور اس کا اثر خاص طور پر PDA—پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات کے ووٹروں پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے انتخابی کمیشن کی غیر جانب داری پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ 

فروری میں بھی اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا تھا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے Form-7 کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بعض معاملات میں فرضی ناموں اور مبینہ جعلی دستخطوں کے ذریعے ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے انتخابی حکام سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ 

’’ووٹروں کو ابھی سے محتاط ہونا ہوگا‘‘

اکھلیش یادو کا تازہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرست میں کسی بھی اہل ووٹر کا نام نہیں چھوٹنا چاہیے۔ انہوں نے ووٹروں کو مشورہ دیا کہ وہ سرکاری طور پر دستیاب ووٹر لسٹ میں اپنا نام چیک کریں اور کسی غلطی یا نام حذف ہونے کی صورت میں مقررہ طریقہ کار کے تحت دعویٰ اور اعتراض درج کرائیں۔

اتر پردیش میں SIR سے متعلق سرکاری سطح پر بھی انتخابی فہرستوں کی جانچ اور خامیوں کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔ مثال کے طور پر پریاگ راج ضلع انتظامیہ نے SIR-2026 کے تحت ڈرافٹ انتخابی فہرست اور EPIC نمبر کے ذریعے نام تلاش کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ 

سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے آثار

SIR کا معاملہ اب صرف انتخابی فہرستوں کی اصلاح تک محدود نہیں رہا بلکہ اتر پردیش کی سیاست میں بھی ایک اہم سیاسی موضوع بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں میں نام حذف ہونے کے معاملے پر سوال اٹھا رہی ہیں، جبکہ انتخابی عمل سے متعلق حکام کا مؤقف انتخابی فہرستوں کو درست، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے پر مرکوز ہے۔

اکھلیش یادو کے تازہ بیان کو 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی کی انتخابی تیاریوں سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایس پی نے بوتھ سطح پر ووٹرز اور سماجی طبقات کا ڈیٹا منظم کرنے کی سرگرمیاں بھی تیز کی ہیں۔ 

ووٹر لسٹ کی جانچ کیوں اہم؟

اکھلیش یادو کی اپیل کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ووٹر آخری وقت کا انتظار نہ کریں۔ اگر کسی اہل شہری کا نام انتخابی فہرست میں موجود نہیں ہے یا اس کی تفصیلات میں غلطی ہے تو اسے مقررہ مدت کے اندر متعلقہ انتخابی حکام کے سامنے دعویٰ یا اعتراض پیش کرنا چاہیے۔

Related posts

وزیراعظم کا قوم کیلئے صبح کا پیغام، خود انحصاری قوم کی تعمیر کی بنیاد

Hamari Duniya News

این سی پی یو ایل کی از سرِ نو تشکیل کی راہ ہموار، یو ڈی او کا اردو اکیڈمی کے قیام پر زور

Hamari Duniya News

نوجوانوں کی عالمی قیادت کو نیا پلیٹ فارم، مسک فاؤنڈیشن اور اقوام متحدہ کا ’گلوبل یوتھ نیٹ ورک‘ قائم

Hamari Duniya News