22.4 C
New York
اگست 28, 2026
International بین الاقوامی خبریںQatar قطرTop News

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے قطر اور ایران میں اہم پیش رفت، عارضی بحری راہ داری اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بات چیت

Iran Qatar

تہران، 27 اگست: آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے اور خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قطر اور ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عارضی مشترکہ بحری راہ داری قائم کرنے اور آبنائے کو ممکنہ بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے مشترکہ منصوبے پر بات چیت کی ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی تازہ صورت حال، کشیدگی میں کمی اور ایران و امریکا کے درمیان دوبارہ بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

عارضی بحری راہ داری کا مجوزہ فریم ورک

ملاقات میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے مجوزہ عبوری فریم ورک پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس فریم ورک میں آبنائے کے ذریعے ایک عارضی مشترکہ بحری راہ داری قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے اندر موجود ممکنہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کی تجویز شامل ہے۔

قطری وزیر خارجہ نے اس موقع پر پڑوسی ممالک کی خودمختاری اور آزادانہ جہاز رانی کے اصول کا احترام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے راستے کو آگے بڑھانے میں دوحہ کے کردار کی قدر دانی کی۔

قطر پہلے ہی ایران اور عمان کے مذاکرات کی حمایت کرچکا ہے

یہ پیش رفت اچانک نہیں ہوئی۔ قطر پہلے ہی ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر جاری مذاکرات کی حمایت کر رہا ہے۔ 25 اگست کو شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں بھی ایران اور عمان کے درمیان عارضی مشترکہ بحری راہ داری اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے منصوبے پر بات ہوئی تھی۔

اس سے قبل عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی تہران کا دورہ کرکے ایرانی حکام کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مستقبل اور بحری آمدورفت کی بحالی پر مذاکرات کیے تھے۔

ایران اور عمان کے درمیان معاہدے کی صورتحال

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے مذاکرات میں بھی پیش رفت کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بدھ کو اعلان کیا گیا کہ دونوں ممالک نے آبنائے کے انتظام اور آمدنی کی تقسیم سے متعلق ایک سمجھوتہ کرلیا ہے۔ تاہم بعد میں ایک سینئر ایرانی ذریعے نے واضح کیا کہ حتمی معاہدہ ابھی مکمل نہیں ہوا اور تفصیلات پر مذاکرات جاری ہیں۔

رائٹرز کے مطابق 27 اگست کو آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں معمولی اضافہ ہوا۔ بدھ کو تقریباً 10 کموڈیٹی جہاز آبنائے سے گزرے، تاہم یہ تعداد اب بھی معمول کی سطح سے کافی کم ہے۔

ہرمز میں ایک اور بحری واقعہ

دریں اثنا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق ایک ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم بعد میں اسے بجھا دیا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران، عمان اور قطر آبنائے میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

امریکا، ایران کشیدگی میں ہرمز مرکزی مسئلہ

آبنائے ہرمز ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ فروری 2026 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد آبنائے میں معمول کی بحری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ جون میں ہونے والی مفاہمت بھی طویل مدتی حل میں تبدیل نہیں ہوسکی۔ امریکا اور ایران کے درمیان پابندیوں، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے انتظام سمیت متعدد امور پر اختلافات برقرار ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل و گیس کی ترسیل اس اہم بحری راستے سے ہوتی تھی، اسی لیے اس کی مکمل یا جزوی بندش سے عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی شپنگ پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔

پاکستان، قطر اور عمان کی سفارتی کوششیں تیز

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، قطر اور عمان بھی سفارتی سطح پر سرگرم ہیں۔ قطر کی تہران میں تازہ سرگرمی کو اسی وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا، بحری راستے کو محفوظ بنانا اور ایران و امریکا کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

فی الحال آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر معمول کی تجارتی آمدورفت کے لیے کھولنے کا حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا، لیکن عارضی بحری راہ داری، بارودی سرنگوں کی صفائی اور ایران و عمان کے درمیان انتظامی امور پر جاری مذاکرات کو کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Related posts

آسام کے سیلاب متاثرین کیلئے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام نے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے

Hamari Duniya News

اردو ہندوستان کی زندہ زبان ہے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے: ڈاکٹر شمس اقبال

Hamari Duniya News

تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد

Hamari Duniya News