پونے میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں طالبات سے خطاب، تعلیم، مساوات، تحفظ، روزگار اور خواتین کے حقوق پر زور
پونے، 22 اگست: ’’مجھے ملک کے ہر نوجوان پر فخر ہے، خاص طور پر ان لڑکیوں پر جنہوں نے بدسلوکی، گالی گلوچ اور تشدد کے باوجود اپنی آواز بلند کی۔ اب ان کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، اب لڑکیاں بولیں گی اور ملک سنے گا۔‘‘ کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو پونے میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے نوجوان خواتین کی ہمت اور جمہوری حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے مستقبل کی تعمیر میں لڑکیوں کی آواز اور ان کی شرکت انتہائی اہم ہے۔
راہل گاندھی کا یہ پروگرام خصوصی طور پر طالبات کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جس میں خواتین کی تعلیم، تحفظ، مساوات، مسابقتی امتحانات، روزگار اور مستقبل کے مواقع جیسے اہم مسائل پر گفتگو کی گئی۔ پروگرام کا مقصد طالبات کو اپنی بات براہِ راست رکھنے اور ان کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
راہل گاندھی نے خواتین کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی لڑکی کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کے لیے دوسروں کے رحم و کرم پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خواتین کو ملک کا ایک بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ترقی میں خواتین کا کردار فیصلہ کن ہے۔
https://www.facebook.com/share/v/1GiUNcAMo2/
انہوں نے منوسمرتی میں خواتین کے بارے میں پیش کیے گئے تصورات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ خواتین کو مساوی حقوق اور عزت ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق نوجوان نسل کو ایسے قدیم اور امتیازی نظریات کو چیلنج کرنا ہوگا جو معاشرے میں عدم مساوات کو برقرار رکھتے ہیں۔
’چھاتروں کی گونج‘ راہل گاندھی کی طلبہ اور نوجوانوں سے براہِ راست رابطے کی مہم کا حصہ ہے۔ پونے کے پروگرام میں خاص طور پر طالبات سے تعلیم اور مستقبل سے متعلق مسائل پر بات کی گئی۔ پیپر لیک، امتحانات میں بے ضابطگی، تعلیم کی بڑھتی لاگت، روزگار کے مواقع، خواتین کا تحفظ اور مساوی مواقع جیسے موضوعات پروگرام کے اہم نکات میں شامل رہے۔
راہل گاندھی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق اور مستقبل سے متعلق معاملات پر سوال اٹھائیں اور جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی شرکت کے بغیر ملک کی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔
پروگرام سے قبل طلبہ تنظیموں میں کشیدگی
راہل گاندھی کے پروگرام سے قبل پونے میں اے بی وی پی اور این ایس یو آئی سے وابستہ طلبہ گروپوں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ یہ واقعہ COEP ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ہاسٹل کے باہر پیش آیا۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے۔
پروگرام کے انعقاد کے لیے پونے پولیس نے منتظمین کو 30 شرائط کے ساتھ اجازت دی تھی۔ ان شرائط میں قابل اعتراض تصاویر، بینرز اور پوسٹروں پر پابندی کے ساتھ مذہبی جذبات مجروح نہ کرنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایات شامل تھیں۔
بی جے پی کا پروگرام پر اعتراض
دوسری جانب بی جے پی نے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ’’پیسے کی گونج‘‘ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ پروگرام میں بھیڑ جمع کرنے کے لیے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو مبینہ طور پر رقم دی گئی۔ کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں راہل گاندھی کو ملنے والی حمایت سے بی جے پی پریشان ہے۔
پونے کا یہ پروگرام ایسے وقت میں ہوا ہے جب سیاسی جماعتیں نوجوان ووٹروں، بالخصوص نئی نسل اور طلبہ تک اپنی رسائی بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ راہل گاندھی کی جانب سے طالبات کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کرنا بھی اسی وسیع سیاسی رابطہ مہم کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
