نئی دہلی، 20 اگست: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں اپنی ریلی کے بعد مبینہ طور پر کیے گئے ’شدھی کرن‘ کے واقعے پر اپنی ہی پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کی خاموشی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق **19 اگست کو نئی دہلی میں منعقدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کے اجلاس میں کھڑگے نے اس معاملے پر پارٹی رہنماؤں کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی رہنما کھل کر ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے اور نہ ہی واقعے کی واضح مذمت کی۔
’اخبارات میں لکھتے ہیں، ٹی وی پر بولتے ہیں، پھر یہاں خاموش کیوں؟‘
ذرائع کے مطابق CWC اجلاس میں کھڑگے نے ایسے رہنماؤں کی طرف اشارہ کیا جو اخبارات میں مضامین لکھتے ہیں اور ٹیلی ویژن چینلز پر پارٹی کے نظریات اور سیاسی مسائل پر کھل کر اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہلدوانی کے مبینہ ’شدھی کرن‘ کے معاملے پر ایسے رہنماؤں نے خاموشی کیوں اختیار کی۔
کھڑگے نے مبینہ طور پر کہا کہ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ پارٹی کے کئی رہنماؤں نے اس واقعے کی کھل کر مذمت نہیں کی اور انہیں وہ حمایت نہیں ملی جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ تاہم انہوں نے اجلاس میں کسی رہنما کا نام لے کر نشانہ نہیں بنایا۔
ہلدوانی میں کیا ہوا تھا؟
یہ تنازع 8 اگست 2026 کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کھڑگے کی ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ کے بعد سامنے آیا۔ کانگریس صدر نے اسی مقام سے خطاب کیا تھا۔ بعد میں ایک ہندو تنظیم کی جانب سے مبینہ طور پر وہاں ہون اور ’شدھی کرن‘ کی رسم کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد سیاسی تنازع شدت اختیار کرگیا۔
کانگریس نے اس واقعے کو سماجی امتیاز اور مبینہ ذات پات پر مبنی ذہنیت سے جوڑتے ہوئے شدید اعتراض کیا، جبکہ بی جے پی اور اس سے وابستہ حلقوں کی جانب سے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جوابی سیاسی حملے بھی کیے گئے۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بھی سیاسی بیان بازی ہوئی۔
کانگریس نے ملک گیر احتجاج بھی کیا
ہلدوانی کے واقعے کے خلاف کانگریس کارکنان نے مختلف ریاستوں میں احتجاج کیا۔ اتر پردیش کے متعدد شہروں میں پارٹی کارکنان نے مارچ اور احتجاجی پروگرام منعقد کیے، جبکہ دیگر مقامات پر بھی ذات پات کے امتیاز کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی ہلدوانی کے واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سماجی امتیاز اور نفرت کی ذہنیت سے جوڑا تھا۔
CWC اجلاس میں معاملہ کیوں اہم بن گیا؟
CWC اجلاس میں کھڑگے کی ناراضگی سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ محض بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی تنازع تک محدود نہیں رہا بلکہ پارٹی کے اندر بھی زیر بحث آگیا ہے۔ کھڑگے کا پیغام واضح طور پر یہ تھا کہ جب پارٹی کے قومی صدر یا کسی بڑے رہنما کے خلاف ایسا معاملہ سامنے آئے تو سینئر رہنماؤں کو اجتماعی طور پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق، تاہم کانگریس کی جانب سے کھڑگے کی اس گفتگو کی تفصیلی سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی ہے اور یہ معلومات CWC اجلاس میں موجود ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔
سیاسی تنازع مزید گہرانے کے امکانات
ہلدوانی کا ’شدھی کرن‘ معاملہ پہلے ہی ذات پات، سماجی مساوات اور سیاسی احترام جیسے سوالات کو لے کر قومی سطح پر بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ اب کانگریس کے اندر بعض رہنماؤں کی خاموشی پر کھڑگے کی ناراضگی سامنے آنے کے بعد پارٹی کی داخلی حکمت عملی اور ایسے حساس معاملات پر اجتماعی ردعمل بھی سیاسی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
