2027 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں سکیولر اتحاد کا اصل امتحان؛ کانگریس 150، ایس پی 350 نشستوں کی تیاری میں، مگر اکھلیش نے تنازعہ کو نئی سمت دے دی
لکھنؤ/نئی دہلی، 4 اکتوبر۔:
اترپردیش کی سیاست میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان ممکنہ اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کا معاملہ مسلسل توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک طرف کانگریس کم از کم 150 اسمبلی نشستوں پر انتخاب لڑنے کی خواہش ظاہر کر رہی ہے، تو دوسری طرف سماج وادی پارٹی نے تقریباً 350 نشستوں پر اپنی انتخابی تیاری کا اشارہ دیا ہے۔ اس کھینچا تانی کے درمیان سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اب ایک اہم سیاسی لکیر کھینچ دی ہے کہ اتحاد میں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کس پارٹی کو کتنی نشستیں ملیں گی، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اتحاد کو کامیابی کیسے دلائی جائے۔
اکھلیش یادو نے 4 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ بات نشستوں کی نہیں بلکہ جیت کی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ایس پی اور کانگریس کے درمیان نشستوں کی تقسیم کو لے کر اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اکھلیش فی الحال عوامی سطح پر نشستوں کی سودے بازی کے بجائے اتحاد کی سیاسی ضرورت اور مشترکہ انتخابی مقصد کو زیادہ اہمیت دینا چاہتے ہیں۔
اکھلیش کا اصل پیغام کیا ہے؟
اکھلیش یادو کا موجودہ مؤقف دراصل دو سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلی سطح پر وہ کانگریس کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اتحاد کا مقصد زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا نہیں، بلکہ بی جے پی کو شکست دینے کے قابل انتخابی اتحاد کی تشکیل ہونا چاہیے۔
دوسری طرف وہ اپنی پارٹی کے ان رہنماؤں کو بھی قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کانگریس کی نشستوں کی مانگ پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ 3 اکتوبر کو اکھلیش نے ایس پی رہنماؤں سے کہا تھا کہ سیٹ شیئرنگ سے متعلق اپنی شکایات اور تجاویز پارٹی کے اندر رکھیں اور جب مذاکرات ہوں تو انہیں وہاں پیش کیا جائے۔ یہ ہدایت اس وقت سامنے آئی جب ایس پی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے کانگریس کی مبینہ 150 نشستوں کی مانگ پر سوال اٹھایا تھا۔
یعنی اکھلیش یادو نے فی الحال اتحاد توڑنے یا کانگریس سے دوری اختیار کرنے کے بجائے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا ہے۔
کانگریس 150 نشستیں کیوں چاہتی ہے؟
اترپردیش اسمبلی میں کل 403 نشستیں ہیں۔ کانگریس کی جانب سے کم از کم 150 نشستوں پر انتخاب لڑنے کی خواہش نے سیاسی حلقوں میں خاصی بحث پیدا کی ہے۔
یوپی کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم نے کہا تھا کہ کانگریس کے پاس تمام 403 حلقوں میں امیدوار موجود ہیں اور اتحاد کی صورت میں پارٹی کم از کم 150 نشستوں پر مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ کانگریس کا استدلال ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی، اس لیے اسے محض چند درجن نشستوں تک محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کانگریس نے مبینہ طور پر یوپی کی اسمبلی نشستوں کو اے،بی اورسی زمروں میں تقسیم کرکے اپنی ممکنہ نشستوں کی نشاندہی بھی شروع کر دی ہے، تاکہ ایس پی کے ساتھ مذاکرات کے دوران وہ اپنے دعوے کو امیدواروں اور زمینی تیاری کی بنیاد پر پیش کر سکے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایس پی خود 350 نشستوں پر تیاری کا اشارہ دے چکی ہے۔
اگر کانگریس 150 نشستوں کا مطالبہ کرتی ہے تو ایس پی کے لیے تقریباً 253 نشستیں بچتی ہیں۔اگر ایس پی 350 نشستوں پر اپنی تیاری کرتی ہے تو کانگریس کے لیے صرف 53 نشستیں رہ جاتی ہیں۔یہی وہ ریاضی ہے جس نے اتحاد کی سیاست کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایس پی کے اندر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ پارٹی تقریباً 350 نشستوں پر تیاری کرے، جبکہ کانگریس کم از کم 150 نشستوں پر دعویٰ کر رہی ہے۔ دوسری طرف بعض رپورٹس کے مطابق ایس پی 80 سے زیادہ نشستیں دینے کے حق میں نہیں ہے، جبکہ کانگریس کے بعض حلقے کم از کم 100 نشستوں سے نیچے جانے کو تیار نہیں دکھائی دیتے۔ لیکن اکھلیش کا تازہ بیان اسی عددی جنگ کو سیاسی جنگ بننے سے روکنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔
2024 کا فارمولا اکھلیش کے اعتماد کی بنیاد
اکھلیش یادو کے موجودہ مؤقف کو سمجھنے کے لیے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج اہم ہیں۔
2024 میں ایس پی اور کانگریس نے اترپردیش میں مل کر انتخاب لڑا تھا اور دونوں جماعتوں نے مجموعی طور پر 43 لوک سبھا نشستیں جیتیں، ایس پی نے 37 اور کانگریس نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس کارکردگی نے 2022 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں اپوزیشن اتحاد کو نئی سیاسی طاقت فراہم کی۔
یہی وجہ ہے کہ اکھلیش یادو بار بار اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جس اتحاد نے 2024 میں بی جے پی کو یوپی میں بڑا سیاسی نقصان پہنچایا، اسی اتحاد کو 2027 میں مزید مضبوط کیا جائے۔ان کا پیغام صرف کانگریس کے لیے نہیں بلکہ پورے اپوزیشن کیمپ کے لیے ہے کہ ووٹوں کی تقسیم روکنا سب سے اہم مقصد ہونا چاہیے۔
2022 کی شکست سے سبق
2022 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 255 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ سماج وادی پارٹی کو 111 نشستیں ملی تھیں۔ بی جے پی کا ووٹ شیئر تقریباً 41.29 فیصد اور ایس پی کا تقریباً 32.06 فیصد رہا تھا۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ ایس پی 2022 میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے بہت دور تھی۔
اسی لیے 2027 میں اکھلیش کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایس پی اپنے موجودہ سماجی اتحاد کو کانگریس کے ووٹ اور تنظیمی نیٹ ورک کے ساتھ جوڑ کر 2022 کی کمی پوری کر سکتی ہے؟
اکھلیش کا نیا انتخابی فلسفہ: ’جو جیت سکتا ہے، اسے سیٹ‘
اکھلیش یادو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ سیٹوں کی تقسیم کا بنیادی معیار صرف پارٹی کا مطالبہ نہیں بلکہ Winnability یعنی جیتنے کی صلاحیت ہونا چاہیے۔
رائے بریلی میں پی ڈی اے رتھ یاترا کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اتحاد ہوگا اور مل کر انتخاب لڑا جائے گا، لیکن ان کے لیے بات نشستوں کی تعداد سے زیادہ جیتنے والی نشستوں کی ہوگی۔ ان کا مؤقف تھا کہ جس پارٹی کا امیدوار کسی نشست پر جیتنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو، اسے وہ نشست ملنی چاہیے۔ یہ فارمولہ اگر مذاکرات کی بنیاد بنتا ہے تو 150 بمقابلہ 350 کی موجودہ کشمکش کو نسبتاً آسان کیا جا سکتا ہے۔
مثلاً:جہاں کانگریس کا مضبوط امیدوار ہو، وہاں کانگریس کو موقع،جہاں ایس پی کا تنظیمیں ڈھانچہ مضبوط ہو، وہاں ایس پی، جہاں دونوں کمزور ہوں، وہاں مشترکہ سروے یا مقامی سیاسی صورتحال کے مطابق فیصلہ،اور جہاں 2024 کا اتحاد کامیاب رہا ہو، وہاں موجودہ سیاسی طاقت کو ترجیح۔
کانگریس کے لیے نئی یوپی قیادت بھی اہم
اتحاد کے مذاکرات میں کانگریس نے اترپردیش میں اپنی قیادت میں بھی تبدیلی کی ہے۔ آرادھنا مشرا ’مونا‘ کو نیا یوپی کانگریس صدر مقرر کیا گیا ہے جبکہ عمران مسعود کو ورکنگ صدر بنایا گیا ہے۔ کانگریس کی اس تنظیم نو کو 2027 کے انتخابات سے قبل پارٹی کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آرادھنا مشرا نے بھی واضح کیا ہے کہ سیٹوں کی تقسیم کا حتمی فیصلہ ریاستی سطح پر نہیں بلکہ دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مذاکرات اکھلیش یادو اور کانگریس کی مرکزی قیادت کے درمیان ہونے ہیں۔
مسلم ووٹ، پسماندہ، دلت: پی ڈی اے بمقابلہ بی جے پی کا سماجی فارمولہ
2027 کی لڑائی صرف سیٹوں کی تقسیم تک محدود نہیں ہوگی۔ اصل مقابلہ سماجی اتحاد بنانے کا ہوگا۔اکھلیش یادو نے اپنی سیاست میں PDA یعنی پسماندہ، دلت اور اقلیت کو بنیادی انتخابی سماجی اتحاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ یادو، مسلم، دیگر پسماندہ طبقات، دلت اور بی جے پی سے ناراض مختلف سماجی گروہوں کو ایک انتخابی پلیٹ فارم پر لایا جائے۔
دوسری جانب بی جے پی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے غیر یادو او بی سی، دلت اور دیگر سماجی گروہوں کی حمایت کو برقرار رکھے۔
یہیں کانگریس کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔ کانگریس اگر شہری، اعلیٰ ذات، مسلم، دلت اور روایتی کانگریسی ووٹ کے ایک حصے کو واپس لانے میں کامیاب ہوتی ہے تو ایس پی کے PDA فارمولے کو اضافی طاقت مل سکتی ہے۔
