مائیکرو بک‘ کے ذریعے اے آئی کی مدد سے ایم سی اے کی تعمیل اور دستاویزات کی تیاری کے عمل میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئے گی: شوبھارام دھاما
نئی دہلی، 24اکتوبر (نمائندہ)۔کارپوریٹ تعمیل اور دستاویزات کے انتظام کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے نئی تبدیلی لانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’ایک مائیکرو بک‘ سافٹ ویئر کا شاندار افتتاح ہفتہ کے روز نئی دہلی کے این سی یو آئی آڈیٹوریم، اگست کرانتی مارگ میں کیا گیا۔ یہ جدید سافٹ ویئر وزارتِ کارپوریٹ امور سے متعلق تعمیل، دستاویزات کی تیاری، ای فائلنگ اور پیشہ ورانہ دفاتر کے انتظام جیسے پیچیدہ عمل کو اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے آسان، تیز، درست اور منظم بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
’ایک مائیکرو بک‘ کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا اے آئی پر مبنی تعمیل اور دستاویزات کے انتظام کا نظام ہے، جس کے ذریعے ایم سی اے سے متعلق مختلف قانونی تقاضوں، دستاویزات کی تیاری اور ای فائلنگ کے عمل کو زیادہ آسان بنایا جا سکے گا۔ اس کا مقصد پیچیدہ کارروائیوں کو آسان بنا کر کارپوریٹ تعمیل کو عام لوگوں، نئے کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباروں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے۔
سافٹ ویئر کے بانی شری شوبھارام دھاما نے اس کی خصوصیات اور فوائد کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’ایک مائیکرو بک‘ کے ذریعے اے آئی کی مدد سے ایم سی اے کی تعمیل اور دستاویزات کی تیاری کے عمل میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سافٹ ویئر کو اس مقصد کے تحت تیار کیا گیا ہے کہ ایک عام شخص بھی بغیر کسی خاص تکنیکی مہارت کے ایم سی اے سے متعلق ضروری قانونی تقاضوں، فارم بھرنے اور ای فائلنگ جیسے کاموں کو آسانی سے سمجھ سکے اور خود مکمل کر سکے۔ اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجی دستاویزات تیار کرنے، ضروری معلومات کو منظم کرنے اور مختلف قانونی کارروائیوں کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ دھاما نے کہا کہ ’ایک مائیکرو بک‘ ہندوستان کے اسٹارٹ اَپس کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا۔ موجودہ وقت میں نئے کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباروں کو کمپنی قائم کرنے سے لے کر مختلف قانونی تقاضوں کو پورا کرنے، ضروری دستاویزات تیار کرنے، مقررہ وقت پر ریٹرن داخل کرنے اور سرکاری کارروائیوں کو مکمل کرنے میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسے میں یہ سافٹ ویئر ان کارروائیوں کو آسان اور منظم بنا کر وقت، وسائل اور کاروباری اخراجات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے کاروباری افراد پیچیدہ کارروائیوں میں الجھنے کے بجائے اپنے کاروبار کی ترقی اور توسیع پر زیادہ توجہ دے سکیں گے۔’ایک مائیکرو بک‘ ایک ایسا مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس میں اے آئی پر مبنی ایم سی اے تعمیل سے متعلق معاونت، دستاویزات کی خودکار تیاری اور انتظام، کاموں کی پیش رفت کی نگرانی، صارفین کے ریکارڈ کی دیکھ بھال، مقررہ وقت پر یاد دہانی، دفتری انتظام اور ایم سی اے کی ای فائلنگ سے متعلق سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کرنے کی سمت میں کام کیا جا رہا ہے۔
اس ڈیجیٹل نظام سے پیشہ ور افراد کو اپنے روزمرہ کے کام بہتر انداز میں منظم کرنے، قانونی تقاضوں کی آخری تاریخوں پر نظر رکھنے اور دستاویزات کو منظم طریقے سے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔ دھاما نے مزید بتایا کہ جلد ہی یہ سافٹ ویئر ’ایک مائیکرو بک کنیکٹ‘ (Ek Microbook Connect) ایپ کی شکل میں موبائل فون پر بھی دستیاب ہوگا۔
اس موبائل ایپ کے ذریعے صارفین اپنے دفتر سے متعلق اہم کاموں، دستاویزات، قانونی تقاضوں کی موجودہ صورتِ حال اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ کہیں سے بھی ان کی نگرانی کر سکیں گے۔ اس سے پیشہ ور افراد اور کاروباری حضرات کو دفتری انتظام میں زیادہ سہولت حاصل ہوگی۔یہ سافٹ ویئر خصوصی طور پر کمپنی سکریٹریز (CS)، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس (CA)، کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (CMA)، کارپوریٹ وکلاء، ٹیکس مشیروں، اسٹارٹ اَپس اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد پیشہ ورانہ خدمات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا، دستی کاموں پر انحصار کم کرنا، وقت کی بچت کرنا اور کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
اس شاندار افتتاحی تقریب میں انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا کے بانی صدر آر کرشنن مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ تقریب میں آئی سی ایس آئی کے سابق صدور شری نثار احمد، شری منیش گپتا اور رنجیت پانڈے، آئی سی ایس آئی کی نارتھ انڈیا ریجنل کونسل کے سابق صدر پردیپ دیب ناتھ اور انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا کی مرکزی کونسل کے رکن انوج گوئل سمیت متعدد ممتاز شخصیات اور پیشہ ورانہ شعبے سے تعلق رکھنے والے معزز افراد نے شرکت کی۔معزز مہمانوں اور پیشہ ورانہ شعبے کی اہم شخصیات کی موجودگی نے تقریب کی اہمیت میں اضافہ کیا۔ اس پروگرام نے کارپوریٹ تعمیل اور پیشہ ورانہ خدمات کے شعبے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی افادیت کو بھی اجاگر کیا۔
