نومبر 3, 2026
Delhi دہلیTop News

دہلی پولیس ہیڈکوارٹر پر احتجاج کرنا پڑا بھاری، اے سی پی منسوی وششٹھ معطل، جانئے کیا ہے پورا معاملہ!

نئی دہلی، 3 نومبر: دہلی پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) منسوی وششٹھ کو پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج میں حصہ لینے اور اس کی قیادت کرنے کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے ان کی معطلی کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک دن قبل دہلی پولیس کے متعدد اہلکاروں نے اپنے ہی محکمے کے اعلیٰ افسران کے خلاف نہیں بلکہ دو پولیس افسران کے تبادلوں کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ 

کیا ہے پورا معاملہ؟

یہ تنازع مشرقی دہلی کے شاہدرہ پولیس اسٹیشن میں 23 اکتوبر کو پولیس اہلکاروں اور وکلا کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے سے شروع ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران وکیل للت بنسل کے سر میں شدید چوٹ آئی تھی۔ اس واقعے کے بعد وکلا نے پولیس کارروائی کے خلاف احتجاج شروع کردیا اور ضلع عدالتوں کے وکلا نے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

وکلا نے الزام لگایا تھا کہ پولیس اسٹیشن میں ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور اے سی پی منسوی وششٹھ نے مبینہ طور پر پستول بھی دکھائی تھی۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ تنازع کے بعد 28 اکتوبر کو اے سی پی منسوی وششٹھ اور شاہدرہ تھانے کے انسپکٹر ارون کمار کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔ اے سی پی وششٹھ کو گاندھی نگر سے اسپیشل پولیس یونٹ فار ویمن اینڈ چلڈرن (SPUWAC) بھیج دیا گیا، جبکہ انسپکٹر ارون کمار کو سکیورٹی یونٹ میں تعینات کیا گیا۔ 

پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئے اہلکار

دونوں افسران کے تبادلوں کے خلاف 2 نومبر کو دہلی پولیس کے متعدد اہلکار پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئے۔ احتجاج میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل تھیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے اور اے سی پی منسوی وششٹھ اور انسپکٹر ارون کمار کی سابقہ تعیناتی بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

احتجاج کی قیادت اے سی پی منسوی وششٹھ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی شکایات اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لیے خود جمع ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پولیس کمشنر سے ملاقات کے لیے باضابطہ درخواست بھی دی گئی ہے۔

موقع پر پہنچنے والے سینئر افسران نے احتجاج کرنے والے اہلکاروں کو سمجھانے اور انہیں محکمانہ طریقہ کار کے تحت اپنی شکایات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ نئی دہلی کے ڈی سی پی سچن شرما نے بھی اہلکاروں سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ 

پولیس اہلکاروں کے کیا مطالبات تھے؟

احتجاج میں شامل اہلکاروں نے پولیس کمشنر کے سامنے اپنی شکایات رکھنے کے لیے ایک کھلی میٹنگ کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اسٹیشنوں میں وکلا کے داخلے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے واضح ضابطہ کار (ایس او پی) بنایا جانا چاہیے۔

اے سی پی وششٹھ نے پولیس اسٹیشنوں میں وکلا کی جانب سے مبینہ بدسلوکی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے واضح رہنما اصول وضع کرنے، پولیس ہیڈکوارٹر میں شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے اور عدالتوں میں پولیس اہلکاروں کی حفاظت کے لیے اضافی سکیورٹی تعینات کرنے جیسے مطالبات بھی اٹھائے۔

احتجاج کے بعد پولیس کمشنر انوراگ کمار نے سینئر افسران کے ساتھ پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کی شکایات سنیں۔ دہلی پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پولیس کمشنر نے اہلکاروں کے پیشہ ورانہ کردار اور خدمات کی ستائش کرتے ہوئے جائز شکایات پر مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

Related posts

بہار کے ماڈل اسکولوں میں اردو کی ویکنسی صفر دکھانے سے محبان اردو میں شدید ناراضگی

Hamari Duniya News

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com

ہند۔ پاک کرکٹ شائقین کیلئے خوشخبری، پاکستان کا 15فروری کو ہندوستان کے خلاف میچ کھیلنے کا اعلان

Hamari Duniya News