رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی مہاریلی، راہل گاندھی، کھڑگے، پرینکا اور اکھلیش سمیت کئی بڑے رہنما شریک، ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعروں سے گونجا رام لیلا میدان، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، ایس آئی آر کی منسوخی اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ
نئی دہلی، یکم نومبر(ہماری دنیا نیوز): دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں اتوار کو انڈیا اتحاد نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹوں کی مبینہ چوری کے خلاف بڑی مہاریلی منعقد کی۔ ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ مہم کے تحت منعقدہ اس ریلی میں کانگریس سمیت انڈیا اتحاد کی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں، طلبہ تنظیموں اور سماجی حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ریلی کے دوران ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعروں سے رام لیلا میدان گونجتا رہا۔
اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، جس سے شہریوں کے حق رائے دہی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اتحاد نے ایس آئی آر کو منسوخ کرنے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے تحفظ اور ہر شہری کے ووٹ کے حق کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
مہاریلی سے پہلے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ’چلو دہلی‘ مارچ نکالا۔ مارچ منٹو روڈ اور کناٹ پلیس کے علاقے سے شروع ہوکر اجمیری گیٹ اور جواہر لعل نہرو مارگ سے گزرتا ہوا رام لیلا میدان پہنچا۔ کئی سینئر رہنما کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ سے کھلی بس کے ذریعے مارچ کے مقام تک پہنچے۔
ریلی میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو، این سی پی کی سپریا سولے، سی پی آئی کے ڈی راجا، سی پی آئی (ایم) کے رہنما ایم اے بیبی اور دیگر اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔ مختلف ریاستوں سے آئے کارکنوں، طلبہ اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی مارچ اور جلسے میں حصہ لیا۔
کھڑگے کا اعلان: گیانیش کمار کے استعفے تک جدوجہد جاری رہے گی

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ انڈیا اتحاد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی عمل میں مداخلت اور ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے ذریعے جمہوری حقوق کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں عوام کے ووٹ کے حق اور آئین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت انتخابی عمل کو اپنے سیاسی مفادات کے مطابق چلانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اتحاد اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھے گا۔
راہل گاندھی کا مودی، امت شاہ اور گیانیش کمار پر سخت حملہ
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹیں گے اور انہیں جیل بھی جانا پڑے گا۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ کوئی عام چوری نہیں ہے، جیسی کوئی شخص دکان سے چوری کرتا ہے، بلکہ یہ ہندوستان کے ہر شہری کے ووٹ اور اس کی آواز کی چوری ہے۔ انہوں نے ووٹوں کی مبینہ چوری کو ملک سے غداری قرار دیا۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ملک کے تمام آئینی اداروں پر موجودہ حکمرانوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق اسی کا نتیجہ ہے کہ کسانوں کو ان کا حق نہیں مل رہا، نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا اور ملک کی دولت اڈانی اور امبانی جیسے بڑے صنعت کاروں کے پاس جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں کروڑ روپے کے قرض معاف کر دیے جاتے ہیں، لیکن اگر کوئی عام آدمی ایسا کرے تو اسے جوتے مار کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان ایسا ہونا چاہیے جہاں ہر شہری کو برابری کا حق حاصل ہو، کسان اپنے خواب پورے کر سکے اور اگر کوئی طالب علم 18 گھنٹے پڑھائی کرتا ہے تو اسے تعلیم اور روزگار کی صورت میں اپنی محنت کا پھل ملنا چاہیے۔
’مودی، امت شاہ اور گیانیش کمار کے خلاف بھی ہوگی کارروائی‘
راہل گاندھی نے امت شاہ کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کہیں نہیں جا رہے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ مودی کہیں نہیں جا سکتے اور انہیں بھی جیل جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کے بعد اب وہ نریندر مودی اور امت شاہ کے خلاف بھی کھڑے ہوں گے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ مودی، امت شاہ یا گیانیش کمار، کسی سے بھی ان کی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم محبت کی دکان چلانے والے لوگ ہیں۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ووٹ چوری کرنے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے خطاب کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ ووٹ کے حق کو متاثر کرنے کے ذمہ دار افراد کو جواب دہ بنایا جائے گا۔
تاجروں سے خریداری کی اپیل، کناٹ پلیس کی دکانیں بند ہونے پر بی جے پی پر الزام
راہل گاندھی نے ریلی سے پہلے دہلی آنے والے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ احتجاج اور مارچ میں شرکت کے ساتھ مقامی دکانداروں سے خریداری بھی کریں، تاکہ دیوالی، چھٹھ اور بھائی دوج کے تہواروں کے دوران چھوٹے تاجروں کو فائدہ پہنچ سکے۔
ریلی کے دن انہوں نے الزام لگایا کہ کناٹ پلیس پہنچنے پر کئی دکانیں بند نظر آئیں اور اس کے لیے بی جے پی ذمہ دار ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ لوگوں سے خریداری کی اپیل کی گئی تھی، لیکن دکانیں بند ہونے سے تاجروں کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تاجروں کے کاروبار کو نقصان کون پہنچا رہا ہے۔ اس سے قبل بعض تجارتی تنظیموں نے بھی بڑے اجتماع کے سبب دہلی کے بازاروں میں کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

ایک دن پہلے گیانیش کمار کے خلاف علامتی عوامی مواخذہ
رام لیلا میدان کی مہاریلی سے ایک دن پہلے، 31 اکتوبر کو انڈیا اتحاد نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف علامتی عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کیا تھا۔ سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے اس کارروائی کی صدارت کی، جبکہ کھرگے نے گیانیش کمار کے خلاف قرارداد پیش کی اور راہل گاندھی نے اختتامی خطاب کیا۔

اس پروگرام میں اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل پر اپنے اعتراضات پیش کیے۔ واضح رہے کہ یہ اپوزیشن کا علامتی سیاسی پروگرام تھا، پارلیمنٹ کے ذریعے ہونے والا کوئی باضابطہ مواخذہ نہیں تھا۔
ریلی کے پیش نظر دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات
ریلی اور مارچ کے پیش نظر دہلی کے وسطی علاقوں میں بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چار ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے ساتھ نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے، جبکہ رام لیلا میدان اور مارچ کے راستے پر نگرانی کے لیے 200 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمرے، ڈرون اور دیگر انتظامات کیے گئے تھے۔ میدان کو مختلف حفاظتی حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے بیریکیڈنگ بھی کی گئی۔
انڈیا اتحاد نے ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی توقع ظاہر کی تھی، جبکہ پولیس نے بھیڑ کے انتظام اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی منصوبہ تیار کیا تھا۔
