اکتوبر 30, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

کشمیر سے کنیا کماری تک 600 حفاظ و قراء کی دہلی آمد متوقع، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا دو روزہ مسابقہ قرآن کل سے

22ویں آل انڈیا مسابقہ حفظ، تجوید و تفسیر قرآن کریم کا یکم نومبر سے آغاز، ملک بھر کے مدارس، جامعات اور تعلیمی اداروں کے طلبہ لیں گے حصہ

نئی دہلی، 30 اکتوبر (ہماری دنیا نیوز): مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام 22واں دو روزہ آل انڈیا مسابقہ حفظ، تجوید و تفسیر قرآن کریم یکم نومبر 2026 کو صبح 8 بجے اہل حدیث کمپلیکس، اوکھلا، نئی دہلی میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شروع ہوگا۔ یہ مسابقہ 2 نومبر کی شام تک جاری رہے گا۔ اس میں کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک ملک کے مختلف دینی مدارس، عربی جامعات اور عصری تعلیمی اداروں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تقریباً 600 حفاظ، قراء اور طلبہ کی شرکت متوقع ہے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مسابقے میں بحیثیت حکم بلا تفریق مسلک ملک کے ممتاز جامعات اور مدارس سے تعلق رکھنے والے نامور قراء بھی شرکت کریں گے۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مسابقے کا افتتاحی اجلاس یکم نومبر کو صبح 8 بجے منعقد ہوگا، جبکہ صبح 10 بجے سے تمام زمروں کے امتحانات کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا۔ مسابقے کا اختتامی اجلاس 2 نومبر، بروز پیر، بعد نماز مغرب اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا میں منعقد ہوگا۔ اس موقع پر ملک و ملت کی سرکردہ شخصیات اور جماعت کے اکابرین کے ہاتھوں مختلف زمروں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا جائے گا۔

قرآن کریم پوری انسانیت کے لیے کتابِ ہدایت ہے: مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مسابقے کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم پروردگار عالم کی نازل کردہ مکمل کتابِ ہدایت اور نظامِ حیات ہے، جس میں ملت اسلامیہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فلاح و بہبود، ترقی، امن و سکون، اخوت و محبت اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ایسا دستورِ حیات ہے جسے اپنا کر قومیں سربلندی اور کامیابی سے ہمکنار ہوئیں، جبکہ اس سے روگردانی کے نتیجے میں زوال و انحطاط، ذلت و پستی اور مختلف طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مزید کہا کہ آج دنیا ترقی کے بلند بانگ دعووں کے باوجود عائلی، سماجی، معاشی، روحانی، جسمانی، تہذیبی، جغرافیائی اور سیاسی سمیت متعدد ملکی و بین الاقوامی مسائل اور چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں قرآن کریم کی تعلیم و تعلم پوری انسانیت کی بھلائی، امن و سکون اور حقیقی کامیابی کی کلید ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کے پیغامِ امن و انسانیت کو عام کرنے، اس کی تعلیم و تدریس، تلاوت و تفہیم اور اس کی تعلیمات پر عمل کو معاشرے میں فروغ دینے کے ساتھ نئی نسل میں قرآن فہمی اور مسابقت کا جذبہ پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

امیر جمعیت نے بتایا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اسی مقصد کے تحت ہر سال آل انڈیا مسابقہ حفظ، تجوید و تفسیر قرآن کریم کا اہتمام کرتی ہے، جس کے مثبت اثرات قومی اور ملی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مسابقے میں ہوں گے چھ مختلف زمرے

واضح رہے کہ اس سال منعقد ہونے والے مسابقے کو چھ زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں:

  1. مکمل حفظ قرآن کریم۔

  2. حفظ قرآن کریم 20 پارے۔

  3. حفظ قرآن کریم 10 پارے۔

  4. حفظ قرآن کریم 5 پارے۔

  5. مکمل ناظرہ قرآن کریم۔

  6. ترجمہ و تفسیر قرآن کریم۔

ان زمروں کے ذریعے حفظ قرآن کے ساتھ اس کی درست تلاوت، ترجمہ اور تفہیم کے میدان میں بھی طلبہ کی صلاحیتوں کو جانچا جائے گا۔

Related posts

اگر آپ کو بھی ہے کمر درد ، تو ماہرین کے انتباہ کو نہ کریں نظرانداز

Hamari Duniya News

جیو سمیت 10 ممالک کی 15ممتاز ٹیک کمپنیوں نے قائم کیا’ ٹرسٹڈ ٹیک ایلائنس‘، میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں اعلان

Hamari Duniya News

وزیراعظم کا قوم کیلئے صبح کا پیغام، خود انحصاری قوم کی تعمیر کی بنیاد

Hamari Duniya News