19.2 C
New York
اکتوبر 29, 2026
National قومی خبریںTop News

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کا احتجاج ختم، یونین انتخابات اور تادیبی کارروائیاں واپس لینے کا حکم جاری

جامعہ ملیہ

15 مئی 2027 تک طلبہ یونین کے آئین کی منظوری، تعلیمی سیشن شروع ہونے کے چھ ہفتوں کے اندر انتخابات کرانے کی یقین دہانی

نئی دہلی، 29 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز): جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے مطالبے پر جاری طلبہ کا احتجاج بالآخر ختم کرنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے 29 اکتوبر 2026 کو باضابطہ حکم جاری کرتے ہوئے طلبہ یونین کے آئین کی منظوری اور نفاذ کے لیے 15 مئی 2027 کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔ ساتھ ہی احتجاج میں شرکت کے سلسلے میں جاری شوکاز نوٹس، تادیبی کارروائیوں، یونیورسٹی سے اخراج، معطلی اور کیمپس میں داخلے پر پابندی کے احکامات واپس لینے کی ہدایت دی ہے۔ جس کے طلبہ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے دستخط سے جاری حکم نامے کے مطابق، یونیورسٹی کی مجاز اتھارٹی نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ اور ان کے نمائندوں کی جانب سے 29 اکتوبر کو پیش کی گئی درخواست پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلے کیے ہیں۔ حکم نامے میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے فوری طور پر احتجاج اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کو کہا گیا ہے۔

15 مئی 2027 تک آئین کی منظوری کا فیصلہ

انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین (جے ایم آئی ایس یو) کے آئین کی منظوری اور اس کے نفاذ کا عمل 15 مئی 2027 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اس کے بعد لنگڈوہ کمیٹی کی سفارشات اور رہنما اصولوں کے مطابق طلبہ یونین کے انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

حکم نامے کے مطابق انتخابات تعلیمی سیشن شروع ہونے کے چھ ہفتوں کے اندر کرائے جائیں گے۔ دستاویز میں اس مدت کو 16 جولائی 2027 سے تقریباً چھ ہفتے کے اندر انتخابات کرانے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

احتجاج کے دوران جاری تادیبی کارروائیاں واپس ہوں گی

طلبہ کے لیے ایک اہم راحت کے طور پر یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کے دوران اس میں شرکت کے سلسلے میں جاری تمام شوکاز نوٹس، تادیبی کارروائیوں، اخراج، معطلی اور کیمپس میں داخلے پر پابندی کے احکامات منسوخ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

طلبہ نے اپنے مطالباتی خط میں یہ بھی درخواست کی تھی کہ احتجاج کے واقعات کے سلسلے میں مستقبل میں کسی قسم کی تادیبی یا قانونی کارروائی نہ کی جائے۔ تاہم، انتظامیہ کے جاری کردہ حکم نامے میں موجودہ کارروائیوں کو واپس لینے کا ذکر ہے؛ مستقبل میں کسی بھی قانونی یا تادیبی کارروائی سے مکمل استثنیٰ دینے کی الگ یقین دہانی واضح طور پر درج نہیں ہے۔

طلبہ نے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا تھا

29 اکتوبر کو وائس چانسلر کے نام پیش کیے گئے درخواست نامے میں طلبہ نے مطالبہ کیا تھا کہ یونین کے آئین کی منظوری اور انتخابات کے انعقاد کے لیے واضح تاریخیں تحریری طور پر دی جائیں۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ آئین کی منظوری اسی تعلیمی سال میں مکمل ہونی چاہیے اور انتخابات لنگڈوہ کمیٹی کے رہنما اصولوں کے مطابق کرائے جانے چاہئیں۔

درخواست نامے میں احتجاج کے دوران جاری تادیبی کارروائیوں کو واپس لینے اور احتجاج سے متعلق واقعات پر مستقبل میں کسی کارروائی سے تحفظ دینے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ طلبہ نے واضح کیا تھا کہ ان کے مطالبات کو باضابطہ تحریری حکم کے ذریعے قبول کیے جانے کے بعد ہی احتجاج ختم کیا جائے گا۔

طلبہ یونین کی بحالی کی جدوجہد میں اہم پیش رفت

جامعہ میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کا مطالبہ طلبہ کی طویل جدوجہد کا حصہ رہا ہے۔ تازہ حکم نامے کے ذریعے انتظامیہ نے پہلی بار آئین کی منظوری اور انتخابات کے لیے واضح مدت مقرر کی ہے، جبکہ احتجاج سے متعلق تادیبی کارروائیاں واپس لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے اس حکم سے طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان جاری تنازع کو حل کرنے کی سمت اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ حکم نامے میں طلبہ سے فوری طور پر احتجاج اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کو کہا گیا ہے۔

Related posts

ایران کی حمایت میں میدان میں کود پڑا متحدہ عرب امارات

Hamari Duniya News

جامعہ عربیہ دار الفلاح میں عظیم الشان جلسۂ دستار بندی، اکابر علماء کے بصیرت افروز خطابات

Hamari Duniya News

 موضوع ”1970کے بعد غزل میں لسانی تجربے“ پر مصلح الدین کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض

Hamari Duniya News