مسلمانوں کو کردار رحمت پیش کرنے کی ضرورت: عباس علی مہدی
تعلیمات نبوی پر عمل آوری فلاح دارین کا ضامن : پروفیسر عباس رضا نیر
رحمت چئیرٹیبل فاؤنڈیشن کے زیراہتمام سالانہ تقریب رحمت کا انعقاد
لکھنؤ،29 اکتوبر(سعید ہاشمی): علم کی اہمیت و افادیت درحقیقت اس کی نافعیت میں مضمر ہے ،نافع علم کے حصول کے لئے اسلامی تعلیمات انسانوں کو نہ صرف مہمیز کرتی ہیں بلکہ اس کے حصول و فروغ کو عبادت کا حصہ بناتی ہے۔
آج کے معاشرے کو حقیقی طور تعلیمات نبوی کو پیش کرنے اور ان کو اپنے کردار میں اتارنے کی ضرورت ہے ،درج بالا خیالات کا اظہار دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے کیا ۔
مولانا محترم رحمت چیئرٹیبل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جامعہ حفصہ للبنات یسین گنج لکھنؤ میں منعقدہ سالانہ تقریب رحمت کو بحیثیت صدر خطاب فرما رہے تھے۔
تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر عباس علی مہدی وائس چانسلر ایرا یونیورسٹی لکھنؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ وقت میں سماج میں حضرت محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے ، نبوت سے قبل حضرت محمد کے اخلاق حسنہ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہئیے،
انہوں نے کہا کہ رسول اللہ کے اخلاق کریمانہ میں فی آج کی معاشرتی برائیوں کا حقیقی ازالہ ہے ، عدم برداشت، غیر مستقل مزاجی وغیرہ مختلف برائیاں جو اس وقت سماج میں رائج ہیں وہ درحقیقت نبوی تعلیمات سے دوری کی ہی بنیاد پر ہے، آج معاشرے کو ضرورت ہے کہ ہم انہیں تعلیمات کو عام کریں اور سماج میں رائج کریں،
شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی کے صدر پروفیسر عباس رضا نیر نے اپنے خطاب میں پیام رحمت اور خواتین کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی آمد سے قبل تک مذاہب عالم میں خواتین سماجی طور پر مظلوم تھی ، ان کے حقوق کے حوالے سے عدم توجہی سماج میں راسخ تھی لیکن اسلام نے آنے کے بعد خواتین کو ان کے حقوق کی ادائیگی کے لئے معاشرے کو ذمہ دار بنایا اور مختلف رشتوں سے خواتین کو ایسا مربوط کیا کہ ان کی تکریم و تعظیم کو لازم قرار دیا
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث مولانا ڈاکٹر ابو سحبان روح القدس ندوی نے اپنے خطاب میں انسانی حقوق اور رسول اکرم کا کردار کے عنوان پر جامع گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی بازیافت تعلیمات اسلام میں ہی مضمر ہے ، اور حضور کی ذات درحقیقت اس کی مظہر ہے۔

شعبہ عربی خواجہ معین الدین چشتی یونورسٹی کے صدر ڈاکٹر عبد الحفیظ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پروفیسر ثمامہ فیصل ، ڈاکٹر عشرت ناہید ، تعلیم گاہ نسواں انٹر کالج کی سابق پرنسپل تبسم قدوائی ، ڈاکٹر محمد طارق صدیقی ،دارالعلوم فرنگی محل کے ترجمان مولانا محمد سفیان نظامی، سماجی کارکن عبد الوحید فاروقی ،محمد لقمان ندوی ،ڈاکٹر سحر حسین نے بھی خطاب کیا، رحمت چئیرٹیبل فاؤنڈیشن کے صدر مولانا محمد علی نعیم رازی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانان کا اعزاز کیا ، قاری رضی الدین صدیقی کی نظامت میں منعقدہ پروگرام کا آغاز قاری ساجد کی تلاوت اور عرفان ندوی کی نعت سے ہوا ،
اس موقع رحمت چئیرٹیبل فاؤنڈیشن کی جانب سے تعلیمی و فلاحی سرگرمیوں میں نمایاں کردار کی حامل مختلف شخصیات اور تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کو مولانا محمد سفیان قاسمی و پروفیسر عباس علی مہدی کے ہاتھوں نشان رحمت اعزاز سے نوازا گیا
اس موقع پر شہر کے مختلف اداروں سے وابستہ علماء و دانشوران بطور خاص حمام وحید، حسین آراء ، مولانا مسعود عالم ندوی، مولانا عبادالرحمان صدیقی ، مفتی عادل ندوی ، قاری محمد فیضیاب، قاری جنید ، حافظ محمد ابراہیم، سہیل خان ، وغیرہ کثیر تعداد میں لوگ موجود رہے۔
