جنوری 24, 2026
Health صحتTop News

طویل عرصے تک بیٹھنے والے اپنے دل کی حفاظت کیسے کریں؟

office work

’العربیہ کی ایک رپورٹ میںکہا یا ہے کہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق فلیوانولز سے بھرپور غذائیں اور مشروبات طویل عرصے تک بیٹھنے سے ہونے والے خون کی شریانوں کے نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان میں بیری، چائے، سیب اور کوکو جیسی غذاؤں میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔ ویب سائٹ ’’ ویری ویل ہیلتھ ‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق دل کی صحت کے لیے 6 مفید غذائی اجزاء کو خوراک میں شامل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو دفتری کام کرتے ہیں یا سست طرز زندگی گزارتے ہیں۔
طویل عرصے تک بیٹھنا
طویل عرصے تک بیٹھنا خون کی شریانوں پر دباؤ اور بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ 40 صحت مند نوجوانوں پر مشتمل ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے پایا ہے کہ دو گھنٹے بیٹھنے سے پہلے فلیوانولز سے بھرپور کوکو مشروب پینے سے دل اور شریانوں پر پڑنے والے ان منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
فلیوانولز سے بھرپور اشیاء
فلیوانولز سے بھرپور غذائیں درج ذیل فوائد فراہم کر سکتی ہیں۔ ان غذاؤں میں نمایاں غیر میٹھا کوکو ، سبز اور کالی چائے، پتے والی سبزیاں ، بیریز ، آلو بخارہ اور خشک میوہ جات شامل ہیں ۔ فلوریڈا یونیورسٹی میں غذائی علوم اور انسانی تغذیہ کی ماہر جانیٹ اینڈراڈے نے کہا ہے کہ فلیوانولز گوشت یا کینووا کے سوا مختلف نشاستہ دار غذاؤں میں نہیں پائے جاتے۔۔ یہ درحقیقت گہرے رنگ کے پھلوں اور سبزیوں جیسے کہ کیل، پالک اور گہرے رنگ کے لیٹس کے ساتھ ساتھ نیلی، سرخ اور کالی بیریز سے حاصل ہوتے ہیں۔ جانیٹ اینڈراڈے نے مزید کہا کہ اگرچہ تحقیق میں شامل افراد نے کوکو مشروب کا استعمال کیا لیکن یہ دل کی صحت کے لیے لازمی طور پر بہترین انتخاب نہیں ہے۔ غیر میٹھا کوکو کڑوا ہوتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اس میں چینی شامل کر دیتے ہیں جو اس کے فلیوانولز کے فوائد کو کم کر سکتی ہے۔
تحقیق میں استعمال ہونے والے کوکو مشروب میں 695 ملی گرام فلیوانولز شامل تھے جو روزانہ کی تجویز کردہ مقدار (400 سے 600 ملی گرام) سے تھوڑی زیادہ ہے۔ موازنے کے لیے ایک کپ چائے تقریباً 120 سے 320 ملی گرام فلیوانولز فراہم کرتی ہے۔ ایک کپ بلیک بیری تقریباً 65 ملی گرام فراہم کرتی ہے۔ یاد رہے شرکاء نے بیٹھنے سے ٹھیک پہلے یہ مشروب پیا تھا جو اس کے حفاظتی اثر کو بڑھانے کی وجہ ہو سکتی ہے۔
تیز ترین اثر
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برمنگھم میں غذائی علوم کی ماہر اور اس تحقیق کی سربراہ کیٹارینا رینڈیرو نے کہا کہ فلیوانولز عام طور پر کھانے کے 30 سے 60 منٹ بعد خون کی گردش میں جذب ہوتے ہیں۔ ان کا ارتکاز تقریباً دو گھنٹے بعد عروج پر ہوتا ہے اور چار گھنٹے بعد یہ خون سے ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی دورانیے میں وہ فوائد ظاہر ہوتے ہیں جو تحقیق میں دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیریز کا اثر کھانے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد عروج پر ہوتا ہے۔ مالٹے اور لیموں کا اثر ظاہر ہونے میں پانچ سے سات گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
بیٹھنے سے وقفہ لینا
بیٹھنے سے چند گھنٹے پہلے بیری کھانا یا سبز چائے پینا اچھا خیال ہے لیکن بیٹھنے سے باقاعدہ وقفہ لے لینا اب بھی سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ رینڈیرو نے کہا ہے کہ اگر ممکن ہو تو، کھڑے ہونا یا تھوڑی دیر کے لیے چلنا بنیادی حکمت عملی ہونی چاہیے۔ لیکن ایسی صورتحال میں جہاں یہ ممکن نہ ہو فلیوانولز سے بھرپور صحت بخش غذا خون کی شریانوں کے کام کرنے کی صلاحیت پر بیٹھنے کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ سابق تحقیقی مطالعے بتاتے ہیں کہ طویل بیٹھنے کے دوران کھڑے ہونا یا جسمانی سرگرمی کے لیے مختصر وقفہ لینا خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے، سوزش کم کرنے اور ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔

Related posts

بھارت منڈپم میں ورلڈ بک فیئر کا10 جنوری سے آغاز،قطر اور اسپین ہوں گے مہمان خصوصی

Hamari Duniya News

دی اسکالر اسکول جامعہ نگر میں اسکول مینجمنٹ ورکشاپ منعقد

Hamari Duniya News

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com