اکتوبر 30, 2026
National قومی خبریںTop News

کانگریس کے دور میں بینک بنتے تھے، مودی حکومت کے دور میں فروخت ہو رہے ہیں: راہل گاندھی

9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ منافع کمانے والے آئی ڈی بی آئی بینک کو فروخت کرنے کی کیا ضرورت؟ راہل نے ملازمین کے نام خط لکھ کر نجکاری پر اٹھائے سوالات

نئی دہلی، 30 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز): لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ جب ایک سرکاری بینک خسارے سے نکل کر 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا منافع کما رہا ہے تو پھر اسے نجی ہاتھوں میں سونپنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ راہل گاندھی نے کانگریس اور مودی حکومت کی پالیسیوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور میں ملک کی صنعتی ترقی کے لیے بینک قائم کیے جاتے تھے، جبکہ مودی حکومت کے دور میں بینک فروخت کیے جا رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان کے ساتھ آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے نام ایک تفصیلی خط بھی شیئر کیا۔ اس میں انہوں نے بینک کے ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی پیسے سے قائم ہونے والا ادارہ عوام ہی کا اثاثہ ہوتا ہے، اسے محض فروخت کیے جانے والے اثاثے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے ملازمین کے روزگار، سروس شرائط، پنشن اور درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کے مستقبل پر بھی تشویش ظاہر کی۔

‘کانگریس کے دور میں آئی ڈی بی آئی قائم ہوا، مودی کے دور میں اس کی قیمت طے کی جا رہی ہے’

راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں آئی ڈی بی آئی کو ملک کی صنعتی ترقی اور صنعتوں کو مضبوط بنانے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا، لیکن مودی حکومت کے دور میں پہلے بولی کا عمل ہوا اور پھر اس کی قیمت طے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں بینک بنائے جاتے تھے، جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں انہیں فروخت کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔

خسارے سے 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ منافع تک کیسے پہنچا بینک؟

راہل گاندھی نے ملازمین کے نام خط میں آئی ڈی بی آئی بینک کی مالی حالت میں آنے والی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً سات سال پہلے یہ بینک خسارے میں چل رہا تھا، لیکن گزشتہ مالی سال میں اس نے 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا منافع حاصل کیا۔ انہوں نے اس کامیابی کا کریڈٹ بینک کے ملازمین کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی ان کی محنت، لگن اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

راہل گاندھی کے مطابق گزشتہ سال مارچ 2025 میں آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کا ایک وفد پارلیمنٹ ہاؤس میں ان سے ملا تھا۔ ملازمین نے ان سے سوال کیا تھا کہ جس بینک کو انہوں نے اپنی محنت سے منافع بخش بنایا، حکومت اسے فروخت کیوں کرنا چاہتی ہے؟ راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے ملازمین کے اس سوال کو لوک سبھا میں اٹھایا اور حکومت سے پوچھا کہ منافع کمانے والے سرکاری بینک کو فروخت کرنے کی وجہ کیا ہے اور اس کے ملازمین و کھاتہ داروں کے مفادات کا تحفظ کیسے کیا جائے گا۔

حکومت اور ایل آئی سی کی حصے داری 95 فیصد سے گھٹ کر 34 فیصد رہ جائے گی

راہل گاندھی نے خط میں آئی ڈی بی آئی بینک کی ملکیت میں ہونے والی مجوزہ تبدیلی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق فی الحال مرکزی حکومت اور لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کی مشترکہ حصے داری بینک میں تقریباً 95 فیصد ہے، لیکن مجوزہ سودے کے بعد یہ گھٹ کر تقریباً 34 فیصد رہ جائے گی۔انہوں نے 2003 میں پارلیمنٹ میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اس وعدے کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق آئی ڈی بی آئی میں حکومت کم از کم 51 فیصد حصے داری برقرار رکھے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ممکن ہے یہ وعدہ قانون کا حصہ نہ ہو، لیکن پارلیمنٹ میں کیا گیا وعدہ ملک کے عوام سے کیا گیا وعدہ ہوتا ہے۔

نجکاری کے بعد ریزرویشن اور ملازمین کے حقوق کا کیا ہوگا؟

راہل گاندھی نے آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نجی ملکیت میں جانے کے بعد درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے امیدواروں کو ملنے والے ریزرویشن کے موجودہ انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے ملازمین کی سروس شرائط، پنشن اور دیگر مراعات کے تحفظ پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی ملازمین کی سروس شرائط کمزور ہوئی ہیں اور نجکاری کے بعد ان کے تحفظات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ ایسے مضبوط عوامی شعبے کی حامی رہی ہے جو نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ان کے بقول سرکاری بینک محض فروخت کیے جانے والے اثاثے نہیں بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی کے اہم ذرائع ہیں۔ انہوں نے ملازمین سے اتحاد برقرار رکھنے اور اپنے جائز مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل بھی کی۔

Related posts

قرآن و سنت اور سیرت طیبہ ہی اسلام کی تفہیم کی اساس: پروفیسر اقتدار محمد خان

Hamari Duniya News

شہزادہ محمد بن سلمان نے روضہ رسول پر حاضری دی، ریاض الجنہ میں ادا کی نماز

Hamari Duniya News

نانا پاٹیکر نہیں رہے، 75 سال کی عمر میں گوا میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

Hamari Duniya News