اکتوبر 30, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

نیتن یاہو انتخابی اکثریت کھو چکے ہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: گادی آئزنکوٹ کا انتباہ

تل ابیب، 30 اکتوبر: اسرائیل میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اپوزیشن رہنما اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو غیر معتبر ثابت کرنے کے لیے منظم مہم چلا رہے ہیں۔ آئزنکوٹ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی جماعت لیکوڈ نے انتخابات میں پارلیمانی اکثریت کھو دی ہے اور اب وہ نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آئزنکوٹ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کی جانب سے دیے جانے والے بیانات اور الزامات پہلے ہی تیار کرلیے گئے تھے۔ ان کے مطابق یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ نیتن یاہو انتخابات میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی نتائج کو مشکوک بنانے اور نئی پارلیمنٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اپوزیشن رہنما نے واضح کیا کہ وہ کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے نئے ارکان کی حلف برداری کے مقررہ پروگرام میں کسی بھی طرح کی تاخیر یا تبدیلی کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی برقرار رہنی چاہیے اور پارلیمنٹ کی کارروائی طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی آگے بڑھے گی۔

آئزنکوٹ نے یہ بھی کہا کہ بیرونی مداخلت سے متعلق الزامات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے، لیکن کسی کو بھی ان الزامات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور پارلیمنٹ کی حلف برداری میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

انتخابی نتائج میں نیتن یاہو کا اتحاد پیچھے

اسرائیل کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی مکمل نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ آئزنکوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں۔ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس طرح نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمانی اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے محروم رہا ہے۔ تاہم اپوزیشن کے لیے بھی حکومت بنانے کا راستہ آسان نہیں، کیونکہ اسے عرب جماعتوں کی حمایت سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

ادھر نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابات میں مبینہ بیرونی مداخلت اور بے ضابطگیوں کے الزامات اٹھائے ہیں، جن کی تحقیقات اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت کر رہی ہے۔ تاہم انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت عوام کے سامنے نہیں آیا ہے۔ اسرائیلی انتخابی حکام نے بھی منظم انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تائید نہیں کی ہے۔

اس سیاسی صورتحال کے درمیان آئزنکوٹ نے واضح کیا ہے کہ انتخابی نتائج کی تصدیق اور نئی کنیسٹ کی حلف برداری کا عمل مقررہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہنا چاہیے۔

Related posts

ابھشیک شرما کی طوفانی سنچری، ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو 6 وکٹوں سے روند دیا، سیریز پر قبضہ

Hamari Duniya News

سعودی عرب کے نئے سفیرفہد بن محمد بن منیخر نے صدر جمہوریہ کے سامنے اپنے کاغذات پیش کئے: راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کی طرف سے دل کی گہرائیوں سے شاندار مبارکباد

Hamari Duniya News

جشنِ مسرت کا دلکش منظر، کوتوالی انسپکٹر کے بیٹے کی سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی

Hamari Duniya News