ماہرینِ امراضِ اعصاب نے نوجوانوں میں کمر درد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا مستقبل میں سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، طرزِ زندگی میں تبدیلی، گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھ کر کام کرنا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی ریڑھ کی ہڈی کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک ڈیسک پر غلط انداز میں بیٹھنے، موبائل فون یا کمپیوٹر کی اسکرین کی جانب جھک کر دیکھنے اور مسلسل ایک ہی حالت میں رہنے سے کمر کے پٹھوں اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کمر میں درد اور اکڑن جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جم میں ورزش کے دوران بھی احتیاط ضروری ہے۔ مناسب تربیت کے بغیر بھاری وزن اٹھانا، غلط طریقے سے ورزش کرنا یا جسمانی صلاحیت سے زیادہ مشقت کرنا کمر میں چوٹ اور ڈسک سے متعلق مسائل کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق، ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان موجود ڈسکس جسم کو سہارا دینے اور جھٹکوں کو برداشت کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان ڈسکس میں خرابی یا ہرنیا کی صورت میں بعض افراد کو کمر میں درد، ٹانگوں میں درد، سن ہونا یا کمزوری جیسی علامات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ نوجوان اپنے بیٹھنے کے انداز کو درست رکھیں، کام کے دوران وقفے وقفے سے اٹھ کر چلیں، باقاعدگی سے مناسب جسمانی سرگرمیاں انجام دیں اور ورزش کرتے وقت درست تکنیک اپنائیں۔
اگر کمر کا درد مسلسل برقرار رہے، بار بار لوٹے یا روزمرہ کے کاموں میں رکاوٹ بننے لگے تو طبی مشورہ لینے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ بالخصوص ٹانگوں میں بڑھتی ہوئی کمزوری، شرم گاہ کے آس پاس سن ہونے یا پیشاب و پاخانے پر قابو پانے میں اچانک دشواری کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق، بروقت تشخیص، مناسب علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر کمر اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق متعدد مسائل کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
#BackPain #SpinalHealth #DiscHerniation #BackPainInYouth #HealthTips #HealthAwareness #نوجوانوں_میں_کمر_درد #ریڑھ_کی_ہڈی #صحت #ہماری_دنیا_نیوز
