19.8 C
New York
اکتوبر 20, 2026
National قومی خبریںTop News

موہن بھاگوت کا ’ریجیم چینج‘ پر آگیا بیان، آر ایس ایس کے صد سالہ جشن میں کیا کہا؟

آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کے اختتامی وجے دشمی پروگرام سے خطاب، عالمی طاقتوں پر ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کا الزام

ناگپور، 20 اکتوبر: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض عالمی طاقتیں بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ترقی کو روکنے کے لیے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ’ریجیم چینج‘ یعنی حکومت کی تبدیلی کی کوششیں نہ پہلے کامیاب ہوئی ہیں اور نہ آئندہ ہوں گی۔

موہن بھاگوت نے یہ بات منگل کو مہاراشٹر کے ناگپور میں واقع ریشم باغ میدان میں آر ایس ایس کے وجے دشمی اتسو اور تنظیم کے صد سالہ جشن کے اختتامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس تقریب میں روزنامہ دینک جاگرن کے چیف ایڈیٹر سنجے گپتا مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز اسلحہ پوجن سے ہوا، جس کے بعد تنظیم کے دیگر روایتی پروگرام منعقد کیے گئے۔

فرانس، بنگلہ دیش اور نیپال کی مثالیں دیں

بھاگوت نے فرانس، البانیہ، بنگلہ دیش اور نیپال میں پیش آنے والے سیاسی واقعات اور بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں حکومتوں کو تبدیل کرنے کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، ان سے ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت میں بھی اسی نوعیت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مغربی دنیا سے اٹھنے والی ایک ایسی آندھی کا ذکر کیا جو ان کے بقول مختلف نظاموں، تہذیبی اقدار اور انسانی ثقافتی روایات کے خلاف ہے۔ بھاگوت نے دعویٰ کیا کہ بعض عالمی طاقتیں بھارت کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتی ہیں اور ملک کی ترقی ان کے مفادات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

احتجاج کا مقصد مسائل کا حل ہونا چاہیے

آر ایس ایس سربراہ نے احتجاجی تحریکوں کے طریقہ کار پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مسائل اور نظام کی خامیوں کے خلاف احتجاج ہونا فطری ہے، لیکن تحریکوں کا مقصد مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق اگر احتجاج کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال ہونے لگے اور کسی فرد، گروہ یا نظریے کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا ذریعہ بن جائے تو وہ سیاسی مفادات حاصل کرنے کا آلہ بن جاتا ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ احتجاج کے دوران آئین، قانون اور عوامی زندگی کے آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے سیاسی رہنماؤں اور انتظامیہ پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے طرز عمل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، شہریوں کے وقار کا احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے سماج میں اختلافات اور تقسیم میں اضافہ ہو۔

انتخابی کمیشن کے خلاف احتجاج کے پس منظر میں خطاب

بھاگوت کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ملک میں سیاسی بحث جاری ہے۔ ان کے خطاب میں کسی ایک احتجاجی جماعت کا نام لے کر براہ راست الزام لگانے کے بجائے احتجاجی تحریکوں، سیاسی مفادات اور مبینہ بیرونی اثرات کے بارے میں عمومی موقف پیش کیا گیا۔

قومی یکجہتی اور ’وندے ماترم‘ پر زور

اپنے خطاب میں بھاگوت نے قومی یکجہتی اور ثقافتی شناخت کو بھی اہمیت دی۔ انہوں نے ’وندے ماترم‘ کو قومی اتحاد اور حب الوطنی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے پورے احترام اور فخر کے ساتھ گایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بنگال کی تقسیم کے خلاف تاریخی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد کے جذبے نے اس وقت اہم کردار ادا کیا تھا۔

مصنوعی ذہانت اور منشیات کے مسئلے کا ذکر

موہن بھاگوت نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اخلاقی ذمہ داری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی بذات خود ایک ذریعہ ہے، لیکن اس کا استعمال کس مقصد کے لیے اور کس طرح کیا جاتا ہے، یہ زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت، انتظامیہ اور سماج کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے نئی نسل میں اخلاقی اقدار اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

بھاگوت نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ بھارت کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کے مقام کو مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی کوشش، سماجی ہم آہنگی اور ہر شہری کی ذمہ داری اہم ہے۔ ان کے مطابق ملک کو مضبوط بنانے کا راستہ مسلسل محنت اور اتحاد سے ہوکر گزرتا ہے۔

Related posts

شدید حملوں اور سپریم لیڈر خامنہ ای کی موت کے بعد ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات منظرِ عام پر آنے لگے

Hamari Duniya News

دہلی ترنگا مارچ : ابھجیت دیپکے گرفتار، نیہا بورا رہا، دو ایف آئی آر درج

Hamari Duniya News

مشاورت کے وفد کی سفیر ایران سے ملاقات

Hamari Duniya News