نومبر 2, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

تو امت شاہ ملک کے سب سے بڑے غدار ہیں؟ مولانا محمود مدنی نے کیوں اٹھائے امت شاہ پر سوال؟

محمود مدنی
جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے غیر قانونی دراندازی روکنے کی ذمہ داری وزارت داخلہ پر عائد کی، مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے پر اٹھائے سوالات یکساں سول کوڈ (UCC) کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے منافی قرار دیا، آبادیاتی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے آزاد بین الاقوامی کمیشن کے قیام کا مطالبہ
نئی دہلی، یکم نومبر: جمعیۃ علماء ہند کی دو روزہ قومی مجلسِ منتظمہ کے اجلاس میں ملک بھر سے آئے تین ہزار سے زائد علماء نے شرکت کی۔ 30 اور 31 اکتوبر کو ہریانہ کے نوح، میوات میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں ملک کے موجودہ حالات، آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں سے متعلق مختلف مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے غیر قانونی دراندازی کے معاملے میں حکومت کی جواب دہی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ غیر قانونی دراندازی ہونے دیتے ہیں یا جان بوجھ کر اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سب سے بڑے غدار ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا: ’’میں بالکل واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم ہندوستان میں کسی بھی غیر ملکی شہری کی غیر قانونی موجودگی کی حمایت نہیں کرتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی غیر قانونی دراندازی کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً اس کی ذمہ داری وزارت داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ اور اگر وزیر داخلہ امیت شاہ ایسا ہونے دیتے ہیں تو وہ سب سے بڑے غدار ہیں۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ غیر قانونی دراندازی روکنے کی ذمہ داری جس وزارت پر عائد ہوتی ہے، اس کی جواب دہی طے کرنے کے بجائے مسلمانوں کو سیاسی طور پر نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
آبادیاتی تبدیلیوں کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مخالفت مجلسِ منتظمہ نے ہندوستان میں آبادی اور آبادیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پھیلائے جانے والے گمراہ کن بیانیے، بالخصوص ’’ڈیموگرافک جہاد‘‘ کے الزامات کے خلاف قرارداد منظور کی۔ قرارداد میں اس دعوے کو یکسر مسترد کیا گیا کہ مسلمان آبادی میں اضافے یا غیر قانونی دراندازی کے ذریعے ملک کا آبادیاتی توازن تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مردم شماری کے اعداد و شمار، قومی خاندانی صحت سروے (NFHS) اور دیگر سائنسی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا کہ 1981ء سے 1991ء کے دوران مسلم آبادی کی دہائی وار شرحِ اضافہ 32.9 فیصد تھی، جو 2001ء سے 2011ء کے دوران گھٹ کر 24.7 فیصد رہ گئی۔ قرارداد کے مطابق آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ سماجی، تعلیمی اور معاشی حالات کے تناظر میں کیا جانا چاہیے، نہ کہ انہیں غیر قانونی دراندازی سے جوڑ کر فرقہ وارانہ سلامتی کا مسئلہ بنایا جائے۔
مجلسِ منتظمہ نے وزارت داخلہ کی جانب سے 26 مئی 2026ء کو تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی آبادیاتی کمیٹی (High-Level Demographic Committee) کی ساخت اور اس کے قیام کے پس منظر میں موجود مفروضوں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اس کمیٹی میں ایک بھی ماہرِ آبادیات (Demographer) شامل نہیں ہے اور اس کی تشکیل اس پیشگی مفروضے کی بنیاد پر کی گئی ہے کہ آبادیاتی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ غیر قانونی دراندازی ہے۔ مجلسِ منتظمہ نے اس نقطۂ نظر کو جانب دارانہ اور غیر سائنسی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت بین الاقوامی سطح کے ممتاز ماہرین کو شامل کرکے ایک آزاد اور غیر جانب دار کمیشن تشکیل دے، جو نقل مکانی، تعلیم، روزگار اور سماجی و معاشی حالات سمیت آبادیاتی تبدیلیوں کے تمام پہلوؤں کا سائنسی مطالعہ کرے۔
یکساں سول کوڈ (UCC) کے خلاف جمعیۃ کا سخت موقف مجلسِ منتظمہ نے گجرات، اتراکھنڈ، آسام اور دیگر ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (UCC) نافذ کیے جانے کے خلاف بھی قرارداد منظور کی۔ جمعیۃ نے اسے مسلمانوں کی مذہبی آزادی، عائلی معاملات میں خود مختاری اور آئین کے ذریعے حاصل بنیادی حقوق کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا۔ مجلسِ منتظمہ نے ملک بھر کے مسلمانوں سے اسلامی شریعت کے ساتھ اپنی مضبوط وابستگی برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے بالخصوص خاندانوں میں خواتین کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ طلاق، نان و نفقہ اور مہر سے متعلق معاملات پوری دیانت داری کے ساتھ شریعت کے اصولوں کے مطابق طے کیے جانے چاہئیں، تاکہ مسلم خاندانوں میں عدل و توازن قائم رہے اور مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز باقی نہ رہے۔ اکثریتی طبقہ خطرے میں نہیں، اصل خطرہ اقتدار کی ہوس سے ہے: مولانا مدنی مولانا مدنی نے اکثریتی طبقے کے خطرے میں ہونے کے سیاسی بیانیے کو بھی چیلنج کیا۔
انہوں نے کہا: ’’آزادی سے پہلے، جب ملک نوآبادیاتی حکمرانی کے تحت تھا، تب کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اکثریتی طبقہ خطرے میں ہے۔ لیکن آزادی اور سیکولر آئین اختیار کیے جانے کے بعد اچانک یہ مہم شروع ہوگئی کہ اکثریتی طبقہ خطرے میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطرے میں اکثریتی طبقہ نہیں، بلکہ اقتدار اور سیاسی عہدوں کی ہوس ہے۔‘‘

Related posts

ایران: محسن رضائی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری مقرر، پزشکیان نے مذاکرات کا اشارہ دے دیا

Hamari Duniya News

دہلی کے ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ عمارت منہدم، طلبہ سمیت متعدد افراد ملبے میں دبے، 3 افراد کی موت 

Hamari Duniya News

اردو ادب و زبان کی ترقی و ترویج،نثر و نظم دونوں کا فروغ ناگزیر

Hamari Duniya News