اکتوبر 31, 2026
National قومی خبریںTop News

جیل سے رہائی کے چند منٹ بعد ہی اعظم خان گرفتار، ای ڈی نے حراست میں لیا، بولے: مسلمان ہونے کی یہی سزا ہے!

نئی دہلی/رام پور، 31 اکتوبر (ہماری دنیا ڈیسک)۔ اترپردیش کی سیاست میں ہفتہ کے روز اس وقت ایک اہم واقعہ پیش آیا جب سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق کابینی وزیر اعظم خان کو رام پور جیل سے رہائی کے فوراً بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے گرفتار کر لیا۔ اعظم خان تقریباً 11 ماہ جیل میں رہنے کے بعد ہفتہ کی شام باہر آئے تھے، لیکن جیل کے دروازے پر پہلے سے موجود ای ڈی کی ٹیم نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کارروائی کے بعد اعظم خان کو اپنے ساتھ لے جانے والی ای ڈی کی ٹیم کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ای ڈی کی ٹیم سی آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ رام پور ضلع جیل پہنچی تھی۔ اعظم خان کی رہائی سے تقریباً 15 منٹ پہلے ہی ای ڈی کے افسران جیل کے باہر پہنچ چکے تھے۔ ان کے ساتھ بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار بھی تعینات تھے۔ جیل سے باہر آتے ہی ای ڈی کے افسران نے اعظم خان کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

اعظم خان نے کیا کہا؟

جیل سے رہائی کے فوراً بعد ای ڈی کی کارروائی پر اعظم خان نے ناراضگی اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’’اب کہنے کے لیے بچا ہی کیا ہے؟ مسلمان ہونے کی یہی سزا ملتی ہے۔ ایک مسلمان نے یونیورسٹی بنائی، بس یہی غلطی ہے۔ یہی ہمارا واحد جرم ہے۔‘‘

ایک دوسری میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے ای ڈی کی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’’میں کیا کہوں، قانون ختم ہی ہوگیا۔‘‘

جوہر یونیورسٹی معاملے میں ای ڈی کی کارروائی

اعظم خان کے خلاف ای ڈی کی یہ کارروائی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں کی گئی ہے۔ ای ڈی اس معاملے میں مالی لین دین اور سرکاری ٹھیکوں سے حاصل ہونے والی مبینہ رقم کے استعمال کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ای ڈی کا الزام ہے کہ بعض سرکاری ٹھیکیداروں کے ذریعے سرکاری کاموں سے حاصل ہونے والی رقم مبینہ طور پر مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے لیے منتقل کی گئی۔ ایجنسی کے مطابق اس معاملے میں غیر قانونی طور پر حاصل ہونے والی رقم اور اس کے استعمال کی تحقیقات جاری ہیں۔

حال ہی میں ای ڈی نے جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو بھی منسلک (اٹیچ) کیا تھا۔ ایجنسی نے ان اثاثوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 1170 کروڑ روپے بتائی ہے۔ تاہم یہ ای ڈی کے الزامات اور تحقیقات کا حصہ ہیں، ان کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

دو پین کارڈ معاملے میں ملی تھی ضمانت

واضح رہے کہ اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو دو پین کارڈ معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت ملی تھی۔ عدالت نے دونوں کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کر لی تھی، جس کے بعد ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے پر رام پور کی متعلقہ عدالت نے رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

تاہم ہائی کورٹ نے ان کی سزا پر تو روک لگا دی، لیکن سزا کے خلاف اپیل کے حتمی فیصلے تک ان کی سزاؤں کو ختم نہیں کیا اور نہ ہی ان کی سزا پر عمل درآمد کے خلاف درخواست منظور کی تھی۔

عبداللہ اعظم گھر روانہ، اعظم خان کی کل عدالت میں پیشی

اعظم خان کے ساتھ ان کے بیٹے عبداللہ اعظم بھی رام پور جیل سے باہر آئے، لیکن ای ڈی نے صرف اعظم خان کو اپنی تحویل میں لیا، جبکہ عبداللہ اعظم گھر روانہ ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ای ڈی اعظم خان کو اتوار کی صبح 10 بجے غازی آباد کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں پیش کرے گی۔ اس کے بعد عدالت ان کی تحویل اور آئندہ قانونی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

اس پورے واقعے نے اترپردیش کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب سب کی نظریں غازی آباد کی عدالت میں ہونے والی سماعت اور ای ڈی کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد پر لگی ہوئی ہیں۔

Related posts

ملت کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور نوجوانوں کو آگے بڑھائیں: مولانا محمود مدنی کا ملک بھر کے ذمہ داران کو واضح پیغام

Hamari Duniya News

بی آر ایس کے لیے بڑا دھچکا، کے سی آر کی بیٹی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

Hamari Duniya News

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے گرد گھیرا تنگ، دہلی، پٹنہ اور بنگلور سمیت ملک بھر میں مظاہرے

Hamari Duniya News