24.8 C
New York
اکتوبر 1, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

مصطفیٰ مسجد مرادآباد کے معاملے میں بڑی قانونی کامیابی، ایم ڈی اے نے نوٹس واپس لیا

الہ آباد ہائی کورٹ نے رِٹ پٹیشن نمٹا دی، صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں تحفظِ مساجد کی مہم جاری
نئی دہلی، یکم اکتوبر: مرادآباد کے پاکبڑا علاقے میں واقع مصطفیٰ مسجد کے تحفظ کے معاملے میں جمعیۃ علماء ہند کو ایک اہم قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مسجد کے خلاف مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (MDA) کی جانب سے جاری کیا گیا سابقہ شوکاز نوٹس واپس لے لیا گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران اتھارٹی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ نوٹس مبہم تھا، اس لیے اسے واپس لے لیا گیا ہے اور اب قانون کے مطابق نیا نوٹس جاری کیا جائے گا۔
یہ مقدمہ متولی مسجد ذیشان احمد فرید بنام ریاست اتر پردیش و دیگر کے عنوان سے الہ آباد ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ معزز جسٹس سدھارتھ ورما اور معزز جسٹس کنال روی سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 28 ستمبر 2026 کو معاملے کی سماعت کی اور جواب دہندہ کی جانب سے دیے گئے بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے رِٹ پٹیشن کو نمٹا دیا۔
واضح رہے کہ مسجد کے خلاف 21 اگست 2026 کو اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ، 1973 کی دفعہ 27(1) کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے مسجد کے متولی ذیشان احمد فرید نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عرضی میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نوٹس مبہم ہے اور اس میں متعدد اہم قانونی و دستاویزی امور واضح نہیں کیے گئے ہیں۔ عرضی گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی تھی کہ مسجد کے خلاف کسی بھی انہدامی یا جبری کارروائی کو قانون کے مطابق کیے جانے تک روکا جائے۔
سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ ایم۔ سی۔ چترویدی نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ نوٹس مبہم تھا، اس لیے اسے واپس لے لیا گیا ہے اور اب قانون کے مطابق نیا نوٹس جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے مذکورہ بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے رِٹ پٹیشن کو نمٹا دیا۔
مصطفیٰ مسجد کے اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جدوجہد صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت و رہنمائی میں جاری ہے۔ مسجد کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کی تیاری اور پیروی میں ایڈووکیٹ محمد طاہر حکیم ، ایڈووکیٹ محمد نظام پاشا  اور پروفیسر نثار احمد انصاری جنرل سکریٹری جمعیت علماء گجرات نے اہم کردار ادا کیا۔
عدالت میں مسجد کی جانب سے جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء سینئر ایڈووکیٹ ششی نندن اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ آدتیہ پریہار پیش ہوئے۔ اس سے قبل 24 ستمبر کی سماعت میں بھی مسجد کے قانونی تحفظ کے حوالے سے مؤثر انداز میں موقف پیش کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مقامی انتظامیہ کی جانب سے بھی عدالت میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ قانونی طریقۂ کار کے بغیر مسجد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔
اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ مصطفیٰ مسجد کے معاملے میں ہماری جدوجہد کو ایک سمت ضرور ملی ہے، لیکن آگے طویل قانونی جدوجہد باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قانونی جدوجہد کا مقصد صرف مسجد کا تحفظ نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ کسی بھی شہری یا مذہبی مقام کے خلاف کارروائی مقررہ قانونی طریقۂ کار اور عدالتی ہدایات کے مطابق ہی ہو۔ سابقہ نوٹس کا واپس لیا جانا اس قانونی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مذہبی معاملات میں مزید احتیاط اور حساسیت کی ضرورت ہے۔
جمعیۃ علماء ہند آئندہ بھی مصطفیٰ مسجد کے معاملے میں جاری قانونی کارروائی پر نظر رکھے گی اور ضرورت کے مطابق تمام قانونی ذرائع اختیار کرے گی۔

Related posts

ممتا بنرجی کی پارٹی کے بڑے رہنما سابق مرکزی وزیر نہیں رہے

Hamari Duniya News

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com

ناگرک وکاس کیندر کے کوآرڈینیٹرس کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر

Hamari Duniya News