24.8 C
New York
اکتوبر 1, 2026
Articles مضامین

گاندھی جینتی : باپو آج تم بہت یاد آئے

اسعداللہ 
موبائل: 9918427753
گاندھی جینتی کے موقع پرچلتے ہیں اس دلّی میں جوکبھی عالم میںایک شہر انتخاب ہوا کرتاتھا۔،اُس میں کڑاکے کی ٹھنڈ جاری ہے ۔ایسے میں عام انسانوں کا گھر سے نکلنا محال ہے۔لیکن ایک ایسا شخص جس کے بدن پر پورا کپڑا بھی نہیں ہے وہ روزانہ پرارتھنا(دعائیہ مجلس) کے لئے اپنے گھر سے نکلتا اور راستے میں لوگوں سے ملتے ملاتے اپنی سبھا کرتا اور پھر اپنے کام میں لگ جایا کرتا۔جانتے ہواُس دبلے پتلے شخص کو جس کے ہاتھ میں لاٹھی، سفید لباس،نہ کوئی فوج، نہ کوئی ہتھیار اور نہ ہی اقتدار کی ہوس۔اجی سمجھ گئے ’موہن داس کرم چند یعنی ’مہاتماگاندھی‘۔جنہیں پیار سے لوگ ’’باپو‘‘ کہا کرتے ہیں۔ہاں جی ہاں !آج انہیں باپو جی کی جینتی ہے یعنی یوم پیدائش ۔انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ملک کی آزادی ،ترقی ، سماج کی فلاح وبہبوداور اتحاد کے لئےوقف کر رکھا تھا۔وہ ایک تعلیم یافتہ، نہایت زیرک ،باخبر اور ملک کےلئے ایک وفادارخادم تھے۔ہندوستان ہی کیا بیرون ممالک کے افراد بھی ان کی عزت کرتے ہیں ۔ان کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ان کے اصول اور سچائی کی بابت ان کی نصیحت ،ملک و قوم سے محبت ،اہل علم کی قدر دانی ،سیاسیات کے باب میں ان کی رہنمائی،شہریوں کے حقوق، عائلی قوانین کی بابت ان کی تحریر،ذات پا ت پر ان کاکتھن،ہندو مسلم اتحاد پر ان کی تقاریر،صوبائی وفاق پر ان کی پالیسی جیسے نہ جانے کتنے ہی نکا ت پر دنیا غور و فکر کر رہی ہے اور سچائی کے موتی چن چن کر اُسے اپنے شہریوں کے دامن میں سجانے کی کوشش کررہی ہے ۔یہ ہمارے ملک کے لئے فخر کا باعث ہے کہ اس ملک نے ’باپو‘ جیسا انسان پید اکیا۔اقبال شکوہ کرتے ہیں ’آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر۔اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر ‘۔
باپو آئے بھی اور چلے بھی گئے ۔لیکن ان جیسا کو ئی دوسرا پید انہ ہوا۔کچھ لوگ باپوکی بات تو کرتے ہیں لیکن اپنی زہریلی طبیعت کے سبب باپو کی باتوں پر عمل نہیں کرتے۔یقینا باپو ہوتے تو جس لاٹھی کے سہارے وہ چلتے تھے اُسی لاٹھی سے انہیں ہونک دیتے ۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے باپو تو عدم تشدد کے حامی تھے تو لاٹھی سے ہونکنے کے کیا معنیٰ !تو دیکھو بھئی ایک لاٹھی حضرت موسیٰ ؑ کے پاس بھی تھی ۔اس سے وہ بکریوں کو چارہ کھلانےکے لئے پتے بھی توڑتے تھے اور ضرورت پڑنے پرفرعون وقت کے جادو گروں نے جب سانپ کا تماشہ دکھا یا تو ان کی ایسی بجائی کی کہ وہ لوگ ’نو دو گیارہ ہوگئے ‘۔باپو نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا بلکہ ان کے اصول ہی ان کے لئے ڈھال اور زرہ تھے ۔ انہوں نے سچائی کو اپنا راستہ، عدم تشدد کو اپنا ہتھیار اور عام انسانوں کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔
لیکن آج میںاپنے تصوراتی دنیا میں باپو سے کچھ باتیں عرض کرنا چاہوں گا ۔باپو!آپ اتنے مہان ہو کر بھی خاموش قدموں سے چلتے تھے لیکن آپ کے قدموں کی کڑک سے گوروں کی چولیں ہل گئیں !ایک سلطنت جس کے متعلق دعویٰ کیا جاتا تھا آدھی دنیا اسی کی ہے۔ اس کی تاریخ کا رخ موڑ دیا ۔آپ کی برپا کی ہوئی ستیہ گرہ کی تحریک نے نہ صرف لاکھوں ہندوستانیوں کو آزادی کی کوششوں میں متحرک کیا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں شہری حقوق اور آزادی کی تحریکوں کو بھی مہمیز کیا۔جب آپ کی برپا کی ہوئی تحریک جن میں چمپارن ستیہ گرہ، میوات کا کھیڑا ستیہ گرہ، تحریک عدم تعاون، نمک یعنی ڈانڈی مارچ اور بھارت چھوڑو تحریک سمیت کئی اہم تحریکوں کے بارے میں پڑھتا ہوں تو میرے من میں خیال آتا ہے کہ آپ ہمارے سدھارتھ نگر کیوں نہیں گئے !اگر میں اس وقت ہوتا تو آپ کو اپنے گاؤں ضرور مدعو کرتا اور اچھی والی بیل گا ڑی پر اپنے گاؤں لے جاتا لیکن پھر سوچتا ہوں کہ اس وقت تو پورا خطہ ’بستی‘ کہلاتاتھا۔ خیر کوئی بات نہیں باپوجی!آئیے ایک بات بتاتے ہیں ،جب سے آپ گئے ہیں تب سےدیس کی حالت بہت اچھی نہیں ہے ۔الگ الگ پارٹیاں سیاست کی روٹی سینکتی ہیں جس میںذات پات ،دھرم ،مسجد ،مندر،گرودوارا،چرچ،ہندو مسلم کا نمک ڈال کر بڑے مہنگے داموں میں وہ روٹیاں بیچی جاتی ہیں ۔ باپو! سچ کہتے ہیں آپ سے، کہ ہم نے تو وہ روٹیاں کبھی نہیں کھائیں۔لیکن میرا دل کرتا ہے کبھی کبھی کہ وہ روٹیاں مجھے بھی کھا لینی چاہئے لیکن پھر وہی آپ کی کتا ب کے کئی اقتباسات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں ۔ باپو! آپ اتنا سچ کیسے لکھ دیتے تھے ۔دیکھئے نا باپو! سچ تو ہم بھی لکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کو لکھنے کے لئے کسی اور ’صنف ‘کاسہارا لے رہے ہیں ۔سمجھ گئے نا آپ !۔
باپو! آج بھارت کو آزاد ہوئے کئی سال گزر گئے ۔آپ نے ہندوستان کے ایک ’خاص طبقے ‘ کو روک لیا تھا کہ پڑوسی ملک نہ جاؤ۔یہیں رہو۔ اس کے لئے آپ گھاسیڑہ بھی گئے تھے اور کئی کئی جگہوں پر آپ نے تقریریں بھی کی تھیں ۔آپ کی باتوں کی لاج میں کئی لاکھ افرادیہیں رہ گئے۔اب اس’خاص‘طبقے کی حالت یہ ہے کہ اُسے بات بات میں اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑ رہی ہے ۔آپ نے خواب ایک ایسے ہندوستان کا دیکھا تھا جہاں سب لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں ۔سبھی دھرموں کی عبادت گاہوں کو بنانے، ان میں عبادت کرنے کی آزادی ہو۔تعلیم کے حصول کے مواقع سب کے لئے برابر ہوں۔سیاست میں سبھی طبقوں کی نمائندگی ہووغیر وغیر ہ۔ لیکن باپو!حال یہ ہے کہ آزاد ہندستان میں سب کی حالت یکساں نہیں ہے ۔نہ تعلیم کے مواقع میسر ہیں اور نہ ہی عبادت گاہیں محفوظ ہیں ۔اس ’خاص‘ طبقے کی عبادت گاہوں کی مسماری نہ صرف جاری ہےبلکہ ان کے گھروں کو بھی معمولی سی غلطی پر بلڈوز کر دیا جاتا ہے ۔حد یہ ہے انہیں ہجومی تشدد کانشانہ اور غیر قانونی طورپر قتل کردیا جاتا ہے۔جو بچے ذرا تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ان کے نصیب میں جیل کی سلاخیں اور حبس بے جاہے۔لڑکیوں کا ریپ کر دیا جاتاہے اور گنہ گاروں کاپھول مالا سے سواگت ہوتاہے۔آپ ہوتے تو دیکھ کرپھر سے کوئی تحریک برپا کرتے ۔لیکن ہمیں یہ لکھتے ہوئے خدشہ ہورہاہے کہ آپ کوبھی دیس دروہی ثابت کردیا جاتا۔اچھا ہوا کہ آپ نے یہ سب نہیں دیکھا۔
باپو!اگرآپ کی بات کوئی اہل علم پیش کرتا ہے کہ گاندھی جی نے’ یہ کہاتھاوہ کہا تھا ‘’ہندوستان جنت نشاں دیکھنا چاہتے تھے‘تو اس پر میم بن جاتے ہیں۔ میم تو آپ سمجھتے بھی نہیںہوں گے۔ کیوں کہ جب آپ تھے تو ہندوستان میںنہ ٹی وی تھا اور نہ موبائل ۔فیسبک اور سوشل میڈیا کے بارے میں تو آپ جانتے بھی نہیں ہوں گے۔ آپ کے وقت میں تار تھا ۔آج تو واٹس ایپ اور انسٹاگرام ہے جسے ’یونیورسٹی ‘ کا درجہ حاصل ہے ۔خیر کیا کیا بتاؤں باپو!ایک میم ہر سال آپ کی جینتی پر بہت وائرل ہوتاہےسناؤں! اس میں ایک بندہ اپنے دوست سے کہتا ہے ـ:
’’ہے سرکٹ!یہ 2اکتوبرکیاہے!دوست کہتاہے’ڈرائی ڈے ہے بھائی ،اسٹاک لے کر رکھنے کا ہے کیا؟(یعنی شراب کی بوتل خرید کر رکھنا ہے کیا)اس پر وہ دوست پوچھتا ہے ’ڈرائی ڈے!کاہے کو ‘۔جواب ملتا ہے: ’کوئی آئیڈیا نہیں بھائی!میں پتہ لگاتاہوں ،ٹینشن نہیں لینے کا بھائی۔برٹھ ڈے ہے بھائی، دو اکتوبرکو باپو کا ہپی برتھ ڈے ہے بھائی ‘۔اس پر دوست پوچھتا ہے :’کس کا باپو؟!جواب ملتا ہے :’باپو بولے تو مہاتما گاندھی ۔پھر دوست تعجب سے پوچھتا ہے :’ارے وہ نوٹ والا؟۔کریکٹ ۔پھر وہ دوست پوچھتا ہے :’اور کیا ہے معلوم ہے ترے کو اس کے بارے میں ؟۔جواب ملتا ہےـ:’بھائی زیاستی(زیادہ)نہیں معلوم ہے۔باڈی بیڈی تھا نہیں اس کا۔لیکن ڈیرینگ (ہمت)بہت تھا ۔بھائی انگریزوں کی واٹ لگا دی اُس نے ۔ڈر کے بھاگ گئے سب لوگ ۔اپنے کو آزادی بھی دلائی ‘۔پھر دوست پوچھتا ہے ـ:’آرمی میں تھا کیا ؟۔جواب ملتا ہے:’بھائی یونیفارم میں کبھی فوٹو دیکھا نہیں‘۔
باپو! دونوں دوستوںکی یہ وائرل ویڈیو دیکھ کردیس کے کچھ لوگ ہنستے ہیں۔لیکن میرے خیال سےیہ گفتگو اس سماج پر طنز ہے جو آپ سے ناواقف ہیں ۔لیکن آپ کو جاننے اور سمجھنے کا خالی منھ دم بھرتے ہیں او رآج کےدن آپ کے نام پر ملی چھٹی کو بغیر غور و فکرکے یوں ہی گزار دیتے ہیں۔اچھا باپو!اب دیجئے اجازت ۔کسی اور دن آپ سے بات ہوگی۔ہاںقارئین کرام!یہ تھی گاندھی جینی کے موقع پر میری بات، اس دبلے پتلے شخص کے متعلق جس کی قربانیوں کا ایک زمانہ گواہ ہے اور اس کی عقیدت کا معترف بھی ۔جس نے اپنے دیس اور سماج کے لئے انتھک محنت کی اور اس کی ترقی اور آزادی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہا۔30جنوری 1948کی ایک شام ،جب دلّی میں سورج آرام کے لئے غروب ہونے جا رہاتھا تاکہ تازہ دم ہوکر دوسرے دن وہ پھر سے اپنے پورے آب وتاب کے ساتھ گاندھی جی کی زندگی میں ایک نیا سویرالائے ۔اسی درمیان’ ناتھورام گوڈسے‘ نام کا ایک دہشت گردآگے بڑھتا ہےاور یکے بعد دیگرے تین گولیاں اس کمزور سے نظر آنے والے سینے پر داغ دیتا ہے جو اپنے معمول کی دعائیہ سبھا کے لئے اپنی بھتیجیوں کے کندھوں پر ٹیک لگائے ہوئےجا رہے تھے۔وہ قاتل یہ سمجھ رہاتھا کہ گاندھی جی ہمیشہ کے لئے مرگئے۔لیکن ایک انقلابی آوازخاموش ہونے سے پہلے کئی ایک کو ’بولنا‘ اوراپنے حقوق کےلئے ’جہدوجہد‘ کرناسکھا گئی۔ہندوستان کاوہ وکیل اپنا مقدمہ نہیں لڑ سکالیکن اس کی موت نےعوامی ’عدالت‘ کادروزاہ کھلارکھا جہاں پر بحث آج بھی جاری ہے ۔
(مضمون نگار: جے این یو دہلی میں ریسر چ اسکالر ہیں)

Related posts

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com

مہاراشٹر میں ’’آئرن لیڈی 2.0‘‘ کی شروعات

Hamari Duniya News

مودی حکومت کے 12 سال: ترقی کی راہ اور چیلنجز کا سفر

Hamari Duniya News