اگست 25, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

نیتن یاہو کا بڑا دعویٰ: ایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی

یروشلم، 25 اگست: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ان کے دو بیٹوں میں سے ایک کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم انہوں نے مبینہ سازش کے وقت، مقام، طریقہ کار یا اپنے اس بیٹے کا نام بتانے سے گریز کیا جسے مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

نیتن یاہو نے یہ دعویٰ اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو باقاعدہ نشانہ بنایا اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان کے خاندان کو فراہم کی جانے والی غیر معمولی سکیورٹی اور سیاسی رہنماؤں کو تحفظ دینے کے معاملے پر بحث جاری ہے۔

خاندان کو اضافی سکیورٹی دینے کا دفاع

نیتن یاہو نے اپنے خاندان کو مسلسل سکیورٹی فراہم کیے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر مناسب حفاظتی انتظامات نہ کیے جائیں تو ایرانی عناصر ان کے خاندان کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

ان کا یہ بیان سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کو سکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق بحث کے تناظر میں بھی سامنے آیا۔ آئزن کوٹ آئندہ عام انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریفوں میں شمار ہوتے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ایران سے لاحق خطرات کے پیش نظر تمام اہم سیاسی امیدواروں کو مناسب تحفظ ملنا چاہیے۔

مبینہ سازش کئی ماہ سے سکیورٹی اداروں کے علم میں تھی

اسرائیلی میڈیا کی بعض رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کے بیٹے کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی سازش کے بارے میں اسرائیلی سکیورٹی ادارے کئی ماہ سے آگاہ تھے، تاہم اس معاملے کی تفصیلات پر فوجی سنسرشپ عائد رہی۔

اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ جولائی میں نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ اور ان کے دونوں بیٹوں کے لیے اضافی ذاتی سکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔ تاہم اس اقدام اور نیتن یاہو کے تازہ دعوے کے درمیان براہِ راست تعلق کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔

کون سا بیٹا مبینہ طور پر نشانے پر تھا؟

نیتن یاہو کے دو بیٹے یائر اور اوونر ہیں، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ حملے کا ہدف کون تھا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اوونر اسرائیل میں مقیم ہیں، جبکہ بڑے بیٹے یائر نے گزشتہ چند برسوں کا خاصا وقت میامی میں گزارا ہے۔ اس لیے یہ بھی واضح نہیں کہ نیتن یاہو کا دعویٰ کس بیٹے سے متعلق ہے۔

ایران کی جانب سے فوری تصدیق یا تردید نہیں

نیتن یاہو کے الزام پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن سے بھی اس الزام پر فوری تبصرہ دستیاب نہیں ہوا۔

اس صورتحال میں نیتن یاہو کا بیان فی الحال ایک اسرائیلی دعوے کی حیثیت رکھتا ہے اور مبینہ حملے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

انتخابات سے قبل نیتن یاہو کا بیان اہم کیوں ہے؟

نیتن یاہو کا یہ دعویٰ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے تقریباً دو ماہ قبل سامنے آیا ہے۔ تازہ سیاسی جائزوں میں نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کو بعض حریف اتحادوں کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا بتایا جا رہا ہے۔

ایسے سیاسی ماحول میں ایران سے متعلق سکیورٹی خطرات اور نیتن یاہو کے خاندان کو حاصل حفاظتی انتظامات کا معاملہ اسرائیلی سیاست میں اہم بحث بن سکتا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار

نیتن یاہو کا تازہ الزام ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ رواں سال فروری سے جاری امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر اعلیٰ ایرانی حکام مارے گئے تھے۔

اس کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے انتقام کے اعلانات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

Related posts

خوشیوں کے لباس مہم کے تحت 100 ضرورت مند خاندانوں میں کپڑے اور سویاں تقسیم

Hamari Duniya News

سماجی رواداری کو فروغ دینے کے لیے ابوٹا کی طرف سے دعوت افطار کا اہتمام

Hamari Duniya News

ضلع شاملی کے عازمینِ حج کے لیے 17 فروری کو خصوصی ٹیکہ کاری کیمپ، 192 عازمین مستفید ہوں گے

Hamari Duniya News