اگست 24, 2026
International بین الاقوامی خبریںSaudi Arabia سعودی عربTop News

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا فرانس کے ایلیزے پیلس میں شاہانہ استقبال

توانائی کی فراہمی کے متبادل راستوں، علاقائی بحران، معیشت، دفاع اور سرمایہ کاری سمیت متعدد اہم امور پر بات چیت؛ پیرس میں 6 ارب یورو کے میگا تفریحی منصوبے کا معاہدہ بھی

پیرس، 24 اگست: فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے پیر کو پیرس کے ایلیزے پیلس میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا باضابطہ استقبال کیا۔ سعودی ولی عہد فرانس کے صدر کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر پیرس پہنچے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کو سعودی عرب اور فرانس کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ 

دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، ٹرانسپورٹ، صحت، دفاع اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔ فرانسیسی ایوانِ صدر کے مطابق علاقائی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام سے متعلق امور بھی مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ 

توانائی کی فراہمی کے راستوں میں تنوع پر خصوصی توجہ

موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر مذاکرات کا ایک اہم محور توانائی کی فراہمی اور اس کی ترسیل کے متبادل راستے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ توانائی اور لاجسٹکس کی نقل و حمل کے لیے ایسے متبادل راستے کیسے تیار کیے جائیں جو آبنائے ہرمز سمیت حساس سمندری راستوں پر انحصار کو کم کر سکیں۔

رپورٹس کے مطابق ممکنہ متبادل میں نئی پائپ لائنیں، موجودہ صلاحیت میں اضافہ، بندرگاہی نیٹ ورک اور سمندری راستوں کو مزید متنوع بنانا شامل ہیں۔ فرانس کے لیے توانائی اور سپلائی چین کی سلامتی اہم ترجیح ہے، جبکہ سعودی عرب یورپ کی توانائی سلامتی میں اپنے کردار کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

 

سعودی-فرانسیسی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کا اجلاس

ایلیزے پیلس میں دونوں رہنماؤں کی دو طرفہ ملاقات کے بعد سعودی-فرانسیسی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ یہ کونسل دسمبر 2024 میں صدر ماکروں کے سعودی عرب کے دورے کے دوران قائم کی گئی تھی اور پیرس میں اس کا یہ پہلا سربراہی اجلاس ہے۔ 

کونسل کے اجلاس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، دفاعی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے طویل مدتی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس موقع پر متعدد معاہدوں اور مفاہمتوں کو آگے بڑھانے پر بھی پیش رفت ہوئی۔

صحت، توانائی اور ٹرانسپورٹ میں معاہدے

دونوں ممالک کے درمیان صحت، ٹرانسپورٹ اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں کئی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی اطلاع ہے۔ ان معاہدوں کو سعودی وژن 2030 اور فرانس کے ساتھ طویل مدتی اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ 

فرانسیسی حکام کے مطابق سعودی عرب اور فرانس کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے کاروباری شعبے کی شمولیت بھی اہم ہے۔ ولی عہد کے دورے کے موقع پر سعودی-فرانسیسی بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ 

پیرس کے قریب 6 ارب یورو کا بڑا تفریحی منصوبہ

دورے کے دوران ایک اہم اقتصادی پیش رفت کے طور پر سعودی عرب اور فرانس نے پیرس کے شمال مغرب میں تقریباً 6 ارب یورو (تقریباً 7 ارب ڈالر) کی لاگت سے ایک بڑے مانگا تھیم والے تفریحی پارک منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ Cergy-Pontoise کے قریب تیار کیا جائے گا اور اس میں جاپانی مقبول مانگا اور اینیمی سیریز Dragon Ball Z سے متاثرہ تفریحی عناصر بھی شامل ہوں گے۔ منصوبے سے تقریباً 22 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس سرمایہ کاری کو سعودی عرب کی معیشت کو تیل سے آگے متنوع بنانے اور عالمی تفریحی صنعت میں اپنی موجودگی بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 

علاقائی بحران بھی مذاکرات کا اہم موضوع

مذاکرات میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال بھی نمایاں رہی۔ فرانس اور سعودی عرب کے درمیان ایران سے متعلق بحران، آبنائے ہرمز، بحری سلامتی، غزہ و فلسطین، لبنان اور شام سمیت متعدد علاقائی معاملات پر قریبی مشاورت جاری ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی کو عالمی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ 

لبنان اور شام پر بھی مشاورت

مذاکرات میں لبنان اور شام کی صورتحال بھی زیرِ بحث آنے کی توقع تھی اور دونوں ممالک کے درمیان ان معاملات پر پہلے ہی قریبی رابطہ موجود ہے۔ فرانس لبنان کی خودمختاری اور ریاستی اداروں کی حمایت پر زور دیتا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی لبنان کے استحکام کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 

میکرون نے دورے کو اہم سنگِ میل قرار دیا

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے سعودی ولی عہد کے دورۂ فرانس کو دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم قدم اور سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس اور سعودی عرب امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مل کر کام کرتے رہے ہیں اور موجودہ علاقائی چیلنجز کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان مشاورت جاری رہے گی۔ 

شہزادہ محمد بن سلمان کا موجودہ دورہ فرانس کا 2022 اور 2023 کے بعد تیسرا دورہ ہے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان روایتی سیاسی و دفاعی تعاون سے آگے بڑھ کر توانائی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تفریح، ثقافت اور اقتصادی شراکت داری کے نئے مرحلے کی جانب پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 

Related posts

مملکت سعودی عرب سمیت خلیج عربی پر ایرانی جارحیت کی مذمت

Hamari Duniya News

بار کونسل اتر پردیش کے رکن کے انتخاب میں 640 وکلاء نے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا

Hamari Duniya News

آسام میں صرف سیٹوں پر ہی الیکشن لڑے گی بدرالدین اجمل کی پارٹی، اجمل کا کانگریس پر نشانہ، کہا صرف مسلم پارٹی بن کر رہ گئی ہے کانگریس

Hamari Duniya News