22.4 C
New York
اگست 30, 2026
National قومی خبریںTop News

کھڑگے کے جلسہ گاہ کے ’شدھی کرن‘ پربھڑکے راہل گاندھی، کہا ملک آئین سے چلے گا منواسمرتی سے نہیں

نئی دہلی، 29 اگست: کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے جلسے کے بعد مبینہ طور پر جلسہ گاہ کے ’شدھی کرن‘ کے معاملے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کو سخت نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے اس واقعے کو دلتوں کی توہین اور چھوا چھوت سے جوڑتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے ذمہ دار افراد کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیا۔ 

راہل گاندھی نے کہا کہ ہلدوانی میں جو کچھ ہوا، وہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ دلت سماج کی عزت اور آئینی مساوات سے متعلق سنگین معاملہ ہے۔ ان کے مطابق کسی دلت رہنما کے جلسے کے بعد مقام کا ’شدھی کرن‘ کیا جانا ذات پات پر مبنی امتیاز کی عکاسی کرتا ہے۔

’شدھی کرن چھوا چھوت کا دوسرا نام‘

پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے کہا کہ ’شدھی کرن‘ چھوا چھوت کی ایک شکل ہے اور ملک میں آج بھی دلتوں کو کئی مقامات پر ذات کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں میں دلتوں کے لیے الگ برتن یا کپ رکھنے جیسی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین ہر شہری کو برابری کا حق دیتا ہے اور ذات کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا امتیاز آئین کی روح کے منافی ہے۔

وزیراعظم سے ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ

راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ ہلدوانی کے معاملے میں ملوث افراد کے خلاف ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس معاملے میں کارروائی نہیں کرتی تو کانگریس اس مسئلے کو اٹھاتی رہے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملکارجن کھڑگے صرف کانگریس کے صدر نہیں بلکہ دلت سماج سے تعلق رکھنے والے ایک اہم قومی رہنما ہیں اور ان کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے پر انصاف ہونا چاہیے۔

’ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی‘

قائد حزب اختلاف نے اپنی پریس کانفرنس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کو آئین اور بی جے پی-آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ کے درمیان لڑائی قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک آئین سے چلے گا منواسمرتی سے نہیں۔ انہوں  نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس دلتوں کی ترقی، عزت اور کامیابی کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی لڑائی کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ ذات پات اور امتیاز کے خلاف ہے۔ انہوں نے دلتوں کو آئینی حقوق اور سماجی عزت دلانے کو اپنی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ قرار دیا۔

بی جے پی کا پلٹ وار

راہل گاندھی کے الزامات پر بی جے پی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ بی جے پی نے کانگریس پر سیاسی الزام تراشی کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی دلتوں کے معاملے پر غلط بیانی کر رہی ہے۔ بی جے پی نے کانگریس کے تاریخی طور پر دلت رہنماؤں کے ساتھ رویے پر بھی سوال اٹھائے۔

بی جے پی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس مبینہ ’شدھی کرن‘ سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے اور معاملے کی حقیقت سامنے لانے کے لیے تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ہلدوانی میں کیا ہوا تھا؟

رپورٹس کے مطابق کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے 8 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ایک جلسے سے خطاب کیا تھا۔ اس کے بعد اسی مقام پر مبینہ طور پر ’شدھی کرن‘ کی رسم انجام دی گئی۔ اسی معاملے کو لے کر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

راہل گاندھی نے اس واقعے کو دلتوں کے خلاف مبینہ امتیاز کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس طرح کے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

سیاسی تنازع مزید گہرا

راہل گاندھی کی پریس کانفرنس کے بعد ’شدھی کرن‘ کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی سیاست کے مرکز میں آگیا ہے۔ کانگریس اسے دلتوں کی توہین اور ذات پات پر مبنی امتیاز کا معاملہ قرار دے رہی ہے، جبکہ بی جے پی نے کانگریس کے الزامات کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے جوابی حملہ کیا ہے۔ اس طرح آئین، سماجی مساوات، دلت حقوق اور ذات پات کے سوالات پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

Related posts

مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دینا غیر ذمہ دارانہ: مولانا سید ارشد مدنی نے کیشو پرساد موریہ کے بیان کی مذمت کی

Hamari Duniya News

کیا ہے ایپسٹین فائل؟ جس میں ہے وزیراعظم نریندر مودی کا نام، ہنگامہ برپا

Hamari Duniya News

ایرانی میزائلوں نے تل ابیب کی فضا کو دھواں دھواں کردیا، ویڈیو منظر عام پر

Hamari Duniya News