20.7 C
New York
ستمبر 1, 2026
National قومی خبریںTop News

مسلم رہنماؤں اور دانشوروں کے اجلاس میں51 رکنی قومی نگرانی کمیٹی کا اعلان، بھارتی مسلمانوں کے مسائل پر آئینی و قانونی راستے اختیار کرنے کا فیصلہ

51 رکنی قومی نگرانی کمیٹی

سلمان خورشید: ہم حقوق مانگنے نہیں، اپنے آئینی حقوق کی بات کرنے آئے ہیں

نئی دہلی، یکم ستمبر : 24 جولائی 2026 کو منعقدہ مسلم رہنماؤں اور دانشوروں کے قومی اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے بعد 51 رکنی قومی نگرانی کمیٹی کا باضابطہ اعلان کردیا گیا۔ کمیٹی میں سماجی، مذہبی، قانونی، سیاسی اور سول سوسائٹی سے وابستہ اہم شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ نئی دہلی میں کمیٹی کے اعلان کے لیے منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کے ارکان نے کہا کہ کمیٹی بھارتی مسلمانوں سے متعلق مسائل، آئینی حقوق، شہری آزادیوں، سیاسی نمائندگی اور دیگر معاملات پر آئینی، قانونی اور جمہوری سیاسی راستوں کے ذریعے کام کرے گی۔

کمیٹی کے مطابق اس کا مقصد کسی ایک ادارے یا تنظیم کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ مختلف شعبوں سے وابستہ افراد اور تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر مسائل کا مشترکہ اور جمہوری حل تلاش کرنا ہے۔

بحران زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ

قومی نگرانی کمیٹی کے 24ویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے ان علاقوں کا دورہ کیا جائے گا جہاں مسلمانوں اور دیگر شہریوں کو سنگین مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان دوروں کا مقصد مقامی افراد، سول سوسائٹی اور تنظیموں سے براہِ راست ملاقات کرکے صورتِ حال کا جائزہ لینا اور متاثرہ لوگوں میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔

کمیٹی نے اپنے پہلے دورے کے لیے اتراکھنڈ کا انتخاب کیا۔ کمیٹی کے ایک وفد نے دہرادون کا دورہ کیا، جہاں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مسلم قیادت کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کی گئیں۔

پہلی ملاقات میں ریاست کی موجودہ صورتِ حال اور معاشرے کے مختلف طبقات سے متعلق مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر رہنما گرودیپ سپل بھی موجود تھے۔ دوسری ملاقات میں اتراکھنڈ کی مسلم برادری کے سیاسی، سماجی اور مذہبی نمائندوں نے شرکت کی، جہاں برادری کو درپیش خدشات اور ریاست کی مجموعی صورتِ حال پر گفتگو ہوئی۔

سلمان خورشید: ہم حقوق مانگنے نہیں، اپنے آئینی حقوق کی بات کرنے آئے ہیں

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کہ یہ پہل ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے ہے اور اس نے مختلف لوگوں کو ایک ساتھ لانے کا کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں کسی سے بھیک مانگنے نہیں آئے ہیں، بلکہ یہ بتانے آئے ہیں کہ اس ملک کے ہر شہری کے اپنے حقوق ہیں۔ ملک میں ہماری مختلف نوعیت کی گوناگونیت اور رنگا رنگی کے باوجود ہم سب کے حقوق برابر ہیں۔‘‘

سلمان خورشید نے مختلف طبقات سے اس کوشش میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان میں جاری ایک بڑے مسئلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

مولانا عطاؤ الرحمن قاسمی: یہ کارواں گاؤں اور دیہی علاقوں تک پہنچنا چاہیے

مولانا عطاؤ الرحمن قاسمی نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس طرح کی اجتماعی کوشش معاشرے کی بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضرورت کو صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ دیہی علاقوں میں بھی اس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کارواں ملک کے مختلف حصوں تک پہنچنا چاہیے تاکہ حاشیے پر موجود اور خود کو کمزور محسوس کرنے والے لوگوں کو سہارا دیا جاسکے۔

محمد ادیب: کمیٹی کسی تنظیم کے خلاف نہیں

محمد ادیب نے کہا کہ بعض صحافیوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آیا یہ تحریک پرسنل لا بورڈ یا کسی جماعت کے خلاف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ شریعت سے متعلق معاملات میں وہ پرسنل لا بورڈ کے دائرے میں رہ کر اس کی رہنمائی پر عمل کرتے ہیں، جبکہ قومی نگرانی کمیٹی کا کام سیاسی اور شہری حقوق کے دائرے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ تنظیم کسی کے خلاف نہیں ہے بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے اور مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے۔‘‘

ندیم خان: بے دخلی اور نقل مکانی سنگین چیلنج

ندیم خان نے ملک کے مختلف حصوں میں مبینہ انہدام، بے دخلی، نقل مکانی اور مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ آسام میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ جاری ’پش بیک‘ کارروائیوں سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ بعض بھارتی شہریوں کو بھی غلط طور پر حراست میں لیا جارہا ہے یا ملک سے باہر دھکیلا جارہا ہے۔

انہوں نے گجرات کے کچھ علاقوں، خصوصاً کچھ، اور راجستھان کے بعض حصوں میں درگاہوں اور مساجد سے متعلق واقعات کا بھی ذکر کیا۔

ندیم خان نے کہا کہ کمیٹی کی ٹیمیں قانونی معاملات، جن میں کرنولہ مہاپنچایت، SIR اور Form 7 شامل ہیں، پر بھی کام کررہی ہیں۔ ان کے مطابق ٹیمیں زمینی سطح پر واقعات کی دستاویز سازی اور متاثرہ برادریوں سے رابطے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سید سعادت اللہ حسینی: یہ صرف مسلمانوں تک محدود مہم نہیں

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ قومی نگرانی کمیٹی کا قیام ایک بڑی مہم اور اہم مرحلے کے آغاز کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور مختلف نسلوں اور شعبوں کی نمائندگی موجود ہے، جس میں رہنماؤں کے ساتھ نوجوانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق کمیٹی ملک کے حالات پر مسلسل نظر رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کام صرف مسلم برادری تک محدود نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک کے مفاد میں ہوگا۔

جسٹس اقبال احمد انصاری نے آسام کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی

جسٹس اقبال احمد انصاری نے آسام کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ہندو مسلم کشیدگی کے بجائے زبان اور شناخت سے متعلق مسائل زیادہ نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے دخلی کی کارروائیوں سے بنگالی مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور آسامی و بنگالی مسلمانوں کے درمیان بھی ایک فاصلہ موجود ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی دونوں فریقوں کے ساتھ بلاامتیاز اور برابری کی بنیاد پر کھڑی ہے۔

مولانا محسن علی تقوی: سیکولر ڈھانچے کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوشش ضروری

مولانا محسن علی تقوی نے کہا کہ ملک میں موجودہ حالات اور مختلف طبقات کے ساتھ مبینہ ناانصافی کے پیش نظر اس کوشش کو کامیاب بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سیکولر ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔

فضیل احمد ایوبی: سب کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا

فضیل احمد ایوبی نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں، سیاسی نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور وکلا کو ایک پلیٹ فارم کے تحت مل کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ چیلنجز کے پیش نظر مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کا متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے۔

ایس کیو آر الیاس نے SIR، NRC اور UCC پر سوالات اٹھائے

ایس کیو آر الیاس نے کہا کہ موجودہ حالات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے SIR کو NRC سے جوڑتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس عمل کے ذریعے مسلم ناموں کو ووٹر فہرستوں سے خارج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (UCC) کے نفاذ، لنچنگ اور مدارس و مذہبی اداروں سے متعلق تنازعات کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سمیت تمام طبقات کو ملک کے مسائل کے حل کے لیے ایک ساتھ آنا ہوگا۔

51 رکنی کمیٹی کے ساتھ 10 رکنی سیکریٹریٹ بھی قائم

پروگرام کی نظامت IMCR کے سیکریٹری اعظم بیگ نے کی۔

پریس ریلیز کے مطابق قومی نگرانی کمیٹی کا قیام 24 جولائی کو منعقدہ قومی اجلاس میں کیے گئے اجتماعی فیصلے کے بعد عمل میں آیا ہے۔ کمیٹی ان مسائل کی نشاندہی کرے گی جن میں مداخلت کی ضرورت ہوگی، دستیاب آئینی اور قانونی راستوں کا جائزہ لے گی، متعلقہ اداروں سے بات چیت کرے گی اور ضرورت کے مطابق جمہوری و سیاسی طریقے اختیار کرے گی۔

کمیٹی کے اعلان کے ساتھ 51 ارکان کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ معاملات کی نگرانی، رابطہ کاری اور تنظیمی امور کے لیے 10 رکنی سیکریٹریٹ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

Related posts

آسام میں صرف سیٹوں پر ہی الیکشن لڑے گی بدرالدین اجمل کی پارٹی، اجمل کا کانگریس پر نشانہ، کہا صرف مسلم پارٹی بن کر رہ گئی ہے کانگریس

Hamari Duniya News

سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کا ’’خوشیو ں کے  لباس‘‘ پروجیکٹ لانچ

Hamari Duniya News

سینئر صحافی سلیم سہروردی کا انتقال ، بنارس ایک عظیم ادیب و صحافی سے محروم

Hamari Duniya News