20.7 C
New York
ستمبر 1, 2026
Articles مضامینTop News

محمد بن سلمان 41 برس کے ہوگئے: نوجوان قیادت، وژن 2030 اور تعمیرِ وطن کا سفر

زاہد آزاد جھنڈانگری

41 برس کی عمر بظاہر کوئی بڑی عمر نہیں، لیکن جب اس عمر میں کسی شخصیت کے کندھوں پر ایک اہم مملکت کی قیادت، مقدس سرزمین کی ذمہ داری اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ مرکوز ہو تو عمر محض ایک عدد نہیں رہتی، بلکہ تجربے، فیصلوں اور قیادت کے سفر کی علامت بن جاتی ہے۔

محمد بن سلمان کی زندگی اور سیاسی سفر کو محض ایک شہزادے کی سوانح کے طور پر دیکھنا شاید کافی نہیں۔ ان کا دور سعودی عرب میں تیزی سے رونما ہونے والی معاشی، سماجی اور انتظامی تبدیلیوں سے عبارت ہے، جس کا مرکزی محور سعودی وژن 2030 ہے۔

انتظامی سفر: ذمہ داری سے قیادت تک
محمد بن سلمان نے شاہی نظام میں مختلف انتظامی ذمہ داریوں کے ذریعے حکومتی امور کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ 2015 میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بادشاہ بننے کے بعد ان کی ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ وزارت دفاع، شاہی دیوان اور اقتصادی و ترقیاتی پالیسی سے متعلق اہم ذمہ داریوں نے انہیں ریاستی نظم و نسق کے مختلف شعبوں میں براہِ راست کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔

2017 میں انہیں ولی عہد مقرر کیا گیا، جبکہ 2022 میں وہ سعودی عرب کے وزیر اعظم بھی بن گئے۔ یوں ان کا سیاسی سفر بتاتا ہے کہ انہیں مرحلہ وار اہم ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا گیا اور بالآخر ریاست کی فیصلہ سازی میں مرکزی کردار حاصل ہوا۔

وژن 2030: معیشت کو نئی سمت دینے کی کوشش
محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے وژن 2030 کے ذریعے اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر زیادہ متنوع بنانے کی کوشش تیز کی ہے۔

اس منصوبے کے تحت سیاحت، تفریح، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعت، لاجسٹکس، کھیل اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) بھی سعودی معاشی حکمت عملی کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔

نیوم، دی لائن، القدیہ اور بحیرۂ احمر جیسے بڑے منصوبے اسی تبدیلی کی علامت ہیں۔ اگرچہ ان منصوبوں کی رفتار، لاگت اور ترجیحات کے حوالے سے مختلف تجزیے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ سعودی عرب عالمی سرمایہ کاری اور سیاحت کے نقشے پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تازہ سعودی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب کی غیر تیل معیشت کا حصہ تقریباً 55 فیصد GDP تک پہنچ گیا، جبکہ غیر تیل سرگرمیوں میں 4.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سعودی معیشت میں تنوع پیدا کرنے کی کوششوں کی ایک اہم علامت ہے۔

نوجوانوں اور خواتین کے لیے نئے مواقع
محمد بن سلمان کے دور میں سعودی معاشرے میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ خواتین کے لیے روزگار اور سماجی سرگرمیوں کے مواقع میں اضافہ، تفریحی سرگرمیوں کا فروغ، سینما اور ثقافتی پروگراموں کی واپسی، کھیلوں کے عالمی مقابلوں اور سیاحت کے فروغ جیسے اقدامات نے سعودی معاشرے کی عمومی فضا کو تبدیل کیا ہے۔

ان تبدیلیوں کا ایک اہم پہلو نوجوان نسل کو معیشت اور قومی ترقی کے عمل میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کرنا بھی ہے۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان: ایک ممکنہ نیا علاقائی تعاون
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات بھی خطے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاع، معیشت، تجارت اور سفارتی تعاون کے امکانات موجود ہیں۔

سعودی عرب کی معاشی قوت، ترکیہ کی صنعتی و دفاعی صلاحیت اور پاکستان کی افرادی قوت و دفاعی استعداد اگر باقاعدہ اور مؤثر اقتصادی و دفاعی تعاون میں تبدیل ہوتی ہے تو اس سے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک نئی جہت مل سکتی ہے۔

تاہم اسے کسی حتمی ’’اتحاد‘‘ کے بجائے بڑھتے ہوئے سہ فریقی تعاون اور شراکت داری کے امکان کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط اور صحافتی طور پر درست ہوگا۔

اعتدال، جدیدیت اور ریاستی اصلاحات
محمد بن سلمان کے سیاسی بیانیے کا ایک اہم پہلو سعودی معاشرے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ان کا مشہور مؤقف کہ سعودی عرب ماضی کی مخصوص طرزِ فکر کی طرف واپس نہیں جائے گا، ملک میں اصلاحات اور اعتدال کے نئے بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔

ان اصلاحات میں مذہبی و سماجی معاملات کے ساتھ ساتھ معیشت، تعلیم، روزگار، خواتین کی شرکت، ثقافت اور تفریح کے شعبے بھی شامل ہیں۔

حرفِ آخر
41 برس کی عمر میں محمد بن سلمان سعودی عرب کی سیاست اور معیشت میں ایک نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے دور میں ہونے والی تبدیلیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں اور وژن 2030 کے کئی اہداف آنے والے برسوں میں مزید آزمائش سے گزریں گے۔

تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سعودی عرب اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ تیل پر انحصار کم کرنے، نئی صنعتیں اور روزگار پیدا کرنے، سیاحت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور عالمی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوششیں اس تبدیلی کا حصہ ہیں۔

ہم نیپال میں بسنے والے اردو بولنے والے مسلمان سعودی عرب کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے دعا گو ہیں۔ حرمین شریفین کی سرزمین کا امن و استحکام پوری مسلم دنیا کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کو صحت و عافیت عطا فرمائے اور سعودی عرب کو امن، استحکام اور ترقی نصیب فرمائے۔ آمین۔

Related posts

ایران کی حمایت میں میدان میں کود پڑا متحدہ عرب امارات

Hamari Duniya News

جیو شکشا کا اسمارٹ کلاس روم اسکول بیگ کے بوجھ کو کم کرے گا

Hamari Duniya News

جامعہ شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے تحت‘‘قرآن اور سائنس’’پر بین الاقوامی کانفرنس کام یابی کے ساتھ اختتام پذیر

Hamari Duniya News