21.8 C
New York
اکتوبر 2, 2026
National قومی خبریںTop News

گاندھی جینتی پر دہلی سے ممبئی تک احتجاج، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ؛ راہل گاندھی بولے—’’گیانیش کمار جائیں گے اور انہیں بٹھانے والے بھی‘‘

نئی دہلی، 2 اکتوبر:گاندھی جینتی کے موقع پر آج ملک کی سیاست میں الیکشن کمیشن، ووٹر لسٹ اور SIR (Special Intensive Revision) کے معاملے پر ایک بار پھر ہلچل دیکھنے کو ملی۔ دہلی، ممبئی سمیت مختلف مقامات پر احتجاج ہوئے، جہاں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ دہلی میں جنتَر منتر کے قریب احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد اپوزیشن رہنماؤں، طلبہ اور سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا، جبکہ ممبئی کے شیواجی پارک میں بھی Cockroach Janata Party (CJP) کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

راہل گاندھی کا سخت بیان

ان احتجاجی مظاہروں کے درمیان کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے مظاہرین کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جینتی کے دن ہزاروں نوجوان مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے خلاف سڑکوں پر ہیں اور پُرامن طریقے سے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کا مطالبہ واضح ہے کہ گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور جمہوریت کو بچایا جائے۔ انہوں نے پولیس کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

راہل گاندھی نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بَاپو نے سچ بولنے اور پُرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کا راستہ دکھایا تھا۔ ان کے مطابق لاٹھی کے ذریعے بھیڑ کو روکا جا سکتا ہے، لیکن سوالات کو نہیں روکا جا سکتا۔ اسی بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’گیانیش کمار جائیں گے اور جس سسٹم نے انہیں بٹھایا ہے، وہ بھی جائے گا۔‘‘ راہل گاندھی نے بیان  میں موجودہ انتخابی نظام اور حکومت پر اپنے اعتراضات کا اظہار کیا۔

دہلی میں جنتَر منتر کے قریب بڑا احتجاج

دہلی میں جنتَر منتر پر احتجاج کی اجازت پولیس کی جانب سے نہیں دی گئی تھی۔ اس کے باوجود کانگریس، عام آدمی پارٹی، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں سے وابستہ افراد احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو جنتَر منتر اور پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔

Jantar Mantar کے آس پاس پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ اطلاع کے مطابق جمعہ کی دوپہر تک تقریباً 700 افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع تھی، جن میں دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ آتشی، عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج، سماجی کارکن یوگیندر یادو، AISA کی صدر نیہا بورا اور بائیں بازو کی رہنما برندا کرات بھی شامل تھیں۔

احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد افراد کو بسوں میں مختلف تھانوں کی طرف منتقل کیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے جنتَر منتر کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے بیریکیڈنگ بھی کی تھی۔

میٹرو اسٹیشنوں پر بھی اثر

احتجاج کے پیش نظر وسطی دہلی میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق دہلی میٹرو نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مرکزی دہلی کے 12 اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستے عارضی طور پر بند کیے، جن میں راجیو چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ اور جنتَر منتر سے متعلق اسٹیشن شامل تھے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کردیئے گئے ہیں۔

ممبئی میں CJP کا ’جیل بھرو آندولن‘

دوسری جانب ممبئی میں بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ Cockroach Janata Party (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے کی قیادت میں شیواجی پارک کے قریب مظاہرہ کیا گیا۔ ممبئی پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے بعد تنظیم نے اسے ’’جیل بھرو آندولن‘‘ کے طور پر آگے بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔

ممبئی کے احتجاج میں فلمی دنیا سے بھی کچھ شخصیات کی شرکت کی اطلاع ملی۔ شَبانہ اعظمی نے مظاہرین سے ملاقات کی اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔

CJP کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک ممبئی سے شروع ہوکر دوسرے شہروں تک لے جائی جائے گی اور گیانیش کمار کے استعفے تک احتجاج جاری رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔

تنازعہ کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

موجودہ احتجاج کا ایک اہم مرکز SIR یعنی ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کا عمل ہے۔ اپوزیشن جماعتیں الزام لگا رہی ہیں کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس عمل سے ووٹروں کے نام متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس معاملے میں ایک اہم پس منظر انڈین ایکسپریس کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان—سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی—نے دس ماہ کے دوران SIR اور انتخابی فہرستوں سے متعلق بعض اقدامات پر متعدد مرتبہ اعتراضات درج کرائے۔ رپورٹ میں فارم 6 میں تبدیلیوں اور ووٹر لسٹ کے سافٹ ویئر ECINET سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

تاہم اس پورے معاملے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اطلاع کے مطابق کمیشن کا موقف ہے کہ ادارے کے اندر اختلاف رائے معمول کی بات ہے اور اس کی جانب سے کیے گئے اقدامات قانون کے مطابق ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف اس کے برعکس ہے اور وہ ووٹر لسٹ کے عمل میں شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

 

احتجاج اب آگے کہاں تک جائے گا؟

30 ستمبر کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی میٹنگ کے بعد آئندہ احتجاجی پروگراموں کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اپوزیشن اتحاد نے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ، دہلی میں بڑی ریلی اور صدر جمہوریہ کو میمورنڈم دینے جیسے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی اس موقع پر انتخابی نظام سے متعلق اپنے الزامات کو دہرایا تھا۔

یوں 2 اکتوبر 2026 کو گاندھی جینتی کے موقع پر ہونے والے احتجاج نے SIR، ووٹر لسٹوں اور الیکشن کمیشن کی شفافیت کے معاملے کو قومی سیاسی بحث کے مرکز میں لا دیا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں اور احتجاجی گروپ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور انتخابی عمل میں جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو قانونی قرار دے رہا ہے۔

Related posts

دہلی کی عالمی شہرت یافتہ مرکزی یونیورسٹی کی شبیہ ہوئی داغدار، 10طالبات نے پروفیسر پرلگایا جنسی ہراسانی کا الزام

Hamari Duniya News

یوگی حکومت کے دعوے کی کھلی پول، نوئیڈا میں 492 صنعتی یونٹ ہوچکے ہیں بند

Hamari Duniya News

نئی دہلی میں 31  جنوری کو ہندوستان اورعرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ 

Hamari Duniya News