15.5 C
New York
ستمبر 29, 2026
National قومی خبریںTop News

CWC اجلاس سے ملکارجن کھڑگے کا تاریخی خطاب: انگریزوں سے چھینا تھا ووٹ کا حق، ایک بار پھر ’’ووٹ کے حق کے تحفظ کی ذمہ داری پھر کانگریس کے کندھوں پر‘‘

نئی دہلی،29 ستمبر: کانگریس ورکن کمیٹی (CWC) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے انتخابی عمل، ووٹر لسٹ اور الیکشن کمیشن کی شفافیت سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی تاریخی ذمہ داری ایک بار پھر کانگریس کے سامنے کھڑی ہے۔ کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ ووٹر لسٹ سے لوگوں کے نام مبینہ طور پر سازش کے تحت حذف کیے جا رہے ہیں اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ہندوستان نے برطانوی دور میں جدوجہد کے بعد ووٹ کا حق حاصل کیا تھا اور آج اسی حق کے تحفظ کے لیے دوبارہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے اپنی قربانیوں اور جدوجہد سے جس مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد رکھی تھی، اس بنیاد کو گزشتہ برسوں میں کمزور کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر اہل شہری کا ووٹ محفوظ ہونا چاہیے اور ہر ووٹ کی منصفانہ گنتی ہونی چاہیے۔ کھڑگے نے اپنے خطاب میں آئین ساز اسمبلی میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے 15 جون 1949 کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقِ رائے دہی جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے اور کسی اہل شہری کو کسی مقامی حکومت کے تعصب یا کسی افسر کی من مانی کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے باہر نہیں کیا جانا چاہیے۔

نوجوانوں کے حقِ رائے دہی کا بھی کیا ذکر

کانگریس صدر نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے دور میں ووٹ دینے کی عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ حکومت پر نوجوانوں کے حقِ رائے دہی کو محدود کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ فارم-6 سے متعلق قواعد میں تبدیلیوں کے باعث نوجوانوں کے ووٹر بننے کے عمل پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کا حق کسی کو خیرات میں نہیں ملا بلکہ اس کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس جمہوریت، آئین اور عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس کی لڑائی کسی سیاسی جماعت، ادارے یا فرد کے خلاف نہیں بلکہ ہندوستانی ووٹروں کے حقوق، آئین اور جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے ہے۔

راہل گاندھی کے اٹھائے گئے سوالات کا حوالہ

ملکارجن کھڑگے نے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی جانب سے ووٹر لسٹ اور انتخابی اعداد و شمار سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے مہادیوپورہ، الند اور ہریانہ و مہاراشٹر کے معاملات میں دستاویزات اور ووٹر اعداد و شمار کی بنیاد پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔

انہوں نے ڈپلیکیٹ ووٹرز، مشتبہ پتوں، ایک ہی پتے پر بڑی تعداد میں ووٹرز اور فارم-6 سے متعلق اندراجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے ان معاملات کو سنجیدگی سے لیا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔

کھڑگے نے ان کانگریس کارکنوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے راہل گاندھی کی اپیل پر بلاک، ضلع اور ریاستی سطح پر احتجاج کیا۔

الیکشن کمیشن کی آزادی اور شفافیت پر زور

کانگریس صدر نے کہا کہ کانگریس نے ملک کے اداروں کو مضبوط، آزاد اور بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن آج ان اداروں کی آزادی اور خودمختاری پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سوالات کا مقصد اداروں کو کمزور کرنا نہیں بلکہ انہیں مزید مضبوط اور قابل اعتماد بنانا ہے، تاکہ اقتدار میں موجود جماعت اور اپوزیشن دونوں ان کے فیصلوں پر یکساں اعتماد کر سکیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایس آئی آر (SIR) کا فیصلہ کس نے کیا؟ دو انتخابی کمشنروں کو انٹرنل پورٹل سے باہر رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا اس معاملے میں کوئی خفیہ سرگرمی جاری تھی؟

کانگریس نے رکھیں پانچ اہم مطالبات

ملکارجن کھڑگے نے CWC اجلاس میں کانگریس کی جانب سے پانچ مطالبات بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق:

ووٹر لسٹ میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کا مکمل ڈیٹا عوام کے سامنے لایا جائے۔

جن ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے گئے ہیں، انہیں مکمل اطلاع اور اپیل کا موقع دیا جائے۔

سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹ اور متعلقہ ضروری اعداد و شمار مقررہ وقت پر آسان فارمیٹ میں فراہم کیے جائیں۔

جہاں سنگین بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئیں، وہاں آزادانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات کرائی جائیں۔

انتخابی عمل سے متعلق اہم ڈیٹا اور فیصلوں میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے، تاکہ کسی بھی فریق کو معلومات چھپانے کا شبہ نہ ہو۔

’’جمہوریت میں سب سے طاقتور عام ووٹر ہے‘‘

کھڑگے نے کہا کہ انتخابات صرف جیت اور ہار کی جنگ نہیں ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن جمہوریت اور آئین مستقل رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد عوام کا حقِ رائے دہی ہے اور ہر اہل شہری کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اس کا ووٹ محفوظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں سب سے طاقتور شخص عام ووٹر ہوتا ہے، نہ کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا اقتدار میں بیٹھا کوئی سیاسی رہنما۔ انہوں نے CWC سے اپیل کی کہ ووٹر لسٹ شفاف، انتخابی عمل منصفانہ اور ادارے آزاد رہیں، جبکہ ہر اہل شہری کا ووٹ محفوظ رکھنے کے لیے کوشش کی جائے۔

’’نوٹ بندی کے بعد ووٹ بندی‘‘ کا الزام

اپنے خطاب کے آخر میں کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے نوٹ بندی کا حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ جس طرح نوٹ بندی سے معیشت متاثر ہوئی، اسی طرح ’’ووٹ بندی‘‘ کے ذریعے جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے دوران غریب عوام قطار میں کھڑے تھے، جبکہ ان کے بقول ’’ووٹ بندی‘‘ میں غریبوں کو قطار سے ہی باہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ غریب، دلت، محروم اور استحصال زدہ طبقات کے پاس ووٹ ان کی اہم طاقت ہے اور کانگریس اس حق کو چھیننے نہیں دے گی۔

چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ

کانگریس صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کی بعض سرگرمیوں کو من مانی اور نامناسب قرار دیا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم سے بھی اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دینے کی بات کہی۔

کھڑگے نے کہا کہ ملک میں آئندہ پانچ ریاستوں کے انتخابات کے پیش نظر یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی بھی ووٹر کا حق متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کا ووٹ محفوظ، انتخابات منصفانہ اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہنا چاہیے، کیونکہ اسی سے ملک کا مستقبل اور جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔

Related posts

کے کویتا : بی جے پی کے12ویں بجٹ میں بھی تلنگانہ کے حصے میں گول صفر، 8 بی جے پی ایم پیز دینے کے باوجود تلنگانہ کے ساتھ سنگین ناانصافی جاری

Hamari Duniya News

گجرات یکساں سول کوڈ: آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

Hamari Duniya News

مایاوتی نے بھتیجے آکاش آنند کو بی ایس پی سے پھر نکالا، خاندان کو پارٹی سے زیادہ ترجیح دینے کا الزام

Hamari Duniya News