واشنگٹن،28 اکتوبر : ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی انتظامیہ خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف ممکنہ مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا اشارہ دے رہی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج خطے میں دفاعی نظام، گولہ بارود اور جنگی طیاروں کی تیاری سمیت متعدد فوجی اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ کیے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکا اور اسرائیل ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے نئی فوجی کارروائیوں کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ فوجی تصادم اور اس کے علاقائی اثرات سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
امریکی فوج کی مشرقِ وسطیٰ میں تیاریوں کی اطلاعات
وال اسٹریٹ جرنل نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام مشرقِ وسطیٰ منتقل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ان فوجی اڈوں سے اہلکاروں کو منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں جہاں ممکنہ حملوں کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ امریکی افواج گولہ بارود کے ذخائر دوبارہ بھرنے اور بمبار و لڑاکا طیاروں کو ممکنہ کارروائی کے لیے تیار کرنے میں بھی مصروف بتائی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ ماہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اضافی طیارہ بردار بحری بیڑا اور میرینز پر مشتمل ایک مہماتی یونٹ تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔ اس کے بعد خطے میں امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کی تعداد تقریباً 20 ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نے ابھی تک حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ان کے مؤقف سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔ ممکنہ کارروائی میں ایران کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف کیا ہے؟
وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے حساس فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتا جن کے بارے میں یہ بھی واضح نہ ہو کہ وہ حقیقت میں موجود ہیں یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ راستے کھلے رکھے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے، تاہم ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت اور دائرۂ کار کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کے ساتھ جنگ امریکا نے شروع نہیں کی
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ٹیکساس کے شہر لببوک میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی، بلکہ ایران 1979ء سے امریکا کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔
ٹرمپ نے سابق امریکی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں کئی دہائیاں پہلے ایران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی، لیکن ان میں ایسا کرنے کی ہمت یا دانش مندی نہیں تھی۔
انہوں نے ایران کے حوالے سے کہا کہ اگر انہیں اعتراض نہ ہو تو چند ہفتوں میں ایران کی صورتِ حال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ان کے اس بیان کو ایران کے خلاف ممکنہ آئندہ اقدامات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جوہری صلاحیت تباہ کرنے کا دعویٰ
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکا نے ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ اور ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے ذریعے ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو فوجی، مالی اور دیگر محاذوں پر شکست دی گئی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال بہت جلد ختم ہو جائے گی اور ان کے بقول، ’’یہ سب کچھ جب بھی میں چاہوں ختم ہو سکتا ہے۔‘‘ تاہم، ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کیے جانے سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز اور تیل کی ترسیل کا معاملہ
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس آبی گزرگاہ کا نام تبدیل کرکے ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھنے کا اشارہ بھی دیا، جسے ان کے مخصوص سیاسی انداز کے بیان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ یہاں کسی بھی فوجی تصادم یا جہاز رانی میں رکاوٹ کے نتیجے میں عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
کیا انتخابات کے بعد ایران پر حملہ ہوگا؟
ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ اب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں انتخابات کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریوں کا دعویٰ سامنے آنے سے اس سوال نے اہمیت اختیار کر لی ہے کہ آیا امریکی انتظامیہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرے گی یا مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
فی الحال حملے کی حتمی منظوری، اس کی تاریخ اور ممکنہ اہداف کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ اگر فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات امریکا اور ایران تک محدود رہنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ، خلیجی ممالک، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
