اگست 18, 2026
Delhi دہلیTop News

ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے اسلاف کی قربانیاں مشعلِ راہ ہیں: مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند قومی سمپوزیم

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ’’جدوجہدِ آزادی میں اسلاف کی قربانیاں، ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے رول ماڈل‘‘ کے عنوان سے عظیم الشان قومی سمپوزیم

نئی دہلی، 17 اگست: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ’’جدوجہدِ آزادی میں اسلاف کی قربانیاں، ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے رول ماڈل‘‘ کے عنوان سے اہل حدیث کمپلیکس، اوکھلا، نئی دہلی میں ایک عظیم الشان قومی سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ سمپوزیم کی صدارت مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کی، جبکہ ملک کے معروف علماء، دانشوروں، ماہرین تعلیم، وکلاء، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

صدارتی خطاب میں مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ وطنِ عزیز کو آزادی بے شمار قربانیوں، مصائب، جدوجہد اور خونچکاں حالات سے گزرنے کے بعد حاصل ہوئی۔ نئی نسل کو اسلاف کی روشن تاریخ اور ان کی قربانیوں سے واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نوجوان آزادی کی قدر کریں اور اس عظیم امانت کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی سب سے بڑی نعمت اور دولت ہے، لیکن آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے اختیار کا استعمال دوسروں کے حقوق پامال کرنے کے لیے کرے۔ حقیقی آزادی ذمہ داری، قانون کی پاسداری اور دوسروں کے حقوق کے احترام کا نام ہے۔

مولانا سلفی نے کہا کہ ہمارے اسلاف کی عظمت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم ان پر فخر کریں بلکہ یہ ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔ انہوں نے ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی اتحاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں باہمی اتحاد نے اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی، جغرافیائی اور لسانی اختلافات کو ہوا دے کر ملک کو تقسیم کرنے کی کوششوں سے بچنا ضروری ہے۔

انہوں نے تحریکِ شہیدین، فرائضی تحریک اور بنگال سمیت آزادی کی جدوجہد کے مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اسلاف نے کن حالات میں آزادی کی جدوجہد کی۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کے ہندو مسلم اتحاد سے متعلق مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد کی اہمیت کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مزید کہا کہ آزادی ہمارے اسلاف کی دی ہوئی امانت ہے۔ آئین کی پاسداری، ملک و ملت اور انسانیت کی خدمت ہی آزادی کا حقیقی صلہ اور اسلاف کی قربانیوں کی بہترین قدر دانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام کی روشن تعلیمات بھی امن، وفاداری اور انسانیت کی خدمت کی تلقین کرتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے تمام اہل وطن کو یوم آزادی کی مبارکباد بھی پیش کی۔

علماء اہل حدیث نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا: مولانا محمد ہارون سنابلی

افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی نے کہا کہ وطن عزیز بے شمار قربانیوں کے بعد آزاد ہوا۔ آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والوں کو یاد کرنا بیدار قوم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ علماء اہل حدیث نے تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا اور عوام کے اندر آزادی کی جدوجہد کا جذبہ پیدا کیا۔

انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے آزادی کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے علماء کی تصانیف اور کتب خانوں تک کو نذر آتش کیا، لیکن اس کے باوجود علماء کی جدوجہد جاری رہی۔ انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی خدمات اور مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی قیادت کو بھی سراہا۔

’’اسلاف کی قربانیوں کو رول ماڈل بنانا وقت کی ضرورت‘‘

ناظم اجلاس ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے تمام مقررین اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کے مختلف مراحل کا مختصر جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سمپوزیم کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ اسلاف کی قربانیوں کو رول ماڈل بنا کر ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں ہر شخص اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے۔

مولانا صلاح الدین مقبول مدنی، سرپرست مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، نے ’’جدوجہد آزادی میں علماء اہل حدیث کا کردار‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے علماء اہل حدیث کی قربانیوں کا تفصیلی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی نعمت کی قدر کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

’’علمائے صادق پور کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا‘‘

پدم شری پروفیسر اختر الواسع، پروفیسر ایمیریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے سمپوزیم کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ علمائے صادق پور کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق جن مدارس کو آج مختلف الزامات سے جوڑا جاتا ہے، انہی مدارس نے ملک کی آزادی اور تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

مولانا عبدالاحد مدنی نے ’’تحریک شہیدین: جدوجہد آزادی کا نقشِ اولین‘‘ کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا اور تحریک شہیدین کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

فیروز احمد ایڈووکیٹ، صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، نے کہا کہ آزادی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے برقرار رکھنے کے طریقہ کار پر بھی غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے مدارس کے آزادی کی تحریک اور تعلیم کے فروغ میں کردار کو اہم قرار دیا۔

مولانا عطاء الرحمن قاسمی، صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ دہلی، نے کہا کہ 1857 اور اس سے پہلے کی تحریک آزادی کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک مذہب یا طبقے کی تحریک نہیں تھی بلکہ ہندو مسلم اتحاد پر مبنی ایک مشترکہ جدوجہد تھی۔

آزادی کے اصل ہیروز کو نئی نسل سے متعارف کرانا ضروری: مولانا رضوان رفیقی

مولانا رضوان رفیقی، اسسٹنٹ سکریٹری جماعت اسلامی ہند، نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ جنگ آزادی کے اصل ہیروز کو یاد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلاف کے کارناموں کو نئی نسل کے سامنے آسان اور مؤثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کے پروفیسر ندیم احمد نے ’’نعمت آزادی اور اس کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے آزادی کے حقیقی مفہوم اور اس کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور آزادی کی قدر کرنے کی تلقین کی۔

مولانا اظہر مدنی، ڈائریکٹر اقراء انٹرنیشنل اسکول، جیت پور، نئی دہلی، نے ’’جدوجہد آزادی میں علماء صادق پور کی قربانیاں‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا اور تاریخی حوالوں سے علماء اہل حدیث کے کردار پر روشنی ڈالی۔

مولانا عبدالغنی مدنی نے ’’تحریک آزادی میں مدارس اسلامیہ کا کردار‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ عبدالعزیزؒ کے انگریزوں کے خلاف جہاد کے فتویٰ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آزادی کے جذبے کا ذکر کیا۔

قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور

ایڈووکیٹ رئیس احمد، ممبر ایڈووکیٹ پینل حکومت دہلی، نے ’’انسانی زندگی میں امن و قانون کی پاسداری‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے امن اور قانون کی پاسداری کی اہمیت بیان کی۔

ڈاکٹر جنید حارث، استاد جامعہ ملیہ اسلامیہ، نے ’’قومی یکجہتی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ وقت کی بڑی ضرورت‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

پروفیسر مظہر علی سلفی، استاد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نے ’’آزادی کا تحفظ، خوشحالی اور پرامن بقائے باہمی کا ضامن‘‘ کے موضوع پر کہا کہ حقیقی آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے حقوق سے آگاہ ہو اور دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔

حافظ شکیل احمد میرٹھی، سابق امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی، نے جنگ آزادی میں اہل حدیث علماء کے نمایاں کردار کا ذکر کرتے ہوئے آزادی کی امانت کا پاس و لحاظ رکھنے پر زور دیا۔

حافظ محمد یوسف، نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے متحد ہوکر یہ فیصلہ کیا تھا کہ اب انہیں اسی ملک میں جینا اور مرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ضرورت ہے کہ کوئی ابوالکلام آزاد پیدا ہو جو قوم کی رہنمائی کرے اور ذہنی غلامی سے آزادی دلائے۔

مولانا محمد مستقیم سلفی، سابق پرنسپل المعہد العالی، نے کہا کہ مسلمانوں پر ملک سے بے وفائی کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔ مسلمانوں کے اندر وطن سے محبت کا جذبہ فطری طور پر موجود ہے۔

بڑی تعداد میں علماء، طلبہ، صحافی اور عوام کی شرکت

سمپوزیم کا آغاز حافظ ارمغان کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ پروگرام میں دہلی اور اطراف کے ائمہ و متولیان، مدارس و عصری جامعات کے اساتذہ و طلبہ، صحافیوں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی کی تاریخ، اسلاف کی قربانیوں، قومی یکجہتی، آئین کی پاسداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ملک کی آزادی، امن اور جمہوری اقدار کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

Related posts

دلاسہ تو سب نے دیا مگر کام جمعیۃ علماء ہند نے کیا،  گھر کی چابیاں وصول کرنے کے بعد جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرین نے کہا کہ شکریہ

Hamari Duniya News

جمعیة علماءہند کے اعلیٰ سطحی وفد کی ریزیڈنٹ ایڈیشنل کلکٹر سے ملاقات

Hamari Duniya News

ایس آئی آر نوٹسوں کے تصفیہ کے لیے مدرسہ اشاعت الاسلام میں میگا کیمپ منعقد

Hamari Duniya News