22.2 C
New York
ستمبر 13, 2026
Regional News علاقائی خبریںTop News

ونود کمار ساہنی قتل معاملہ : پولیس نے یوپی کانگریس صدر اجے رائے سمیت وفد کو گونڈہ جانے سے روکا 

ونود کمار ساہنی قتل معاملہ پر سیاسی کشیدگی تیز، اہل خانہ سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا کانگریس وفد، کارکنان گونڈہ جانے پر بضد 

لکھنؤ،12 ستمبر(قمر خان): گونڈہ کے تاجر ونود کمار ساہنی کے قتل کے بعد اترپردیش کی سیاست میں ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ قتل کے واقعے کے بعد متاثرہ خاندان سے ملاقات اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے گونڈہ جا رہے کانگریس کے وفد کو پولیس نے راستے میں روک دیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کی قیادت میں جا رہے وفد کو مسولی ٹول پلازہ کے قریب پولیس نے روک کر حراست میں لے لیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کانگریس کا وفد ونود کمار ساہنی کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کے لیے گونڈہ جا رہا تھا۔ کانگریس نے اس دورے کا مقصد متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت، ان کی بات سننا اور قتل کے معاملے میں زمینی صورتحال کا جائزہ لینا بتایا ہے۔ تاہم پولیس نے وفد کو گونڈہ جانے کی اجازت نہیں دی اور راستے میں ہی روک دیا۔

 *اجے رائے سمیت کئی سینئر رہنما حراست میں* 

پولیس کی کارروائی کے دوران کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کے ساتھ پارٹی کے قومی ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ، کانگریس لیڈر عاصم وقار، نریندر سنگھ اور کانگریس لیڈر حسیب خان سمیت کئی رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا۔

کانگریس کے مطابق وفد کے ساتھ بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان بھی موجود تھے۔ پولیس نے کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ اس دوران کانگریس کارکنان نے گونڈہ جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور پولیس کی جانب سے راستہ روکے جانے پر احتجاج کیا۔

 *گونڈہ جانے پر بضد رہے کانگریسی کارکن* 

کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی پروگرام کے لیے نہیں بلکہ قتل کا شکار ہونے والے تاجر ونود کمار ساہنی کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ پارٹی کارکنان نے پولیس سے وفد کو گونڈہ جانے دینے کا مطالبہ کیا، لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔

صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی۔ کانگریس کارکنان اور پولیس کے درمیان کافی دیر تک کشیدگی کی صورتحال بنی رہی۔ آخرکار پولیس نے کانگریس کے وفد کو حراست میں لے لیا۔

 *ونود ساہنی قتل معاملے پر سیاست تیز* 

گونڈہ میں تاجر ونود کمار ساہنی کے قتل نے ریاست میں سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ کانگریس نے اس واقعے کو اترپردیش میں امن و امان کی صورتحال سے جوڑتے ہوئے حکومت سے سخت سوالات کیے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایک تاجر کو قتل کر دیا جاتا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے، ملزمان کو گرفتار کرے اور مقتول کے خاندان کو انصاف فراہم کرے۔

کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان سے ملاقات کرنا اپوزیشن کی جمہوری ذمہ داری ہے اور کسی سیاسی جماعت کے وفد کو متاثرہ خاندان سے ملنے سے روکنا مناسب نہیں ہے۔

 *پولیس کی کارروائی پر کانگریس کا اعتراض* 

کانگریس نے اپنے وفد کو گونڈہ جانے سے روکے جانے اور رہنماؤں و کارکنوں کو حراست میں لیے جانے پر اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ وفد پرامن طریقے سے متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا، اس لیے اسے راستے میں روکنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

کانگریس کے مطابق ریاستی صدر اجے رائے کی قیادت میں وفد کا مقصد متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا اور انہیں یقین دلانا تھا کہ اپوزیشن اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہے۔

 *حسیب خان بھی وفد میں شامل* 

کانگریس لیڈر حسیب خان بھی اجے رائے کی قیادت میں گونڈہ جانے والے وفد کا حصہ تھے۔ انہیں بھی دیگر کانگریس رہنماؤں کے ساتھ پولیس نے حراست میں لیا۔ حسیب خان کی شمولیت کو بھی کانگریس کی جانب سے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کانگریس کارکنان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی کارروائی کے باوجود گونڈہ جانے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پارٹی نے ونود ساہنی قتل کی شفاف تحقیقات اور اہل خانہ کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فی الحال معاملے میں پولیس کی جانب سے کانگریس وفد کو روکے جانے کے بعد اترپردیش میں سیاسی بیان بازی مزید تیز ہونے کے امکانات ہیں۔ کانگریس اس واقعے کو قانون و نظم کے مسئلے کے طور پر اٹھا رہی ہے، جبکہ پولیس کی کارروائی کے حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات کا انتظار ہے۔

Related posts

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کا یو اے ای سے اختلافات کا اعتراف

Hamari Duniya News

ممبئی میں 26 جنوری کو گیٹ وے آف انڈیا پر عظیم الشان کل ہند مشاعرہ

Hamari Duniya News

ڈائٹ میں معلمین کی عملی تحقیق کی تربیت اختتام پذیر

Hamari Duniya News