نئی دہلی، 5 اگست: سابق مرکزی وزیر اور سینئر قانون داں کپل سبل نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے مدارس سے متعلق بیان پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ ذہنیت کی عکاسی قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کی گئی اپنی پوسٹ میں سبل نے موریہ کے بیان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ملک کی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
کپل سبل نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ کیشو پرساد موریہ نے کہا ہے کہ "مدرسہ کی تعلیم حب الوطنی کو فروغ نہیں دیتی” اور "جو لوگ مدرسہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کی ذہنیت دہشت گردوں جیسی ہو جاتی ہے۔” سبل نے ان ریمارکس کو "فرقہ وارانہ بیان” اور "مسخ شدہ ذہنیت” کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا، "کیا چندہ چور محب وطن ہوتے ہیں؟” سبل نے مزید کہا کہ "یہ ملک اس سے کہیں بہتر کا مستحق ہے۔”
کپل سبل کی اس پوسٹ کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنماؤں نے بھی مدارس اور مسلمانوں کے بارے میں دیے جانے والے بیانات پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نمائندوں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو معاشرے میں نفرت یا تقسیم کا سبب بنیں۔
دوسری جانب، اس معاملے پر اتر پردیش حکومت یا نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی جانب سے کپل سبل کی تنقید پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہب اور تعلیم جیسے حساس موضوعات پر دیے جانے والے بیانات اکثر سیاسی تنازع کو جنم دیتے ہیں، اس لیے عوامی عہدوں پر فائز رہنماؤں کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ اظہارِ خیال کرنا چاہیے۔
