28 C
New York
اگست 5, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق امریکا، ایران اور عمان کے درمیان 60 روزہ عبوری معاہدہ، فیس عائد نہ کرنے اور باوردی سرنگیں ہٹانے پر بھی اتفاق

واشنگٹن/مسقط، 5 اگست: امریکا، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر بحری آمد و رفت کے لیے کھولنے کے سلسلے میں 60 روزہ عبوری معاہدے پر پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ امریکی حکام کے مطابق اس کا باضابطہ اعلان بدھ کو کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال اس معاہدے کی حتمی منظوری کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں 60 روزہ عبوری انتظام نافذ کیا جائے گا، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس دوران خلیج کی جانب جانے والے تجارتی جہاز ایرانی پانیوں سے گزرنے والے شمالی راستے کا استعمال کریں گے، جبکہ خلیج سے بحیرۂ عرب کی طرف روانہ ہونے والے جہاز عمانی پانیوں کے جنوبی راستے سے گزریں گے۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ 60 روزہ عبوری مدت کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی راہداری فیس یا اضافی محصول عائد نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ 30 دن کے اندر مرکزی بحری راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا عمل مکمل کیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی بحری تجارت معمول پر آ سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی حکام کے درمیان گزشتہ چند روز کے دوران متعدد ٹیلیفونک رابطے ہوئے، جن میں معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی گئی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے بھی مذاکرات میں ثالثی اور رابطہ کاری کا کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اصولی طور پر معاہدے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد سے قبل ایران کے سپریم لیڈر اور قومی سلامتی کونسل کی منظوری درکار ہوگی۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور مذاکرات جاری ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات "بہت مثبت” انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز بہت جلد دوبارہ کھول دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران مذاکرات سے پیچھے ہٹا تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور جلد کسی عبوری معاہدے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

Related posts

 جیو آروگیہ اے آئی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی  کلینک  ماڈل پیش کیا

Hamari Duniya News

یکساں سول کوڈ (ترمیمی) آرڈیننس، 2026 اتراکھنڈ میں نافذ

Hamari Duniya News

این سی پی یو ایل کی از سرِ نو تشکیل کی راہ ہموار، یو ڈی او کا اردو اکیڈمی کے قیام پر زور

Hamari Duniya News