17.4 C
New York
ستمبر 16, 2026
International بین الاقوامی خبریںSaudi Arabia سعودی عربTop News

مکہ مکرمہ کی جانب حوثی باغیوں کی ناپاک ڈرون حملے کی کوشش ناکام، سعودی فضائی دفاع نے ڈرون تباہ کردیا

مکہ مکرمہ، 16 ستمبر : سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے بزدل حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی سمت بھیجے گئے ایک ناپاک ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک کر تباہ کردیا۔

سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں انٹرسیپٹ کیا گیا۔ واقعہ منگل 15 ستمبر 2026 کی شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر پیش آیا۔ 

سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ سعودی رائل ایئر ڈیفنس فورسز نے حوثی ملیشیا کی جانب سے بھیجے گئے ایک دشمن ڈرون کا بروقت سراغ لگایا اور اسے مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔ ان کے مطابق ڈرون مکہ کے جنوبی علاقے میں گرایا گیا۔ 

 *مکہ مکرمہ کی سلامتی ’ریڈ لائن‘ قرار* 

ترکی المالکی نے مکہ مکرمہ، مسجد الحرام، مسجد نبوی ﷺ اور زائرین کی سلامتی کو سعودی عرب کے لیے انتہائی حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات اور ان کے زائرین کی سلامتی ریڈ لائن ہے اور سعودی قیادت مزید ایسے حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اور مؤثر اقدامات سے گریز نہیں کرے گی۔ 

سعودی حکام کے مطابق اس واقعے میں ڈرون کو مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا، اس لیے مسجد الحرام، خانہ کعبہ یا دیگر مقدس مقامات کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ 

مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش؟

سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان کے مطابق یہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی دوسری کوشش ہے۔ اس سے قبل جولائی 2017 میں حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی سمت بیلسٹک میزائل داغے جانے کا سعودی عرب نے دعویٰ کیا تھا، جسے سعودی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا تھا۔ 

تازہ واقعے کے بعد سعودی عرب میں بالخصوص مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف کے علاقوں میں سکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا گیا۔ مکہ مکرمہ میں ممکنہ خطرے کے حوالے سے جاری کیا گیا ہنگامی انتباہ چند منٹ بعد ختم کردیا گیا۔ 

حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کردی

دوسری جانب حوثی ذرائع نے سعودی عرب کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے مکہ مکرمہ یا کسی بھی اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ حوثی فوجی ذرائع نے مکہ یا دیگر مقدس مقامات کے خلاف کسی خطرے کی تردید کی اور سعودی دعوے کو غلط معلومات قرار دیا۔ 

یوں اس واقعے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ سعودی حکام ڈرون کو حوثیوں کی جانب سے مکہ کی سمت آنے والا قرار دے رہے ہیں، جبکہ حوثی جانب سے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی گئی ہے۔ 

 *خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان اہم واقعہ* 

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے اپنی سرزمین پر متعدد حملوں کی اطلاع دی ہے، جبکہ حوثی فورسز نے بھی سعودی اہداف کے خلاف بعض حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس پس منظر میں مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون کا روکا جانا سعودی سکیورٹی کے لیے انتہائی حساس پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ 

مکہ مکرمہ اسلام کا مقدس ترین شہر ہے اور مسجد الحرام میں خانہ کعبہ واقع ہے۔ دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ اسی وجہ سے سعودی حکام نے مقدس شہر کے فضائی تحفظ کو انتہائی اہمیت دی ہے۔

حالیہ واقعے میں سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو ہدف تک پہنچنے اور مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا، جبکہ کسی مقدس مقام یا عام شہری کے نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ 

Related posts

برکس سربراہ اجلاس: نئی دہلی میں گلوبل ساؤتھ کی آواز مضبوط، امن، تجارت اور عالمی نظام میں اصلاحات پر زور

Hamari Duniya News

لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، شاندار دور اختتام پذیر

Hamari Duniya News

خواتین ریزرویشن بل اور حدبندی بل پیش کرنے کیلئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائے گی حکومت: مرکزی وزیر کرن رجیجو کا اعلان

Hamari Duniya News