نئی دہلی، 05 اگست (ہماری دنیا نیوز)۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے موجودہ مانسون اجلاس کی مدت میں توسیع کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے 16 سے 18 اگست تک پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کرن رجیجو نے کہا کہ خصوصی اجلاس میں حکومت دو اہم آئینی اور قانون سازی سے متعلق بلوں پر غور کرے گی، جن میں خواتین ریزرویشن بل اور حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) بل شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان دونوں بلوں پر جامع بحث کے بعد انہیں منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ مانسون اجلاس اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہی اختتام پذیر ہوگا اور اسے آگے بڑھانے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔ رجیجو کے مطابق خصوصی اجلاس کا مقصد اہم آئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ میں تفصیلی غور و خوض کو یقینی بنانا ہے۔
ادھر مانسون اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مختلف معاملات پر مسلسل تعطل برقرار ہے، جس کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی کئی بار متاثر ہوئی۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے بات چیت کے ذریعے تعطل ختم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ پارلیمنٹ کا کام کاج معمول کے مطابق چل سکے۔
خصوصی اجلاس کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں اس کی اہمیت پر بحث شروع ہوگئی ہے، کیونکہ خواتین کو قانون ساز اداروں میں ریزرویشن اور حلقہ بندی جیسے معاملات آئندہ سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
