نئی دہلی، 5 اگست: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران بدھ کو بھی ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے محض دو منٹ بعد ہی اپوزیشن اراکین کی مسلسل نعرے بازی کے باعث اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔
ادھر پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے درمیان اس سلسلے میں بات چیت ہو رہی ہے تاکہ ایوان کی کارروائی معمول پر لائی جا سکے۔
اجلاس شروع ہونے سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں گاندھی مجسمہ سے مکر دوار تک احتجاجی مارچ نکالا۔ اس مارچ میں کانگریس، سماجوادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین شریک ہوئے۔ مظاہرین نے طلبہ سے متعلق معاملات اور جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے خلاف آواز بلند کی۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ مظاہرین پر پیلیٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا تھا۔ اپوزیشن مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں آکر اس معاملے پر وضاحت پیش کریں۔
پارلیمنٹ کے اندر اور باہر طلبہ کے احتجاج اور رام مندر میں نذرانے کی مبینہ چوری کے معاملے پر سیاسی ماحول خاصا گرم ہے۔ منگل کو بھی یہ معاملہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں موضوعِ بحث رہا۔
راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے نے رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) جیسی مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی کے بارے میں ایوان کو جواب دیا جائے۔
دریں اثنا، صبح تقریباً 11:26 بجے این ڈی اے کے ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اپوزیشن جنتر منتر احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے حوالے سے وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کو اخباری انداز، ٹی وی بلیٹن یا مختصر بریکنگ نیوز کے انداز میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔
