دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ دارالحکومت میں عمارتیں گرنے کے واقعات بی جے پی حکومت کی لاپروائی اور بدعنوانی کا نتیجہ ہیں، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور روزگار فراہم کرنے کا مطالبہ
نئی دہلی، 5 نومبر (ہماری دنیا نیوز)۔ دہلی کے تاریخی علاقے چاوڑی بازار میں جمعرات کی صبح ایک زیر تعمیر تین منزلہ عمارت اچانک منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں دو افراد کی موت ہوگئی، جبکہ چار دیگر زخمی ہوگئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی اور این ڈی آر ایف، دہلی پولیس اور دیگر امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے جائے حادثہ کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا اور واقعے کی تحقیقات، ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور متعلقہ جونیئر انجینئر و اسسٹنٹ انجینئر کو فوری طور پر معطل کرنے کی ہدایت دی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ آشییش سود بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد دینے کے احکامات بھی جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ ملبے میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت نکالنے اور متاثرہ خاندانوں تک فوری مدد پہنچانے کے لیے تمام متعلقہ ٹیمیں کام کررہی ہیں۔ شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 9 بج کر 50 منٹ پر پیش آیا۔ ڈی سی پی سینٹرل روہت راجبیر سنگھ نے بتایا کہ عمارت میں تعمیراتی کام جاری تھا اور چھت کا سلیب ڈالنے کے دوران پوری تین منزلہ عمارت منہدم ہوگئی۔ حادثے کے وقت وہاں تقریباً 10 سے 15 مزدور موجود تھے۔ تین افراد کو اسپتال پہنچایا گیا، جہاں دو نے دم توڑ دیا، جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آس پاس کی عمارتوں میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، تاہم منہدم عمارت سے متصل ایک دوسری عمارت بھی خطرناک حالت میں ہے۔ تعمیراتی کام کرانے والوں کی شناخت کرلی گئی ہے اور پولیس ان کی تلاش کررہی ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کی شکایات پہلے بھی میونسپل کارپوریشن کی متعلقہ ایجنسیوں کو خط کے ذریعے دی گئی تھیں اور اس سلسلے میں کارروائی بھی جاری تھی، لیکن تعمیراتی کام بند نہیں کرایا جاسکا۔
دہلی کے میئر پرویش واہی نے کہا کہ اس معاملے میں جائیداد کے مالکان کی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے علاقے کی تنگ گلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کئی راستے محض دو سے تین فٹ چوڑے ہیں، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں اور آمدورفت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور مزید کارروائی کی جائے گی۔
سیتارام بازار وارڈ نمبر 78 کی کونسلر رافعہ ماہر نے بھی غیر قانونی تعمیرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ میٹنگ میں ہی اسٹینڈنگ کمیٹی اور میئر کو اس علاقے میں جاری غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں سے آگاہ کردیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ سیاسی سرپرستی میں بلڈروں کی سرگرمیوں کے باعث مقامی لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لیکن بار بار توجہ دلانے کے باوجود متعلقہ حکام نے مؤثر کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
کانگریس نے بی جے پی حکومت کو بنایا نشانہ

چاوڑی بازار حادثے پر دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے بی جے پی حکومت اور دہلی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے جائے حادثہ کا دورہ کرنے کے بعد اس واقعے کو دل دہلا دینے والا حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے زیر تعمیر اور پرانی عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جو حکومت کی لاپروائی اور بدعنوانی کی صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی کی تاریخی عمارتیں غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں، شہریوں کی جان خطرے میں ہے، لیکن بی جے پی حکومت اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر حکومت کب بیدار ہوگی اور ان حادثات کی ذمہ داری کون لے گا؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضے کے ساتھ روزگار فراہم کیا جائے، تاکہ ان کے خاندانوں کی روزی روٹی کا مستقل انتظام ہوسکے۔ زخمیوں کو بھی مناسب معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ گزشتہ عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات میں اعلان کردہ معاوضے کی تفصیلات عام کی جائیں اور بتایا جائے کہ متاثرین کو واقعی امدادی رقم فراہم کی گئی یا نہیں۔
کانگریس صدر نے کہا کہ صرف تحقیقات کا حکم دینا اور جونیئر انجینئر یا اسسٹنٹ انجینئر کو معطل کردینا کافی نہیں ہے۔ حکومت کو غیر قانونی تعمیرات میں ملوث بلڈروں اور مبینہ طور پر سرگرم لینٹر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال کیا کہ کیا دہلی میں ہر ماہ دو سے تین عمارتیں گرتی رہیں گی؟ کیا محض افسران کی معطلی سے شہریوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں؟
دیویندر یادو نے دعویٰ کیا کہ سال 2026 میں اب تک عمارتیں منہدم ہونے کے آٹھ بڑے واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں دو درجن سے زائد افراد کی جانیں گئی ہیں۔ انہوں نے مئی میں سیّدالاجیب، جون اور جولائی میں مکند پور اور کراول نگر، جولائی میں روہنی سیکٹر 16، 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن، 7 اکتوبر کو نیو سیماپوری، 25 اکتوبر کو ملن گارڈن، ہرش وہار اور اب 5 نومبر کو چاوڑی بازار میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت حادثے کے بعد ایف آئی آر اور افسران کی معطلی جیسے رسمی اقدامات کرکے اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ غیر قانونی تعمیرات کے ذمہ داروں کو سزا دلانے کے لیے مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے حادثے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسے حادثات روکنے کے لیے جوابدہی طے کرنا ضروری ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ دیوالی سے قبل چاوڑی بازار جیسے گنجان تجارتی علاقے میں عمارت گرنے سے تاجروں اور مقامی باشندوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ حکومت کو اشتہارات اور تشہیر کے بجائے دہلی کے خستہ حال انفراسٹرکچر، غیر قانونی تعمیرات اور شہریوں کی سلامتی پر توجہ دینی چاہیے۔
