نومبر 4, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

مشی گن میں عبدل السید کی تاریخی جیت، ٹرمپ نے کہا تھا جہادی عبدل

ٹرمپ کے ’جہادی‘ قرار دینے اور مسلم مخالف حملوں کے باوجود ڈیموکریٹ امیدوار نے مائک راجرز کو شکست دی، امریکی سیاست میں نئی تاریخ رقم

واشنگٹن، 4 نومبر: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل الرحمن محمد السید (Abdulrahman Mohamed El-Sayed) نے ریپبلکن امیدوار مائک راجرز کو شکست دے کر تاریخ رقم کردی ہے۔ ان کی کامیابی کے ساتھ وہ امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کی جیت کو امریکی سیاست میں مذہبی تنوع اور نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔

عبد السید نے مشی گن کی سینیٹ نشست پر انتخابی مہم کے دوران سخت سیاسی مخالفت کا سامنا کیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان کی مسلم شناخت کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’جہادی‘ اور مسلم برادرہڈ کا رکن قرار دیا تھا۔ تاہم ان الزامات کے باوجود عبدل السید نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی اور بالآخر ریپبلکن امیدوار مائک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ(ایوان بالا ) میں پہلے مسلم سینیٹر کے طور پر جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کی جیت کا اعلان ڈیسژن ڈیسک ایچ کیو (Decision Desk HQ) نے کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ امریکی سینیٹ میں پہلی مرتبہ کسی مسلمان کو منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ 

ٹرمپ نے عبدل السید کو ’جہادی‘ قرار دیا تھا

عبد السید کی انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان کے خلاف سخت بیان بازی کی تھی۔ 25 اکتوبر کو مشی گن کے پورٹ ہورون میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایک ’جہادی مسلم برادرہڈ کے رکن‘ کو امریکی سینیٹ میں پہنچنے سے روکنے کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

ٹرمپ نے عبدل السید کو دہشت گردوں کا حامی قرار دینے کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ سینیٹ میں منتخب ہوتے ہیں تو انہیں سینیٹ میں داخل ہونے سے قبل میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھی عبدل السید کے خلاف بیان دیا تھا۔

ٹرمپ کے ان بیانات پر مسلم مخالف بیان بازی اور اسلاموفوبیا کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے گئے۔ عبدل السید نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے نام اور مذہب کو سیاسی فائدے کے لیے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

عبدل السید نے عوام کے نام کی اپنی جیت

عبد السید نے اپنی کامیابی کو عوام کی جدوجہد سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جیت عوام کے نام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ انتخاب صرف ایک سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ عام لوگوں، مزدوروں اور ان خاندانوں کی جدوجہد کی نمائندگی کرتا ہے جو بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔

انہوں نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ان کے نام اور عقیدے کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین نے انہیں شکست دینے کے لیے بھاری رقم خرچ کی، اس کے باوجود مشی گن کے عوام نے امید کا انتخاب کیا۔

عبد السید نے اپنے پالیسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور امریکہ کی ترقی کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ان کی کامیابی اس بات کا پیغام ہے کہ امریکہ میں ہر مذہب، نسل اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے جگہ موجود ہے۔

مسلم نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا کامیابی

عبد السید کی کامیابی کو امریکہ میں مسلم کمیونٹی اور نوجوانوں کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ان کی جیت ان نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنے گی جنہوں نے سیاسی بیان بازی میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی گروپوں کو نشانہ بنتے دیکھا ہے۔

واضح رہے کہ عبد السید مشی گن کے سابق صحت عامہ کے عہدیدار اور ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لیا تھا، جبکہ ان کے مقابلے میں ریپبلکن امیدوار مائک راجرز میدان میں تھے۔

امریکی سینیٹ میں پہلے مسلم رکن کے طور پر عبد السید کا انتخاب نہ صرف ان کی سیاسی کامیابی ہے بلکہ امریکی جمہوریت میں مذہبی اور سماجی تنوع کی نمائندگی کے حوالے سے بھی ایک تاریخی واقعہ ہے۔

Related posts

مصطفیٰ مسجد مرادآباد کے معاملے میں بڑی قانونی کامیابی، ایم ڈی اے نے نوٹس واپس لیا

Hamari Duniya News

یکجہتی کی پروقار افطار تقریب : امید، استقامت اور انصاف کا عہد

Hamari Duniya News

مدارسِ دینیہ قرآن و سنت کے محافظ : مولانا محمد مسلم قاسمی

Hamari Duniya News