کاٹھمنڈو، 11 اکتوبر( ہماری دنیا نیوز )۔
نیپال میں ایک بار پھر سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ اتوار کی صبح گورکھا ضلع میں بوڑھی گنڈکی ندی میں اچانک سیلاب آنے سے کئی مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر انتظامیہ نے ندی کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات اور اونچی جگہوں پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔ راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حکام نے ندی کے زیریں علاقوں میں رہنے والوں کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ندی میں طغیانی
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گورکھا ضلع کے چمنوبری گاؤں کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ندی کا بہاؤ متاثر ہوا، جس کے بعد پانی اچانک تیزی سے نیچے کی جانب بڑھا۔ سیلابی پانی اپنے ساتھ کئی مکانات اور پل بہا لے گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، جاگت علاقے میں پانچ سے سات مکانات ندی کے بہاؤ میں بہہ گئے، جبکہ زیریں علاقوں میں بھی مزید مکانات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سیلاب سے رابطہ سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق، سیلاب کی شدت اور نقصان کا مکمل اندازہ لگانے کا کام جاری ہے۔
دو پل تباہ، امدادی کارروائیاں جاری
رپورٹس کے مطابق، سیلابی ریلے میں تقریباً ایک درجن مکانات اور دو معلق پل بہہ گئے، جبکہ ایک پن بجلی منصوبے کے کیمپ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ گورکھا اور دھادنگ اضلاع کو جوڑنے والا ایک شاہراہ پل بھی سیلاب کی زد میں آکر تباہ ہوگیا۔
نیپالی فوج نے جاگت علاقے سے چھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، جبکہ پن بجلی منصوبے میں کام کرنے والے 18 کارکن بھی بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔ فوج اور پولیس کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی صورت حال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ فی الحال حکام نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی ہے۔
کئی اضلاع میں سیلاب کا الرٹ
انتظامیہ نے گورکھا کے علاوہ تنہون، چتوان، مشرقی نول پراسی اور مغربی نول پراسی اضلاع میں ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو خبردار کیا ہے۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ندی کے قریب جانے سے گریز کریں اور پانی کی سطح میں اضافے کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
حکام کے مطابق، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ندی کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے اور پھر پانی کے اچانک نکلنے کا امکان ہے، تاہم سیلاب کی مکمل وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔
اگست کے تباہ کن سیلاب کے بعد ایک اور آفت
نیپال ابھی اگست میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہیں نکل پایا ہے۔ 26 اگست کو بوٹے کوشی اور ترشولی ندیوں کے نظام میں آنے والے سیلاب میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 1,457 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ہزاروں افراد لاپتہ ہیں۔ اس آفت نے مکانات، سڑکوں، پلوں اور پن بجلی منصوبوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔
ایسے میں گورکھا ضلع میں تازہ سیلاب نے ایک بار پھر لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ انتظامیہ کی ترجیح فی الحال متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اور ممکنہ جانی نقصان کو روکنا ہے۔
