اگست 10, 2026
National قومی خبریںTop News

حتمی این آر سی کے چھ سال بعد بھی 3.11 کروڑ شہری شناختی کارڈ سے محروم

آسام این آر سی شناختی کارڈ

جمعیۃ علمائے ہند اور آمسو کی پٹیشن پر مرکز و آسام حکومت نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا، کپل سبل نے این آر سی میں شامل افراد کو شناختی کارڈ جاری نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا

نئی دہلی، 10 اگست 2026 (ہماری دنیا نیوز):
آسام میں حتمی نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے نفاذ اور اس میں شامل شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈ جاری کرنے سے متعلق جمعیۃ علمائے ہند اور آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین (آمسو) کی اہم عرضی پر پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ تاہم مرکز اور آسام حکومت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے باوجود جواب داخل نہ کیے جانے پر عدالت نے معاملے کی سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

یہ سماعت جسٹس ایس ایم نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے ہوئی۔ دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے حکومت کی جانب سے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

مرکز اور ریاستی حکومت نے ابھی تک جواب داخل نہیں کیا

جمعیۃ علمائے ہند کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور آسام حکومت نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں حکومتوں کو اپنا مؤقف اور اعتراضات عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔

کپل سبل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی جانب سے جمعیۃ علمائے ہند کی عرضی پر جواب داخل کیا جاچکا ہے، جس کے جواب میں جمعیۃ علمائے ہند کی جانب سے جلد ری جوائنڈر داخل کیا جائے گا۔

سینئر وکیل نے عدالت کی توجہ اس اہم معاملے کی جانب بھی مبذول کرائی کہ حتمی این آر سی کی اشاعت کے تقریباً چھ سال گزر جانے کے باوجود اس میں شامل افراد کو اب تک نیشنل شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

’شہریت کے مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے زندہ رکھا جا رہا ہے‘: مولانا ارشد مدنی

سپریم کورٹ کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مرکز اور آسام حکومتوں کا نوٹس جاری ہونے کے باوجود جواب داخل نہ کرنا اور حتمی این آر سی کی اشاعت کے چھ سال بعد بھی قانونی عمل مکمل نہ کرنا کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہریت کے حساس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے دانستہ طور پر زندہ رکھا جا رہا ہے۔ مولانا مدنی کے مطابق ماضی میں آسام میں اس مسئلے کو بنیاد بناکر فرقہ وارانہ عناصر مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جس سے سماجی سطح پر کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علمائے ہند نے پنچایت سرٹیفکیٹ، شہریت کے لیے حتمی تاریخ کے تعین اور مدارس سے متعلق مختلف معاملات سمیت ایسے کئی حساس معاملات میں متاثرہ افراد کی قانونی مدد کی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ بی جے پی حکومت امتیاز اور نفرت کی سیاست پر عمل پیرا ہے اور سیاسی فائدے کے لیے شہریت کے مسئلے کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق حتمی این آر سی جاری ہونے کے باوجود شناختی کارڈ کے اجرا میں چھ سال سے تاخیر اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

’این آر سی کا قانونی عمل مکمل کرنا امن و ہم آہنگی کے لیے ضروری‘

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ آسام میں این آر سی کے عمل کو قانون کے مطابق مکمل کرنا ریاست میں امن، سماجی ہم آہنگی، مساوات، اخوت اور قانون کی حکمرانی کے آئینی اصولوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر این آر سی کا عمل مکمل نہیں کیا جاتا تو ایک بڑی آبادی مسلسل غیر یقینی کی صورتحال میں مبتلا رہے گی، جس سے خوف، بداعتمادی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

3.11 کروڑ افراد کو شناختی کارڈ جاری کرنے کا مطالبہ

عرضی میں کہا گیا ہے کہ حتمی این آر سی میں تقریباً 3.3 کروڑ درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد فہرست تیار کی گئی تھی، لیکن حتمی فہرست شائع ہونے کے باوجود حکام نے ابھی تک قانون کے تحت ضروری اگلے اقدامات مکمل نہیں کیے ہیں۔

درخواست گزاروں کے مطابق حتمی این آر سی میں شامل تقریباً 3.11 کروڑ مستحق شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈ جاری کیے جانے چاہئیں، جبکہ این آر سی سے خارج تقریباً 19 لاکھ افراد کو ریجیکشن سلپس یا احکامات جاری کرکے اپیل کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات شہریت (شہریوں کا اندراج اور نیشنل شناختی کارڈز کا اجرا) قواعد، 2003 کے تحت ضروری ہیں۔

’این آر سی کا عمل نامکمل چھوڑنے سے آئینی حقوق متاثر ہو رہے ہیں‘

عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حتمی این آر سی کی اشاعت کے بعد قانونی عمل کو آگے نہ بڑھانا پورے عمل کو نامکمل اور من مانا بناتا ہے اور اس سے آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 میں دیے گئے حقوق کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ این آر سی کو حتمی شکل دینے کے بعد اسے غیر معینہ مدت تک زیر التوا رکھنے سے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کے اندر شہری حیثیت کے حوالے سے غیر یقینی پیدا ہوئی ہے۔

عرضی گزاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آسام این آر سی کا عمل ایک ڈیٹا پر مبنی اور ثبوتوں کی جانچ پر قائم عمل تھا، جسے سپریم کورٹ کی براہ راست نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ اس عمل پر قومی وسائل کے طور پر 1600 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے، اس لیے اسے قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔

حتمی این آر سی میں شامل افراد کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی درخواست

جمعیۃ علمائے ہند اور آمسو نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ حتمی این آر سی میں شامل تمام افراد کو فوری طور پر نیشنل شناختی کارڈ جاری کرنے کی ہدایت دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی این آر سی سے خارج افراد کو ریجیکشن سلپس یا احکامات جاری کرکے انہیں اپیل کا موقع فراہم کیا جائے، تاکہ ضرورت پڑنے پر فارنرز ٹریبونلز کے سامنے قانونی کارروائی مکمل ہوسکے۔

سابق این آر سی کوآرڈینیٹر کی درخواست بھی منسلک

اس معاملے کے ساتھ آسام کے سابق این آر سی کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کی جانب سے دائر درخواست کو بھی منسلک کردیا گیا ہے۔ اس درخواست میں حتمی این آر سی فہرست کی ازسرنو تصدیق (Re-verification) اور فہرست میں موجود مبینہ خامیوں و غلطیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آسام این آر سی کا عمل 2013 سے 2019 تک سپریم کورٹ کی براہ راست نگرانی میں مکمل کیا گیا تھا۔ حتمی این آر سی کا مقصد آسام میں دہائیوں سے چلے آرہے شہریت کے مسئلے کا قانونی اور حتمی حل تلاش کرنا تھا۔ تاہم، حتمی فہرست جاری ہونے کے کئی سال بعد بھی شناختی کارڈ کے اجرا اور خارج افراد کے لیے قانونی اپیل کے عمل سے متعلق معاملات زیر التوا ہیں۔ سپریم کورٹ نے اب معاملے کی سماعت چھ ہفتوں بعد مقرر کی ہے۔

Related posts

امریکہ، اسرائیل کے جارحانہ تیور، بڑے پیمانے پر تباہی، خامنہ ای کی تدفین کا پروگرام ملتوی

Hamari Duniya News

سعودی وزیر خارجہ نے بورڈ آف پیس کے تاسیسی منشور پر دستخط کردیئے

Hamari Duniya News

ادبی دنیا سوگوار:طویل علالت کے بعد شفیق احمد خان کا انتقال

Hamari Duniya News