14.9 C
New York
اکتوبر 11, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

آج سپریم کورٹ کی جانب اپوزیشن کا مارچ، راہل گاندھی کی اپیل ڈریں نہیں’آئین اور جمہوریت بچانے کیلئے آگے آئیں‘

نئی دہلی | 11 اکتوبر (ہماری دنیا نیوز)۔
دہلی میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر سیاسی کشیدگی کے درمیان اپوزیشن جماعتوں نے پیر، 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے عوام، اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور جمہوریت و آئین پر یقین رکھنے والے شہریوں سے اس مارچ میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ ادھر چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی درخواست قبول نہیں کی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا: ڈریے مت، آئین کے تحفظ کے لیے آگے آئیں
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ گزشتہ روز دہلی میں ملک کے نوجوان پُرامن احتجاج کے لیے سڑکوں پر اترے تھے۔ ان کے دلوں میں نفرت یا غصہ نہیں، بلکہ محبت تھی، لیکن ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ وہ ہندوستان نہیں ہے جس کا وہ تصور کرتے ہیں۔
انہوں نے اپیل کی کہ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ کی جانب مارچ میں لوگ پارٹی، جنس، ذات، مذہب اور ریاست کی تفریق سے بالاتر ہوکر ہندوستانی شہریوں کی حیثیت سے شریک ہوں۔ ان کے مطابق نوجوانوں، تمام اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور آئین و جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو اس مارچ میں شامل ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے ملاقات سے کیا انکار
اس احتجاج سے ایک روز قبل چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے اپوزیشن رہنماؤں راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کی ملاقات کی درخواست قبول نہیں کی۔ دونوں رہنماؤں نے پیر کو شام 4 سے 5 بجے کے درمیان ملاقات کے لیے وقت مانگا تھا، تاکہ وہ چیف جسٹس کو میمورنڈم پیش کرکے مبینہ ووٹ چوری، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کو روکنے کے مطالبات سے آگاہ کرسکیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، چیف جسٹس کی جانب سے جواب سرکاری ای میل کے ذریعے بھیجا گیا۔ ذرائع کے مطابق، چیف جسٹس نے اشارہ دیا کہ سیاسی جماعتوں کے وفد سے اس نوعیت کی انتظامی ملاقات کے بجائے متعلقہ معاملے پر قانونی درخواست دائر کی جانی چاہیے، جس پر عدالت سماعت کرکے فیصلہ دے سکتی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور SIR روکنے کا مطالبہ
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور اس سے اہل ووٹروں کے نام متاثر ہوسکتے ہیں۔ اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، SIR کے عمل کو روکنے اور بیلٹ پیپر کے نظام کی طرف واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن ان الزامات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد اہل ووٹروں کے اندراج کو یقینی بنانا اور غیر ضروری یا دوہرے اندراجات کو دور کرنا ہے۔
احتجاج کے بعد اپوزیشن کی نئی حکمت عملی
دہلی میں 10 اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی اور مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہوگیا ہے۔ اپوزیشن کا 12 اکتوبر کا مارچ اسی پس منظر میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ کانگریس نے اس مہم کو ”چلو دہلی، مارچ فار ڈیموکریسی“ کا نام دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مارچ کے لیے کنّاٹ پلیس اور بارہ کھمبا روڈ کے علاقے میں جمع ہونے کا منصوبہ ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی کوشش ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو چیف جسٹس کے سامنے رکھیں، تاہم ملاقات کی درخواست مسترد ہونے کے بعد یہ واضح نہیں ہے کہ وفد براہِ راست چیف جسٹس سے مل سکے گا یا نہیں۔
اب سب کی نظریں 12 اکتوبر کے مارچ پر مرکوز ہیں۔ یہ احتجاج انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور جمہوری اداروں کے کردار پر جاری سیاسی بحث کے درمیان منعقد ہوگا۔

Related posts

ٹی 20 ورلڈ کپ :شبھمن گل کا چھلکا درد،سلیکٹروں کے بارے میں کہہ دی بڑی بات

Hamari Duniya News

امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی شدید مذمت، اقوام متحدہ فوری جنگ بندی اور مداخلت کو یقینی بنائے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

Hamari Duniya News

نیپال میں قیامت خیز سیلاب، ملبے سے تین دن بعد بھی نکل رہی ہیں لاشیں، ہلاکتیں587 تک پہنچ گئیں، دوبارہ سیلاب کا خطرہ

Hamari Duniya News